آپ آف لائن ہیں
جمعہ5؍ ذوالحجہ 1439ھ 17؍اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


بھارت میں پہلی بار جشن آزادی کے موقعے پر تاریخی عمارت کو سورج غروب ہوتے ہی روشن کیا جارہا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر برائے ثقافت مہیش شرمانے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جشن آزادی پر لال قلعے کی بیرونی دیوار کو شام ساڑھے سات سے رات ساڑھے گیارہ تک ڈھائی ہزار ایل ای ڈی لائٹوں سے روشن کیاجائے گا،ساتھ ہی لال قلعے کے دو اہم دروازے لاہوری گیٹ اور دہلی گیٹ کو بھی روشن کیا جائے گا۔

17 ویں صدی میں مغل دور کی یادگار لال قلعے پر مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ شمعیں روشن کرنے کی تقریب وزیر ثقات کی موجودگی میں آج منعقد کی جائے گی۔

عمارت کے گنبد، مینار، صحن، بالکونی پر پیلے قمقموں کو مختلف سمتوں میں لگایا جائے گا تاکہ مہارت سے تعمیر کی گئی عمارت کے ڈیزائن کو نمایاں کیا جا سکے۔

بھارتی وزیر کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی تمام تاریخی عمارتوں کو روشن کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ اس سے ہمارے آثار قدیمہ کی اہمیت واضح ہوسکے،اس سے نا صرف مقامی لوگوں کو اپنے قومی ورثے پر فخر محسوس ہو گا بلکہ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ان تمام انتظامات کی تکمیل میں دو ماہ کا عرصہ لگا جس پر تقریباً 3 کروڑ کا خرچہ آیا ۔

واضح رہے بھارت کے دریائے جمنا کے نزدیک واقع لال قلعہ مغلیہ سلطنت کے سنہری دور کی یادگا رہے۔ اسے سترویں صدی میں مغل بادشاہ شاہجہان نے تعمیر کرایا تھا۔ اسی قلعے کے دیوان خاص میں تخت طاؤس واقع ہے جہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے۔

قلعے کے دو دروازے ہیں جن میں سے ایک دلی دروازہ جبکہ دوسرا لاہوری دروازہ کہلاتا ہے۔ جب یہ قلعہ تعمیر کیا گیا تھا اس وقت دریائے جمنا اس کی عقب کی دیواروں کو چھوکر گزرتا تھا لیکن اب وہ کچھ فاصلے پر بہتا ہے۔ ہر سال یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم اسی قلعے کی فصیل سے خطاب کرتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں