آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقریب حلف برداری کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھارت سے آئے ہوئے مہمان سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کی انتہائی خوشگوار انداز میں ہونے والی ملاقات اوربات چیت کے دوران پاک آرمی چیف کا سدھو کی اس بات کو خوش دلی سے تسلیم کرناکہ اگلے سال بابا گورونانک کے550ویں جنم دن پر کرتار پورہ کاراستہ کھول دیں گے ایک نہایت خوش آئنداقدام اورپاکستان کی کشادہ دلی کاثبوت ہے۔اس سے وزیراعظم عمران خان کے گزشتہ دنوں دیئے گئے اس بیان کوتقویت ملتی ہے کہ اگر بھارت ہماری طرف دوستی کا ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دوقدم آگے بڑھیں گے۔سدھو نے بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہارکیا کہ اب دونوں ملکوں کے حالات میں بہتری آجائے گی، میں جتنی محبت لے کر یہاں آیاتھا اس سے سو گنا زیادہ لے کر جارہا ہوں۔ یقیناً یہی سوچ دونوں ملکوں کے ڈیڑھ ارب عوام کی ہے۔اس حوصلہ افزاء ملاقات کے ردعمل میں بھارتی میڈیا کی زہرافشانی سے قطع نظر اپنی خوشیوں میں بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کی شرکت دیکھ کر پاکستانی عوام کا سوشل میڈیا پرخوشی کااظہار کرنا اور پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا گلے مل کر اوردیگر اکابر کی طرف سے پرتپاک خیر مقدم پاکستان کابھارت کیلئے نیک خواہشات کاپیغام

ہے۔ماضی میں بھی کئی بار ایسے خوشگوار مواقع دیکھنے کو ملے ہیں جن سے ہر مرتبہ دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی تناؤ کی کیفیت کم کرنے میں مدد ملی۔ لیکن یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ بھارت میں ایسے خوشگوار واقعات پر متعصب میڈیا اور شدت پسند حلقے نہایت منفی ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور سدھو کی پاکستان آمد اور باہمی تعلقات کی بہتری کی خواہش کے اظہار پر بھی بھارت میں یہی کچھ ہورہا ہے۔ سدھو متعصب حلقوں کے حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ یوں یہ حقیقت ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی ہے کہ بھارت کے متعصب فرقہ پرست قائدین اور ان کے پیرو باہمی تنازعات کے منصفانہ حل اور تعلقات کی بحالی میں اصل رکاوٹ ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں