آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں پاکستان کا 71واں یوم آزادی ملک بھر میں بڑے جوش و خروش سے منایا گیا، لوگوں نے اپنے گھروں اور عمارتوں کو قدآور قومی پرچموں، رنگ برنگے قمقموں اور جھنڈیوں سے سجارکھا تھا جبکہ کوئی کار، موٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ ایسی نہیں تھی جس پر قومی پرچم نہ لہرائے گئے ہوں۔ جشن آزادی نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ، کینیڈا، یورپ اور خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں نے بھی انتہائی جوش و خروش سے منایا۔ کراچی میں لوگوں نے یوم آزادی کی مناسبت سے ملی نغموں کے پروگرامز بھی رکھے تھے جس میں مرد و خواتین اور بچوں نے قومی پرچم کے رنگوں کے لباس پہنے تھے۔ اسی طرح کی ایک تقریب کا انعقاد مقامی این جی او ’’وائس آف کراچی‘‘ کے عبدالباسط مونڈیا نے 13اگست کی رات کیا تھا جس میں کراچی میں متعین امریکہ، روس، چین، برطانیہ، جرمنی، ترکی، انڈونیشیا، اومان، قطر، افغانستان اور دیگر ممالک کے قونصل جنرلز، سابق صوبائی وزیر ناصر علی شاہ، بزنس کمیونٹی کے لیڈرز اور شہر کی معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں شریک غیر ملکی قونصل جنرلز اور دیگر مہمان پاکستان کے قومی پرچم کے رنگوں کے لباس میں ملبوس تھے۔ اس موقع پر میں نے اپنی تقریر میں شرکاکو بتایا کہ پاکستان لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے، اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور یہ دھرتی ماں ہمیں اپنی ماں کی طرح عزیز ہے جسے ہم کسی حال میں نہیں چھوڑ سکتے۔

اگلے روز 14اگست کی صبح ساڑھے آٹھ بجے کمشنر کراچی نے مزار قائد پر جشن آزادی کے سلسلے میں پرچم کشائی کی پروقار تقریب کا انعقاد کیا جس میں قائم مقام گورنر اور اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی اور نگراں وزیراعلیٰ فضل الرحمٰن نے اپنی کابینہ کے ہمراہ شرکت کی۔ مجھے بھی اس تقریب میں یمن کے اعزازی قونصل جنرل اور قونصلر کارپس سندھ کے ڈین کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب میں میرے ساتھ امریکہ، روس، چین، برطانیہ، جرمنی، ترکی، انڈونیشیا، اومان، قطر اور افغانستان کے قونصل جنرلز بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ تقریب میں تینوں مسلح افواج کے اعلیٰ حکام، فوجی بینڈز، مذہبی اسکالرز، سول سوسائٹی کی اہم شخصیات، اسکولوں اور کالجوں کے طلباو طالبات بھی بڑی تعداد میں شریک تھے جو ملی نغمات سے دلوں کو گرما رہے تھے۔ تقریب میں کراچی میں سوئٹزرلینڈ کے سابق قونصل جنرل ایمل وائس اور ان کی اہلیہ پاکستانی لباس میں شریک تھیں جو خاص طور پر سوئٹزرلینڈ سے جشن آزادی کی تقریب میں شرکت کیلئے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی آئے تھے۔ اس موقع پر پاکستان کے قومی ترانے کیساتھ مزار قائد پر پرچم کشائی کی گئی جسکے بعد گورنر، وزیراعلیٰ، سندھ کابینہ، کمشنر کراچی اور اعلیٰ فوجی حکام نے ہمارے ساتھ مزار قائد پر فاتحہ خوانی کی اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات تحریر کئے۔ تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ اور گورنر سندھ نے تقریب میں شریک غیر ملکی قونصل جنرلز سے فرداً فرداً ملاقات کرکے مبارکباد وصول کی۔ مزار قائد کی تقریب میں شرکت کے بعد میں نے بلدیہ کراچی کی جانب سے پرچم کشائی اور کراچی میں جشن آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں مہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی۔ میرے ساتھ اسٹیج پر میئر کراچی وسیم اختر، کے ایم سی کے میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن اور ضلعی چیئرمین کے علاوہ بلدیہ کراچی کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ پرچم کشائی کے بعد شرکاسے خطاب کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ بلدیہ کراچی دنیا کی تیسری بڑی میونسپل کارپوریشن ہے جس کا کام کراچی کے لوگوں کو شہری سہولتیں فراہم کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے اس شہر کے باسی بنیادی سہولتوں سے اب تک محروم ہیں۔ تقریب سے میئر کراچی وسیم اختر اور میونسپل کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمٰن نے بھی خطاب کیا اور بتایا کہ اس سال جشن آزادی کے سلسلے میں بلدیہ عظمیٰ کراچی نے جشن آزادی کے روز رات گئے تک مختلف سماجی و ثقافتی تقریبات ترتیب دیئے ہیں جس میں ’’آزادی مشاعرہ‘‘ بھی شامل ہے۔

قارئین! پاکستان کے 71 ویں یوم آزادی کے موقع پر آج میں پاکستان کی ترقی کا جائزہ پیش کرنا چاہوں گا کہ ہم نے اس عرصے میں کیا کھویا کیا پایا۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جس کا شمار دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ ملک کی آبادی کا تقریباً 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پاکستانی محنت کشوں کی خدمات کو دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے اور خلیجی ممالک کا جدید انفرااسٹرکچر انہی پاکستانی محنت کشوں کے مرہون منت ہے۔ پاکستانی پروفیشنلز، ڈاکٹرز، بینکرز اور محنت کشوں نے دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے جو وطن عزیز کو ہر سال تقریباً 20 ارب ڈالر کی خطیر ترسیلات زر بھیج رہے ہیں۔ زیرو سے شروع کرنے والے اس سفر سے پاکستان آج دنیا کی 46 ویں بڑی معیشت ہے۔ اسلامی دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت پاکستان کے پاس انتہائی تربیت یافتہ اور جدید اسلحے سے لیس دنیا کی پانچویں بڑی فوج ہے جبکہ جیٹ فائٹر، آبدوزیں، میزائل اور دیگر جنگی ساز و سامان نہ صرف ملکی ضروریات کے مطابق تیار کئے جارہے ہیں بلکہ انہیں ایکسپورٹ کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جارہا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت حکومت چلانے کیلئے اخراجات 80 کروڑ روپے اور آمدنی صرف 45کروڑ روپے تھی اور فنڈز کی کمی کو پورا کرنے کیلئے محب وطن مخیر حضرات سے مدد لی جاتی تھی مگر آج پاکستان کے ریونیو 4000 ارب روپے سے زائد ہیں۔ 1947ء میں ایک ہزار افراد کیلئے صرف ایک گاڑی دستیاب تھی لیکن آج اتنے ہی افراد کیلئے 52گاڑیاں دستیاب ہیں جبکہ پاکستان آلودگی سے پاک سی این جی سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ آزادی کے بعد صرف 4 ہزار افراد کو ٹیلیفون کی سہولت دستیاب تھیں اور ٹیلیفون کنکشن کیلئے طویل عرصہ درکار ہوتا تھا لیکن آج 10 کروڑ سے زائد افراد کو فون کی سہولت دستیاب ہے اور پاکستان موبائل فون کے استعمال میں دنیا کا نواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت عوام ٹیلیویژن نشریات دیکھنے سے محروم تھے لیکن آج ملک میں 100 سے زائد مقامی اور بین الاقوامی چینلز ہر گھر میں دستیاب ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو معدنی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ جیولوجیکل سروے کے مطابق ملک میں 6لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے میں معدنی ذخائر موجود ہیں جن میںسے کوئلے، تانبے، سونے، قدرتی گیس، تیل، ماربل، قیمتی پتھر، گرنائیڈ، نمک اور چونے کے ذخائر قابل ذکر ہیں۔ بلوچستان کے علاقے ریکوڈیک میں دنیا کے پانچویں بڑے تانبے کے 22ارب پائونڈ اور سونے کے 13 ملین اونس کے ذخائر پائے جاتے ہیں جن کی مجموعی مالیت 500 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان میں تھر اور لاکھڑا کے مقام پر دنیا کے تیسرے بڑے کوئلے کے 185 ارب ٹن کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ سندھ میں تھر کے مقام پر 90 فٹ گہرے کوئلے کے ذخائر وہ زیر زمین کالا سونا ہے جس کے ذخائر سعودی عرب اور ایران کے تیل کے مجموعی ذخائر سے زیادہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں قدرتی گیس کے ذخائر عطا کئے ہیں اور اس وقت ہم 40 ارب کیوبک فٹ قدرتی گیس اپنے صنعتی، کمرشل اور گھریلو صارفین کو گیس پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کررہے ہیں جو ہماری مجموعی توانائی کا 50 فیصد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو چاروں موسم عطا کئے ہیں اور ملک میں دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی نظام پایا جاتا ہے۔ ہماری زمین زرخیز ہے اور آج ہم 20 کروڑ عوام کو کھانے کیلئے چاول، گیہوں، چینی فراہم کرنے کے بعد یہ اجناس دنیا میں ایکسپورٹ بھی کررہے ہیں۔ پاکستان دنیا بھر میں کینو کی پیداوار میں پہلے، چنے کی پیداوار میں دوسرے، کپاس، چاول، کھجور اور خوبانی کی پیداوار میں چوتھا بڑا ملک ہے۔ اسی طرح پاکستان مچھلی، دودھ اور گنے کی پیداوار میں پانچویں، گندم کی پیداوار میں چھٹے، خشک میوہ جات، پیاز اور آم کی پیداوار میں ساتویں، قیمتی پتھروں اور سنگ مرمر کی پیداوار میں آٹھویں، چینی اور حلال گوشت کی پیداوار میں نویں جبکہ سیمنٹ اور چاول کی پیداوار میں بارہویں نمبر پر ہے۔اقوام متحدہ کی فوڈ اور ایگری کلچر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ گھی پیدا کرنے والا ملک ہے جبکہ ملک میں دنیا کے سب سے بڑے نمک کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ پاکستان دنیا میں معدنی ذخائر رکھنے والا امیر ترین لیکن اسے استعمال کرنے میں غریب ترین ملک ہے۔ ملک میں دنیا کے کوئلے کے چوتھے بڑے جبکہ سونے (100 ارب ڈالر) اور تانبے (27 ارب ڈالر) کے پانچویں بڑے ذخائر موجود ہیں لیکن چھ دہائیاں گزرنے کے باوجود بدقسمتی سے ہم ان قدرتی نعمتوں کو زمین سے نکال کر فائدہ نہیں اٹھاسکے۔

پاکستان کی ترقی بتاتے ہوئے ان وجوہات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا جن سے ہماری معاشی ترقی کو نقصان پہنچا اور ہم خطے کے دوسرے ممالک کی طرح ترقی نہیں کرسکے۔ ان وجوہات میں قیام پاکستان کے بعد جاگیرانہ اور وڈیرانہ نظام کا جاری رہنا، صنعتوں اور اداروں کو سرکاری تحویل (نیشنلائزیشن) میں لینا، ایٹمی دھماکے کے بعد غیر ملکی کرنسی اکائونٹس منجمد کرنا، طویل عرصے تک آمروں کی حکمرانی اور پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینا شامل ہیں، اس کے باوجود ہمیں اپنے ملک کی ترقی کے سفر پر فخر کرنا چاہئے۔ آیئے آج ہم تجدید عہد وفا کریں کہ بابائے قوم کے ملک کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کریں گے جس کیلئے ہمیں قائداعظم کے سنہری اصولوں اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کو اپنانا ہوگا بصورت دیگر آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں