آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مریم شہزاد، کراچی

’’ارے واہ ،جلدی آؤ، دیکھو بھیا، ابو گائے لے کے آئیں ہیں‘‘ ابراہیم نے گیٹ سے ہی سب بہن بھائیوں کو آواز لگائی جہاں ٹرک سے گائے اتر رہی تھی ۔

’’ہائیں! گائے آئ ہے؟ واقعی؟ ‘‘ حمنہ نے خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ پوچھا اور باہر کی طرف دوڑ لگائی ایمن بھی ساتھ ہی ہولی ۔

’’واہ، واہ کیا زبردست گائے ہے‘‘ ابراہیم نے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔

’’کمال کردیا ابو نے تو اس دفعہ‘‘ ایمن نے کہا۔

حمنہ نے ابو کو اندر جاتے دیکھا تو جلدی سے موبائل فون نکالا اور بھیا کو دیتے ہوئے کہا، ’’بھیا، جلدی سے میری ایک اچھی سی تصویر بنا دیں، گائے کے ساتھ، میں فیس بک پر ڈالوں گی‘‘

’’ہا ہا ہا ہا پتا کیسے چلے گا کہ اس میں سے گائے کونسی ہے‘‘ ابراہیم نے حمنہ کو پوز بناتے دیکھ کر کہا ،حمنہ غصے سے اس کی طرف دوڑی تو ایمن نے اس کو روک لیا اور کہا کہ، ’’تم تصویر ڈالو سب کو پتا تو چلے ہمارے گھر کتنی خوبصورت گائے آئی ہے، ہائے، مجھے تو ابھی سے بار بی کیو کے خواب آنے لگے‘‘ ایمن کی بات سن کر ابراہیم نے چڑایا ’’لڑکیاں نہیں کرتی بار بی کیو، وہ تو ہم کریں گے‘‘

’’اچھا، یہ کیا صرف تمہاری گائے ہے‘‘ ایمن غصے سے بولی

’’ہاں تو اور کیا، کیا تم ٹہلاوگی اس کو گلیوں میں، تم چارہ کھلاؤ گی؟ یہ تو ہماری ہے، کیوں بھیا؟‘‘ اس نے بھیا کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی تو انہوں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی، دم ہے ابراہیم کی بات میں‘‘

’’اچھا تو ٹھیک ہے، تم بھی کیا یاد کرو گے، تم لوگ تکہ بوٹی بناتے جانا، ہم آ رام سے کھاتے جائیں گے‘‘ حمنہ نے نوابی سے کہا

’’اوہو، کیا کہنے ہیں ۔آپ کے، تم بناتے جانا ہم کھاتے جائیں گے‘‘ ابراہیم نے حمنہ کی نقل اتاری ’’شکل دیکھی ہے اپنی، یہ منہ اور مسور کی دال، ہُم‘‘ ’’جی نہیں، یہ منہ اور مسور کی دال نہیں، نہاری اور بہاری کباب‘‘ ایمن نے کہا اور چاروں ہنس پڑے

دادا ابو اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ وہ افسردہ سے ہوگئے انہوں نے چاروں کو اپنے پاس بلایا اور کہا ’’آپ لوگوں کی باتیں سن رہا تھا، مجھے بہت افسوس ہوا، آپ کومعلوم ہے قربانی کا اصل مقصد کیا ہے؟‘‘

سب خاموش ایک دوسرے کو دیکھتے رہے

دادا ابو نے ان کو شرمندہ دیکھا تو سمجھایا ’’بقرہ عید تو حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کی پیروی میں مناتے ہیں، اصل مقصد تو الله کو راضی کرنا ہے، قربانی کے جانور کو صرف کھانے پکانے اور بار بی کیو کی نیت سے یا شو مارنے کے لئے نہیں لینا بلکہ قربانی کی حقیقی نیت کے ساتھ قربان کرنا ہے، غریبوں اور رشتہ داروں کا بھی خیال رکھنا ہے اور عید عقیدت اور احترام سے منانی ہے۔ اگر ہماری نیت درست ہوگی تو ہم چاہے تکے بنائیں یا نہاری ہمیں اس کا ثواب ملے گا اور اللہ ہم سے راضی ہو گا۔ بس اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہماری قربانی قبول کرے‘‘۔

تمام بچوں نے ایک آواز میں ’’آمین‘‘ کہا اور وعدہ کیا کہ وہ تکہ بوٹی، کباب کا نہیں سوچیں گے بلکہ الله کی رضا کو مدنظر رکھیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں