آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے ساتھ پارٹی پوزیشن جاری کر دی ہے،تحریک انصاف 158 اراکین کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔

الیکشن کمیشن اعلامیے کے مطابق تحریک انصاف نے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 116 جنرل نشستیں جیتیں ، 9 آزادا اراکین پی ٹی آئی میں شامل ہوئے جس کے بعد ان کی تعداد 125 ہو گئی،تاہم5 اقلیتی اور خواتین کی 28 نشستیں ملنے کے بعد نشستوں کی مجموعی تعداد 158 تک پہنچ گئی۔

ن لیگ نے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 64 نشستیں جیتیں لیکن کوئی بھی آزاد رکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہواتاہم انہیں مخصوص اقلیتی2 اور خواتین کی 16 نشستیں ملیں جس کے بعد ان کی تعداد 82 ہو گئی ہے۔

عام انتخابات میں پی پی پی کو42 نشستوں پر کامیابی ملی ، انہیں 2 اقلیتی اور 9 خواتین کی مخصوص نشستیں بھی ملیں، جس کے بعد ان کی53 نشستیں ہوگئیں۔

متحدہ مجلس عمل نے 12 نشستیں جیتیں اور کوئی بھی آزاد رکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہوا،اقلیتی ایک اور خواتین کی 2 نشستیں ملی ہیں جس کے بعد اسمبلی میں ان کے ارکان کی تعداد 15 ہوچکی ہے ۔

ایم کیو ایم پاکستان نے قومی اسمبلی کی 6 نشستیں جیتیں اوران کے ساتھ بھی آزاد رکن شامل نہیں ہوا،انہیں خواتین کی ایک نشست ملی ہے یوں ان کے ارکان اسمبلی کی تعداد 7 ہوگئی ہے ۔

ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی نے قومی اسمبلی کی 4، 4 نشستیں جیتیں لیکن ان دونوں جماعتوں کے ساتھ کوئی بھی آزاد رکن نہ آیا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی قومی اسمبلی کی 3 نشستیں جبکہ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس قومی اسمبلی میں 2 نشستیں جیتیں اوران دونوں پارٹیوں میں بھی کوئی آزاد رکن شامل نہ ہواتاہم عوامی نیشنل پارٹی، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی نے قومی اسمبلی کی ایک، ایک نشست جیتی۔

قومی اسمبلی کی 13 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے جن میں سے 9 تحریک انصاف میں چلے گئے ،4 اپنی آزاد حیثیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ 3 نشستوں پر انتخابات ملتوی ہوئے یا نتائج رکے ہوئے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں