آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسمبلیوں کے اسپیکرز کے انتخابات ہوچکے ہیں مسلم لیگ (ن) ہر محاذ پر پسپا ہوگئی ۔میرے کالم کے چھپنے تک عمران خان ملک کے وزیراعظم منتخب ہوچکے ہوں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری کی نئی حکمت عملی مسلم لیگ (ن) سے قطعی لاتعلقی نے کام کردکھایا اور دوسری طرف خود مسلم لیگ (ن )کے اپنے ممبران نے بھی پنجاب میں 12ووٹ عمران خان کی نذر کرکے اپنی مسلم لیگی امیدوار کی کامیابی کی رہی سہی امید بھی ختم کردی اور عمران خان کو بہتر موقع فراہم کردیا کہ وہ بآسانی وزیراعظم بننے کا راستہ حاصل کرسکیں یہ سب کچھ کیسے ہورہا ہے یہ مسلم لیگ (ن )یا پاکستان کی سیاست میں کوئی نئی یا انہونی بات نہیں ہے ۔ہمارے ملک کی سیاست میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں جن میں الیکشن میں اُتار چڑھائو وقت ضرورت عام سمجھا جاتا ہے ۔جن میں جے یوآئی کی جماعت سرفہرست اور مشہور ہے جو ایسے ٹانکے لگانے میں بہت ماہر سمجھی جاتی ہے اور اس الیکشن میں بھی وہ پی پی پی کو کہتی رہی کہ خدارا صرف عمران خان کے خلاف محاذ میں اُس کا ساتھ دیں پھر دیکھیں وہ کیا گُل کھلاتے ہیں۔ جس طرح الیکشن 2013ء میں یہی مولانافضل الرحمان مسلم لیگ(ن) کے نوازشریف کو کہتے رہے کہ کے پی میں ان کے ساتھ اتحاد کریں تو وہ عمران خان کی ناکامی کے لئے راہ ہموار کرکے ان کی پارٹی کو کے پی میں حکومت نہیں بنانے دیں گے ۔مگر مسلم لیگ( ن) والوں نے اس جھگڑے میں پڑنے سے انکار کردیا مگر پھر وہ خود مسلم لیگ (ن )کے اتحادی بن کر فائدہ اُٹھاتے رہے اور آخر تک مسلم لیگ (ن) کو مشورہ دیتے رہے کہ موقع اچھا ہے پی ٹی آئی پر حملہ کردو ۔اس الیکشن میں بھی آخری دم تک لگے ہوئے ہیں کہ ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے جبکہ گزشتہ الیکشن 2013میں پی ٹی آئی نے ایسی ہی دھاندلیوں کی نشاندہی کی تھی مگر انہوں نے پی ٹی آئی کا اُس وقت ساتھ نہیں دیا تھا۔ جب میاں نوازشریف کی سیاست کا طویل باب بند ہونے جارہا ہے تو مشترکہ شکست سےدوچار یہ سیاست دان آگ بھجنے سے پہلے شعلہ بن کر بھڑک رہے ہیں اور چاہ رہے ہیں کہ کسی طرح کوئی اُٹھے اور ان کا ساتھ دے۔ مگر دونوں بڑی جماعتیں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن )اُن کاساتھ نہیں دے رہی ہیں ۔مسلم لیگ (ن) کے نئے صدر شہباز شریف کے سامنے اُن کے بھائی اور بھتیجی مریم نواز کی غلطیاں اور ٹکرائو کی پالیسیوں کا نتیجہ آرہا ہے ۔وہ اس لئے خاموش ہیں۔ دوسرا مسلم لیگ (ن) کے ماضی کے لوٹوں کی داستان بھی اُنہیں یاد ہے تو دوسری طرف پی پی پی کے آصف علی زرداری پر نیب نے اپنے ہاتھ سخت کرکے اُنہیں اور اُن کی ہمشیرہ فریال تالپور کی بار بار طلبی شروع کر رکھی ہے ۔اور وہ نہیں چاہتے کہ مسلم لیگ( ن) کے جھگڑے میں اپنی ٹانگ پھنسائیں ۔وہ مسلم لیگ( ن) اور پی ٹی آئی کی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہتے ۔اُ ن کے حق میںیہی بہتر ہے کہ وہ کنارہ کش ہوکر 5سال اپنی پارٹی کو دوبارہ کھڑا کرنے میں صرف کریں اور اسمبلیوں میں اپنی جماعت کو مضبوط کریں ۔ابھی صرف سینٹ ان کے ہاتھ میں ہے وہ بھی ہاتھ سے جاسکتا ہے ۔اب آخر میں عمران خان بطور وزیراعظم پاکستان کی طرف آتاہوں۔ انہوں نے مجبوری سے مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ کو اپنے ساتھ ملایا ہے لیکن اُن کی بدعنوانیوں اور ماضی کے الزامات کو وہ کیسے نظرانداز کریں گے اور اُن کا کیسے دفاع کریں گے۔ وہ پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے اربوں روپے کے بینک اسکینڈل سے کیسےمنہ چھپائیں گے۔ اسی طرح کراچی میں ایم کیو ایم کے اسی دھڑے کے خلاف قتل وغارت گری کے مقدمات کیسے ختم کریں گے۔ جبکہ کراچی والوں نے ایم کیو ایم کو رد کرکے اُن کی پارٹی کو ووٹ دیئے ہیں ۔کیا وجوہات بناکر ایم کیو ایم کو 5سال تک لے کر چلیںگے ۔جبکہ خود ان کی اپنی ہی پارٹی میں چند افراد داخل ہوچکے ہیں ۔جن کا ماضی نیب اور ایف آئی اے کے مقدمات سے بھرا پڑا ہے ۔جو ماضی میں کھل کر دوسری پارٹی میں رہ کر بھر پور کرپشن کرتے رہے ۔ان سب کا ایک ساتھ کیسے دفاع کرسکیں گے ۔اور آخر میں وہ پارٹی کے فیصلے روحانی طاقت کے بل بوتے پر کریں گے یا پھر حالات وواقعات کے مطابق؟ سیاسی اور روحانی ٹکرائو سے کیسے بچیں گے ؟اب ان کے امتحانات کاسلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ مزید خدشات سے کیسے نکلیں گے ۔بازار میں نئے این آر او کی افواہیں بھی گردش کررہی ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں