آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی اور عمران خان کے پاکستان کی وزرات عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے امکانات روشن ہونے کے فوراً بعد بھارت کی مودی حکومت نے جس گرمجوشی سے اس کا خیرمقدم کیا، اس نے علاقائی کشیدگی میں جلد کمی اور باہمی تنازعات کے منصفانہ تصفیے کی امیدوں کو دونوں ملکوں میں بڑی تقویت دی ہے۔انتخابی نتائج سامنے آنے پر وزیر اعظم نریندر مودی کے فوری ٹیلی فونک تہنیتی پیغام میں دونوں ملکوں میں دوستانہ تعلقات کے نئے دور کے آغاز کی توقع ظاہر کی گئی تھی جبکہ گزشتہ روز پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ نے عمران خان سے براہ راست ملاقات کرکے نہ صرف بھارتی حکومت کی جانب سے انتخابی کامیابی پر انہیں مبارکباد دی بلکہ اس موقع پر پاک بھارت تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ عمران خان نے تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہئے۔عمران خان نے سارک سربراہ اجلاس کو جلد اسلام آباد میں منعقد کیے جانے کی امید کا اظہار بھی کیا جو یقینا بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے حوالے سے اس کی نیک نیتی

کا ایک قابل اعتماد ثبوت ہوگا۔اس موقع پر بھارتی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کی جانب سے عمران خان سے ٹیلی فونک رابطے نے دو طرفہ تعلقات سے متعلق بھارت میں نئی امید جگائی ہے۔ملاقات کے دوران اجے بساریہ نے بھارتی کرکٹرز کا دستخط شدہ بلا عمران خان کو بطور تحفہ پیش کیا جسے بھارت کی جانب سے پاکستان کی آئندہ حکومت کے ساتھ خوشگوار باہمی تعلقات کے قیام کی خواہش کا ایک علامتی اظہار باور کیا جاسکتا ہے ۔عمران خان کی قیادت میں متوقع طور پر آئندہ چند روز میں ذمہ داریاں سنبھالنے والی پاکستانی حکومت کے لیے بھارت کی موجودہ حکومت کی جانب سے خیرسگالی کے جذبات کا یہ اظہار اس بناء پر بالخصوص امید افزاء ہے کہ عمران خان کی حکومت کے قیام کے بعد بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں میں معاملات کی باگ ڈور ان شخصیات کے ہاتھوں میں ہوگی جو کشمیر اور دیگر باہمی تنازعات میں اپنے اپنے ملکوں کے روایتی سخت گیر موقف کے علم بردار تصور کیے جاتے ہیں۔وزیر اعظم مودی اب تک کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے والے بھارتی سیاسی رہنماؤں کی صف اول میں شامل رہے ہیں جبکہ عمران خان دونوں ملکوں کے درمیان سات دہائیوں سے مستقل کشیدگی کا سبب بنے رہنے والے اس مسئلے کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے پاکستان کے قومی موقف کے پرجوش وکیل ہیں۔لہٰذا کشمیر سمیت تمام باہمی تنازعات کو بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا یہ بہترین وقت ہے کیونکہ مذاکرات کے عمل میں دونوں ملکوں کی موجودہ سیاسی قیادتیں حسب ضرورت کسی متفقہ متبادل حل تک پہنچنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گی جبکہ اعتدال پسندی کی شہرت رکھنے والی قیادتوں کے لیے اپنے اپنے ملکوں میں سخت گیر موقف کے حامیوں کی شدید مخالفت کا خوف لاحق ہونے کی بناء پرکسی متبادل حل کی تلاش ممکن نہیں ہوسکتی۔تاہم اس امر کا یقینی بنایا جانا بہرصورت قطعی ناگزیر ہوگا کہ یہ تنازع کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی حل کیا جائے کیونکہ اگر انہیں مطمئن نہیں کیا جاسکا تو مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہے گا اور حالات میں کوئی عملی تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستانی دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی بھارتی حکمت عملی بھی بلاتاخیر تبدیل ہونی چاہیے اور مذاکرات میں اس معاملے کو بھی پوری اہمیت دے کر جلداز جلد منصفانہ طور پر طے کرلیا جانا چاہیے۔ یہ مسائل حل ہوجائیں تو بھارت اور پاکستان دونوں کو اپنے بھاری بھرکم دفاعی بجٹ میں نمایاں کمی کرکے اپنے عوام کی محرومیاں دور کرنے کے لیے خطیر وسائل میسر آسکتے ہیں اور پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کی راہیں بہت کم وقت میں استوار ہوسکتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں