آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


دنیا ئے موسیقی کے بے تاج بادشاہ اور قوالی کے فن کو نئی جہت دینے والے استاد نصرت فتح علی خاں کو ہم سے جدا ہوئے21 برس بیت گئے لیکن ان کی بنائی ہوئی دھنیں آج بھی لوگوں کے کانوں میں رس گھول رہی ہیں۔

لاکھوں دلوں پر راج کرنے والے نصرت فتح علی خان1948 میں فیصل آباد میں پیدا ہوئے ، آپ کے والد استاد فتح علی خان اور چچا استاد مبارک علی خان اپنے دور کے مشہور قوال تھے۔

نصرت فتح علی خان نے بطور قوال دم مست قلند مست مست سے ملک گیر شہرت حاصل کی اور انہوں نے قوالی کی صنف میں مغربی انداز متعارف کروایا جسے دنیا بھر میں بھرپور پزیرائی حاصل ہوئی ۔

بین الاقوامی سطح پر ان کی شہرت ورلڈ میوزک آرٹ اینڈ ڈانس فیسٹیول سے شروع ہوئی جس کے بعد نصرت فتح علی خان کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔

انہوں نے کئی مشہور شعرا کے لکھے گیت گا کر ان کے کلام کو امر کر دیا جہاں بھارتی فلمیں بھی نصرت کی آواز کے بغیر ادھوری سمجھی جانے لگیں اس کے علاوہ انہوں نے کئی بھارتی فلموں میں گانے کے ساتھ موسیقی بھی ترتیب دی۔

ان کی قوالیوں کے 125 البمز ریلیز ہوئے جس کی وجہ سے ان کا نام گنیز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا۔

ان کے مشہورگیتوں میں اکھیاں اڈیکدیاں، ایس توں ڈاڈا دکھ نہ کوئی، یار نہ بچھڑے ، میری زندگی ہے تو اور دلوں میں اتر جانے والی حمدوہی خدا ہے قابل ذکر ہیں۔

نصرت فتح علی 16 اگست1997 کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے لیکن گلوکاری کے میدان میں شاید ان کا خلاء مدتوں پورا نہ ہوسکے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں