آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم منتخب ہونے والے عمران خان کے لیے سب سے بڑا چیلنج حزب اختلاف نہیں بلکہ ان کے ماضی کے بیانات ہوں گے۔


عمران خان کے لیے اپوزیشن کی تنقید سے یا مطالبات سے بڑا چیلنج خود اپنے ماضی کے بیانات سے درپیش ہے،جو وہ مختلف ایشوز پر وقتاً فوقتاً دیتے رہے ہیں، انہی میں سے ایک سانحہ ماڈل ٹاؤن میں قتل ہونے والے 14افراد کے لواحقین کا انصاف دلانا ہے۔

عمران خان پنجاب حکومت پر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے رہے تھے مگر اب پنجاب میں بھی ان کی حکومت ہے اور وفاق میں بھی اور انصاف دلانے میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں۔

اسی طرح پاناما لیکس میں شامل چار سو افراد کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینے پر عمران خان نے نیب کے ساتھ ایف بی آر، ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اب یہ تمام ادارے عمران خان کی حکومت کے ماتحت ہی ہوں گے جن سے ان کا مطالبہ تھا کہ وہ پاناما لیکس میں شامل اداروں کے خلاف کارروائی کریں۔

گزشتہ 10سال سے عمران خان نے مسلسل ن لیگ اور پیپلزپارٹی پر مُک مُکا اور ایک دوسرے کی کرپشن کی پردہ پوشی اور پچھلی حکومت کی کرپشن پر کارروائی نہ کرنے کا بھی الزام لگایا، اب ن لیگ اور اس سے پہلے پیپلزپارٹی کی حکومتوں کا احتسا ب بھی عمران خان کا اپنا طے کردہ چیلنج ہوگا ۔

خیبرپختونخوا کی 5سالہ حکومت میں پی ٹی آئی گزشتہ حکومتوں کی کرپشن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکی تھی،اسی طرح پی ٹی آئی میں شامل علیم خان اور جہانگیر ترین پر زمینوں پر قبضے اور قرضے معاف کرانے کے الزامات پر بھی عمران خان ہمیشہ یہ کہہ کر بات ٹالا کرتے تھے کہ انہیں پکڑنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔

حکومت میں آنے کے بعد یہ سارے مطالبات لوٹ کر عمران خان کے اپنے پاس ہی آگئے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ وزیر اعظم اپنے ماضی کے مطالبات خود پورے کرتے ہیں کہ نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

قومی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید
ویڈیو رپورٹس سے مزید