آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سردست میں آپ کو بتادوں کہ آنے والی حکومت میں پس پردہ کام کرنے والوں میں مجھے شامل کیا گیا ہے۔ پس پردہ کام کرنے والوں کو الگ الگ نوعیت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اصولی طورپر فیصلہ کیاگیا ہے کہ ملک کو چار سے بڑھاکر دس صوبوں میں تقسیم کیا جائے۔ پارٹی میں بھاری بھرکم بھیجا رکھنے والے، جو خود کو تھنک ٹینک کہلوانا پسند کرتے ہیں، ان کا فرمانا ہے کہ ملک کو موجودہ چار صوبوں کے بجائے دس صوبوں میں تقسیم کرنے سے ملک میں ہم آہنگی بڑھے گی۔ بھائی چارے کو تقویت ملے گی۔ لوگ آپس میں شیروشکر ہوجائیں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگوں کو ملازمت کے مواقع ملیں گے۔ ملازمت کے لیے چھ گورنروںکی اسامیاں نکلیں گی۔ چونکیے مت۔ چھ نئے صوبے بنیں گے تو لامحالہ چھ گورنروں کی ضرورت پڑے گی۔ اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ چھوٹا منہ رکھنے والا فقیر اتنی بڑی بات کیسے کہہ گیا ہے؟ اس کی حیثیت ہی کیا ہے؟ یہ شخص پر لے درجے کا جھوٹا ہے۔ اس مرتبہ پھر ہمیں چکر دے رہا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔ میں جھوٹ دیکھتا ہوں۔ میں جھوٹ سنتا ہوں۔ میں جھوٹ بولتا ہوں۔ جھوٹ میری رگ رگ میں سرایت کرگیا ہے۔ میں زندہ اس لیے ہوں کہ جھوٹ بولوں۔ اتنا جھوٹ بولوں کہ لوگ ہر جھوٹ کو سچ سمجھنے کے لیے مجبور ہوجائیں۔ مگر آج میں آپ کو آنے والی حکومت کی اندر کی منصوبہ بندی کی سچی کہانی سنارہا ہوں۔ آپ نے زندگی بھر سچ بولنے والوں کی سنی ہے۔ آج آپ جھوٹ بولنے والے کے منہ سے سچی بات سنیے۔ اور وہ بھی اندر کی بات۔


حکمرانی کے حوالے سے ہمارے حکمرانوں کی سادہ سی مگر ایک جیسی نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اپنے جیسے شعبہ سے واسطہ رکھنے والے لوگوں کو اپنے گرد جمع کرلیتے ہیں۔ اگر حکمراں زمیندار اور جاگیردار ہو، تو وہ زمیندار اور جاگیرداروں کو اپنے گرد جمع کرلیتا ہے۔ اس کے وزیر، مشیر اور صلاح کارزمیندار اور جاگیردار ہوتے ہیں۔ حکمراں اگر پیر سائیں ہو تو پھر وہ اپنے گرد پیری مریدی کے دھندے سے واسطہ رکھنے والے لوگوں کو جمع کرلیتا ہے۔ اس کے وزیر، اس کے مشیر، اس کے صلاح کار پیری مریدی کے پیشے سے واسطہ رکھتے ہیں۔ اگر حکمراں سرمایہ دار ہو، تو پھر وہ اپنے شعبہ سے تعلق رکھنے والے سرمایہ داروں کو اپنے گرد رکھتا ہے۔ اس کے وزیر، اس کے مشیر، اس کے صلاح کار سرمایہ دار ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے اِکا دُکا سرمایہ دار نہ بھی ہو تو وہ بھی دیکھا دیکھی سرمایہ دار بن جاتا ہے۔ اگر حکمران ٹھگ ہو تو پھر وہ اپنے گرد نامور ٹھگوں کا ٹولہ جمع کرلیتا ہے۔ وہ ٹھگ اس کے وزیر بنتے ہیں۔ وہ اسکے مشیر بنتے ہیں۔ وہ اسکے صلاح کار بنتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جیسا حکمراں ویسے اسکی کابینہ کے اراکین، وزیر اور مشیر۔ ہمارے آنے والے حکمراں کھلاڑی ہیں اور وہ بھی کرکٹ کے کھلاڑی ۔ انہوں نے اپنے گرد بہت پرانے ، پرانے اپنے دور کے کھلاڑیوں کو جمع کرلیا ہے۔ مگر ہم سب جانتے ہیں کہ ہم عمران خان کی کیبنٹ میں نہیں ہونگے۔ مگر انہوں نے ہمیں اہم ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ ایک پرانے کرکٹر کو انہوں نے اس کام پر لگادیا ہے کہ وہ قبضہ گروپوں سے کراچی کے کرکٹ گرائونڈ خالی کروائیں اور کرکٹ بحال کروائیں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ مسلم جیم خانہ کے کرکٹ گرائونڈ پر شادی ہال بنے ہوئے ہیں ۔ کرکٹ میچز کی بجائے اب وہاں پر رات دو دو تین تین شادیاں ہوتی ہیں۔ مسلم جیم خانہ کے بازو میں یعنی قریب ، بلکہ ساتھ میں ہندو جیم خانہ ہوتا تھا۔ہندو جیم خانہ کے کرکٹ گرائونڈ پر کراچی پولیس نے قبضہ کرلیا تھا ۔ اب وہاں پولیس کے بدنما فلیٹوں کا جنگل بنا ہوا ہے۔ اسی جنگل میں گورنر ہائوس کے سامنے ایس پی ٹریفک کا دفتر ہے۔ اب عمران خان جانیں اور پرانے کرکٹر جانیں جن کو کراچی کے کرکٹ گرائونڈ بحال کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ ہندو جیم خانہ کی عالیشان پویلین نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پرفارمنگ آرٹس کے استعمال میں ہے۔ وہاں ڈرامہ اور موسیقی کی تربیت دی جاتی ہے۔حالانکہ ہندو جیم خانہ کے عین سامنے کراچی کا آرٹس کونسل بنا ہوا ہے۔ انیس سو ساٹھ میں آرٹس کونسل ڈرامہ ، موسیقی، کوریو گرافی اور پینٹنگ کے فروغ کے لیے بنایا گیا تھا۔ دیکھتے ہیں، عمران خان کراچی کے کرکٹ گرائونڈ قبضہ مافیا کے چنگل سے کیسے چھڑاتے ہیں۔ ڈی جے سائنس کالج اور کامرس کالج کے کرکٹ گرائونڈ پر ٹریفک پولیس کا قبضہ ہے۔


صدر اور گرد و نواح سے غلط پارک کی ہوئی گاڑیاںاٹھاکر ڈی جے سائنس کالج اور کامرس کالج کے کرکٹ گرائونڈ میں لے آتے ہیں اور وہاں ہر صبح سے رات گئے تک مک مکا ہوتا رہتا ہے۔


میرے ذمہ چھ نئے صوبوں اور چھ نئے گورنروں اور چھ نئے وزرائے اعلیٰ کا معاملہ ہے۔چھ نئے صوبے بن رہے ہیں۔ اس کے لیے ملازمت کے بیشمار مواقع آپ کو میسرآئیں گے۔چھ گورنر، چھ وزرائے اعلیٰ کے علاوہ ایک ایک صوبہ کے لیے پچاس پچاس وزیر یعنی چھ نئے صوبوں کے کل ملاکر تین سو وزیر، تین سو مشیر، تیس ہزار سیکورٹی اہلکار، تین ہزار گاڑیاں، ایک ہزار کوٹھیاں، ہزاروں ڈرائیور، اردلی، باورچی اور خانساموں کی ضرورت پڑے گی۔ آپ تیار رہیے گا۔ سب کو میرٹ پر ر کھا جائے گا۔ پھر وہ چاہے نئے صوبے کا گورنر ہو، وزیر اعلیٰ ہو، یا پھر نائب قاصد ہو۔ عمران خان کی حکومت میں ملازمت صرف میرٹ پر ملے گی۔ بس آپ تیار رہیے گا۔ میں نے آپ کو آگاہ کردیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں