آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رات کے ٹھیک ڈھائی بجے اچانک اسلام آباد کے ڈپلومیٹک اینکلیو کی طرف سے ایک موٹر سائیکل سوار نمودار ہوتا ہے۔ اس نے کالا لباس پہن رکھا ہے، اس کے سر پر کالا ہیلمٹ ہے اور اس کا چہرہ ہیلمٹ کے کالے پروٹیکٹو پلاسٹک شیلڈ کے پیچھے چھپا رہتا ہے، اس نے ہاتھوں پر کالے دستانے پہن رکھے ہیں، اس کی بھاری بھرکم موٹر سائیکل بھی کالے رنگ کی ہے۔ کانسٹیٹیوشن ایونیو پر آتے ہی وہ موٹر سائیکل کی اسپیڈ بڑھا دیتا ہے اس کی موٹر سائیکل میں لگے ہوئے دو غیرمعمولی سائلنسروں سے نکلتی ہوئی ڈراؤنی آواز سن کر روڈ کے دونوں اطراف گھنے درختوں کی شاخوں پر سوئے ہوئے پرندے تاریکی میں پھڑپھڑانے لگتے ہیں۔
کانسٹیٹیوشن ایونیو پر ملک میں کھلبلی مچانے والی عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ کے قریب ہی پرائم منسٹر سیکریٹریٹ ہے۔ پرائم منسٹر سیکریٹریٹ اس پلاٹ پر بنا ہوا ہے جو پلاٹ نیشنل آرٹ گیلری اور تھیٹر کے لئے برسوں پہلے مختص کیا گیا تھا اور قانونی طور پر پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کی املاک تھا۔
بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت کے دوران نیشنل آرٹ گیلری اور تھیٹر بنانے کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں، سنگ بنیاد محترمہ نصرت بھٹو کو رکھنا تھا سنگ بنیاد کا پتھر تیار ہوچکا تھا۔ بس، تاریخ کا تعین ہونا تھا کہ قریب ہی بنی ہوئی نیشنل اسمبلی بلڈنگ

میں ایک اجلاس کے دوران اسمبلی میں موجود مولوی ممبران نے بازو میں بننے والی نیشنل آرٹ گیلری اور تھیٹر پر اعتراض کیا اور سخت مخالفت کرتے ہوئے پرفارمنگ آرٹس اور پینٹنگ اور اسکلپچر مجسمہ سازی پر غیر اسلامی ہونے کی چھاپ لگادی۔ فن اور فنکاروں کے بارے میں کہے گئے نازیبا الفاظ اسمبلی کی کارروائی سے حذف کردیئے گئے۔ دبلی پتلی وزیراعظم بینظیر بھٹو سہم گئیں۔ انہوں نے نیشنل آرٹ گیلری اور تھیٹر کے لئے کام شروع ہونے نہیں دیا اور فائل داخل دفتر کردی گئی۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ بینظیر بھٹو کی جگہ میاں نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم بنے۔ داخل دفتر فائلیں ایک ایک کرکے ان کو دکھائی گئیں۔ نیشنل آرٹ گیلری اور تھیٹر کی فائل میں ان کی دلچسپی بڑھ گئی۔ ایک روز وہ افسران کو ساتھ لیکر نیشنل آرٹ گیلری کا پلاٹ دیکھنے نکل پڑے جو کہ نیشنل اسمبلی بلڈنگ اور کیبنٹ ڈویژن کی عمارتوں کے قرب و جوار میں عین کانسٹیٹیوشن ایونیو پر تھا۔ پلاٹ کی لوکیشن میاں نواز شریف کو بھاگئی۔ انہوں نے حکم صادر کیا کہ نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے لئے متبادل پلاٹ کا بندوبست کیا جائے اور نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے پلاٹ پر پرائم منسٹر سیکریٹریٹ بنانے کی تیاری کی جائے۔
اتفاق کی بات ہے کہ کانسٹیٹیوشن ایونیو پر بنی ہوئی عمارتوں میں سب سے زیادہ دیدہ زیب اور خوب صورت عمارت پرائم منسٹر سیکریٹریٹ کی ہے۔ یہ قصہ جو میں آپ کو سنا رہا ہوں مشہور انگریزی فلم نائٹ رائیڈر ریلیز ہونے سے پہلے کا ہے۔ کالی موٹر سائیکل پر سوار اور کالے لباس میں ملبوس پراسرار سوار ہر رات کانسٹیٹیوشن ایونیو سے نہیں گزرتا۔ وہ اماوس کے آس پاس گھپ اندھیری راتوں میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ آندھی کی طرح آتا ہے اور آندھی کی طرح گزر جاتا ہے۔ وہ لمحہ بھر کے لئے پریذیڈنٹ ہاؤس کی طرف دیکھتا ہے اور بگولے کی طرح آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس سے زیادہ پراسرار اور حیران کن بات یہ ہے کہ کانسٹیٹیوشن ایونیو پر نمودار ہوتے ہی سیکورٹی پر مامور کمانڈوز پراسرار موٹر سائیکل سوار پر گولیوں کی بوچھاڑ کردیتے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ پراسرار موٹر سائیکل سوار کو گولی نہیں لگتی۔ اسلام آباد کے پرانے باسیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک غیبی سوار ہے اس لئے اسے گولی نہیں لگتی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ کسی کی آتما ہے، روح ہے۔ اسے اس دنیا میں انصاف نہیں ملا ہے اس لئے وہ روح، وہ آتما بھٹک رہی ہے۔ بھٹکتی ہوئی آتما کسی سے بدلہ لینا چاہتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کانسٹیٹیوشن ایونیو پر ایسا کون شخص رہتا ہے جس سے وہ بھٹکتی ہوئی آتما بدلہ لینا چاہتی ہے؟ کیا کانسٹیٹیوشن ایونیو پر کوئی قاتل رہتا ہے؟ یا قاتلوں کے سرپرستی کرنے والا کوئی شخص رہتا ہے؟ واللہ عالم بالصواب!
اسی طرح کے ایک قصے نے کراچی کے لوگوں کو حیران و پریشان کردیا تھا۔ یہ بہت پرانا قصہ ہے۔ پاکستان بننے سے کچھ پہلے اور بعد میں پاکستان کے ابتدائی برسوں میں اس قصے نے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔
اماوس کی گھپ اندھیری رات میں کالا پل پر سفید ساڑھی میں ملبوس ایک خوبصورت عورت دکھائی دیتی تھی۔ تب کالا پل سے ایک چھوٹی اور عام سی سڑک گزرتی تھی جو گورا قبرستان سے ہوتی ہوئی صدر کی طرف نکل جاتی تھی۔ پل کے آس پاس عمارتیں تو دور کی بات ہے، کوئی آبادی نہیں ہوتی تھی۔ کوئلوں سے چلنے والے ریل گاڑی کے انجن کالا دھواں اڑاتے بھک بھک کرتے پل کے نیچے سے گزرتے تھے اور پل پر مسلسل کالک چھوڑتے جاتے تھے لہٰذا پل کا نام پڑگیا کالا پل۔ پل پر سے گزرتی ہوئی سڑک پر شاذو نادر کوئی کار ، موٹرسائیکل یا سائیکل چلتے ہوئے دکھائی دیتی تھی۔ وہ عورت اماوس کی راتوں میں سڑک کے کنارے کھڑی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ وہ گزرتی ہوئی کار میں سوار ڈرائیور سے لفٹ مانگتی تھی۔ اگر کار میں دوسرے لوگ بھی ہوں تو وہ ایسی کار میں سوار نہیں ہوتی تھی۔ ایک رات کار میں سوار چند اوباشوں نے رات کے وقت سڑک کے قریب عورت کو دیکھ کر گاڑی روکی اور گاڑی سے اتر کر بدنیتی سے عورت کی طرف بڑھنے لگے۔ اس سے پہلے کہ وہ عورت کو چھوتے، عورت نے کالا پل سے چھلانگ لگادی۔ صبح چار اوباشوں کو بیہوشی کی حالت میں سڑک پر پایا گیا۔ ان کی کار کے چاروں ٹائر پنکچر تھے۔
جب کبھی وہ پراسرار عورت اکیلے شخص سے لفٹ مانگتی تھی تب اس کے ساتھ کبھی بھی اگلی سیٹ پر نہیں بیٹھتی تھی۔ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھتی تھی۔ کار سوار کے پوچھنے پر کہ وہ کہاں اترے گی ، وہ جواب میں ایک لفظ کہتی تھی، گورا قبرستان۔ کار جب گورا قبرستان کے قریب رکتی اور ڈرائیور پلٹ کر دیکھتا تو پچھلی سیٹ پر عورت کو غائب دیکھ کر سکتے میں آجاتا تھا اور اسے ذہنی امراض کے ڈاکٹروں سے رجوع کرنا پڑتا تھا اور وہ پھر کبھی رات کے وقت کالا پل سے سفر نہیں کرتا تھا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسی قسم کا قصہ کالا بورڈ ملیر سے بھی وابستہ ہے۔
اس طرح کے قصے کہانیوں میں کچھ مصدقہ نہیں ہوتا۔ سینہ بہ سینہ مشہور ہے کہ کالا پل پر نظر آنے والی روح یا آتما کسی کرسچن یا پارسی لڑکی کی تھی جسے بے دردی سے کالا پل لے جاکر گاڑی تلے کچل کر قتل کردیا گیا تھا۔ گورا قبرستان سے زیادہ دور پارسیوں کا ٹاور آف سائلنس ہے، جہاں مرنے والے کی لاش کنویں پر لگی ہوئی جالی پر رکھی جاتی ہے۔اب جو تازہ ترین غیبی افواہیں کراچی پہنچنے لگی ہیں ان افواہوں نے ہم وہمیوں کو مخمصوں میں ڈال دیا ہے۔ تازہ ترین افواہوں کے مطابق چاندنی رات میں دیر گئے کالی چادر میں لپٹی ہوئی ایک باوقار عورت کو کانسٹیٹیوشن ایونیو پر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ وہ سوچ میں ڈوبی رہتی ہے ۔ سننے والوں نے اسے سرگوشیوں میں کہتے ہوئے سنا ہے But why - But why لیکن کیوں، لیکن کیوں۔ ایوان صدر کے قریب پہنچ کر وہ غائب ہوجاتی ہے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاہ چادر میں لپٹی ہوئی عورت پراسرار سیاہ پوش موٹر سائیکل سوار کی بہن ہے وہ بھی آتما ہے اور انصاف کے لئے بھٹک رہی ہے۔ میں ایک بار پھر آپ کے ذہن نشین کردوں کہ یہ بدی خواہوں کی پھیلائی ہوئی افواہیں ہیں۔ ان افواہوں پر یقین کرنا آپ پر لازم نہیں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں