آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد( طاہر خلیل) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی وزارت عظمیٰ کےلئے نامزدگی کے بعد پڑوسی ملکوں اور عالمی برادری کی طرف سے خیر سگالی کے پیغامات وجذبات کا اظہار واضح کررہا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کی خواہاں ہے۔ سعودی عرب، ایران، چین، امریکہ ، برطانیہ، یورپی یونین، متحدہ عرب امارات اور انڈیا کے سفیروں کی ملاقاتیں، بھارتی وزیر اعظم نریندر ا مودی، افغان صدر اشرف غنی اور ایران کے صدر حسن روحانی کی ٹیلیفونک گفتگو، پاکستان تحریک انصاف کی ممکنہ حکومت اور آئندہ وزیراعظم بننے والے عمران خان کے ساتھ ذاتی روابط بڑھانے کے اس عمل نے امید کی کرن دکھائی ہے کہ عالمی تنہائی کے شکار پاکستان کے اچھے دن آنے والے ہیں۔ جمعہ کو عمران خان سے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کی ملاقات پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں اہم تھی لیکن عمران خان کی جانب سے بھارتی ہائی کمشنر سے پہلی ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کے موقف نے مستقبل میں دونوں ملکوں کے تعلقات کی جہت کو واضح کیا ہے۔ قبل ازیں بھارتی وزیراعظم نے عمران خان کو فون کرکے انہیں جیت پر مبارکباد دی تھی اورکہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کے آغاز کےلئے تیار ہیں۔ عمران خان نے انتخابی

نتائج کے بعد قوم سے خطا ب میں پالیسی بیان دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر بھی اپنا موقف بیان کیا تھا کہ پاکستان کا کشمیر پر موقف ہمیشہ اصولی رہا اور معاملات بات چیت کے ذریعے طے کرنے کےلئے پاکستانی قیادت کی کوششیں ریکارڈ کا حصہ ہیں اوربھارت ہر مرتبہ ایک نیا بہانہ بناکر مذاکرا ت سے راہ فرار اختیارکرتا رہا ہے۔ جس روز(30 جولائی کو)بھارتی وزیراعظم عمران خان کو فون کررہے تھے اسی دن کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے ایک خاتون زخمی ہوئی تھی اورجمعہ کو جس وقت بھارتی ہائی کمشنر خان صاحب سے مل رہے تھے ،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے سرچ آپریشن کی آڑ میں مزید 4 کشمیری نوجوانوں کی شہادت پر کشمیریوں کی آہ و بکا عالمی برادری کے خوابیدہ ضمیر کو جھنجوڑ رہی تھی۔صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے جوسفارت کاری کا ایک وسیع تجربہ رکھتے ہیں حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں کئی اہم ملکوں کے سفارتی نمائندوں سے خاموشی سے ملاقاتیں کی ہیں ان ملاقاتوں میں یہ باور کرایا گیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لئے ریاستی دہشت گردی اور طاقت کا بے جا استعمال کررہاہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں