آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کو آسان بنانے کیلئے ہر سال کی طرح اِس بار بھی تمام بڑے شہروں کی انتظامیہ نے مویشی منڈیوں کیلئے جگہیں مختص کی ہیں ، جہاں جا کر شہری جانوروں کی خریداری کر سکتے ہیں۔ انتظامی لحاظ سے یہ ایک احسن اقدام ہے، جس کا مقصد شہرکے رہائشی اور کاروباری علاقوں کو صاف ستھرا رکھنا ہے۔علاوہ ازیں دور دراز کے علاقوں سے لائے گئے جانوروں کو مویشی منڈیوں میں حفاظتی ٹیکے لگانے کا بھی مکمل بند و بست کیا جاتا ہے تاکہ دوسرے جانوروں اور انسانوں میں کسی بھی قسم کی بیماری پھیلنے کا کوئی خطرہ نہ رہے۔انتظامیہ کے بقول اِن مویشی منڈیوں میں اُن کی طرف سے فری داخلہ پارکنگ، پانی ، خیمے، روشنی، بیت الخلاء اور دیگر ضروری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔اس کے باوجود بیوپاری شہروں کے رہائشی اور کاروباری علاقوں میں چھوٹے اور بڑے جانور فروخت کرتے نظر آتے ہیں جس سے اِن علاقوں اور بڑی شاہراہوں پر جانوروں کی خریدو فروخت سے ٹریفک کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں اور سڑکوں اور گلیوں میں گندگی بھی پھیل رہی ہے۔ رہائشی علاقوں میں جانوروں کی خریدو فروخت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ حفاظتی ٹیکے نہ لگنے کی وجہ سے یہ جانور بیماریاں پھیلانے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔دوسری طرف بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ مویشی منڈیاں بجلی اور پانی جیسی سہولتوں سے محروم ہیں۔ کئی منڈیوں میں مبینہ طور پر بیوپاریوں سے بکرے کا 100روپے اور بڑے جانور کا 500سے لے کر 1000روپے تک بھتہ وصول کیا جا رہا ہے۔اِس صورت حال کے پیش نظر شہری انتظامیہ کی طرف سے غیر قانونی مویشی منڈیوں کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہر سال عید الاضحی سے قبل ہی شہروں سے باہر تمام بنیادی سہولتوں کے ساتھ مویشی منڈیاں بنا دی جائیں تاکہ شہروں میں جانوروں کی خریدوفروخت کا کوئی جواز باقی نہ رہے اور ہائشی اور کاروباری علاقوں میں زندگی معمول کے مطابق چلتی ہے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں