آپ آف لائن ہیں
جمعہ5؍ ذوالحجہ 1439ھ 17؍اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹ کی رازداری ظاہر کرنے سے متعلق کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی معافی قبول کرتے ہوئے ان کیخلاف نوٹس واپس لے لیا۔ عمران خان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ میڈیا نے میری مرضی یا اجازت کے بغیر تصاویر بنائیں، جان بوجھ کر رازداری ظاہر نہیں کی۔ الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے نوٹس واپس لینے کی رائے دی۔جبکہ چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی چیئرمین کی معافی قبول کرنے کی مخالفت کی تھی۔ فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے عمران خان کے پانچوں حلقوں سے کامیابی کا نوٹیفیکیشن جا ری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان جب اپنا ووٹ کاسٹ کرنے این اے 53 اسلام آباد کے پولنگ اسٹیشن پر گئے تو انہوں نے پولنگ بوتھ کے پیچھے جاکر مہر لگانے کی بجائے میڈیا کے سامنے ہی بیلٹ پیپر پر مہر لگائی جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا تھا۔چیف الیکشن کمشنر

سردار رضا کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے عمران خان کے خلاف ووٹ کی رازدری ظاہر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے مؤکل کا دستخط شدہ معافی نامہ اور بیان حلفی جمع کرایا جس میں الیکشن کمیشن سے نوٹس واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی۔بیان حلفی میں چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا کہ میں تمام رولز پر عمل کرتا ہوا ووٹ ڈالنے اندر اکیلا گیا تھاتاہم رش کے باعث پردے کی اسکرین گرگئی تھی، جب میں نے پولنگ اسٹاف سے پوچھا کہ ووٹ کہاں ڈالوں تو اسٹاف نے کہا کہ ٹیبل پر ہی بیلٹ پیپر رکھ کر کاسٹ کردیں۔جواب میں کہا گیا کہ ٹیبل کے اطراف مہر لگاتے وقت میڈیا اکٹھا تھا ٗمیڈیا نے میری مرضی یا اجازت کے بغیر تصاویر اور فوٹیج بنائی، میں نے جان بوجھ کر ووٹ کی رازداری ظاہر نہیں کی اور اس میں میرا کوئی کردار نہیں تھالہٰذا اپنے اس غیر ارادی اقدام پر الیکشن کمیشن سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان کی جانب سے بیان حلفی اور حلف نامہ دینے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیاجو کچھ دیر بعد سنایا گیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں