آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر قومی اسمبلی میں جوکچھ ہوا ، اس پر نہ صرف افسوس کیا جاسکتا ہے بلکہ اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی مستقبل کی سیاست کا رخ کیا ہو گا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے عمران خان کے وزیر اعظم منتخب ہونے پر احتجاج کا جو طریقہ اختیار کیا ، وہ منتخب ایوانوں میں احتجاج کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔ عمران خان کے مدمقابل وزارت عظمی کے امیدوار اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں خطاب بھی متاثر کن نہیں تھا ۔ جواب میں حکمراں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے جوکچھ کیا ، اسے بھی جمہوری روایات کے مطابق قرار نہیں دیا جا سکتا نومنتخب وزیر اعظم عمران خان نے جو تقریر کی ، وہ بھی ایک ایسے نو منتخب وزیر اعظم کی تقریر نہیں لگ رہی تھی ، جو غیر معمولی انداز میں اس منصب تک پہنچا ہو ۔ 17اگست 2018 ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران دنیا کو اگر کسی چیز نے متاثر کیا تو وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریر تھی ۔ اس دن قومی اسمبلی کی کارروائی نے پاکستان کی آئندہ کی سیاست کا رخ بہت حد تک متعین کر دیا ہے تاوقتیکہ سیاسی قیادت اسے کسی اور سمت پر ڈالنے کیلئے شعوری کوشش نہ کرے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے عمران خان کے وزیر اعظم بننے پر اس دن جو احتجاج کیا ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ منتخب ایوانوں میں بھی تصادم کی سیاست کرنا چاہتےہیں۔ اگرچہ احتجاج اپوزیشن کاحق ہے لیکن منتخب ایوانوں میں احتجاج کا ایک دائرہ کار ہوتا ہے ۔ اپوزیشن کا شور شرابہ اور چیخنا چلانا جمہوری ایوانوں کا حسن ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے جس طرح نو منتخب وزیر اعظم کا گھیراؤکرنے کی کوشش کی ، یہ جمہوری احتجاج کا پسندیدہ طریقہ نہیںہے ۔ اسکے ردعمل میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے بھی جو طریقہ اختیار کیا ، وہ حکمراں جماعت یا سرکاری بینچوں کے روایتی طرز عمل کے برعکس تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا ، جیسے تحریک انصاف کے ارکان اب تک اپنے آپ کو اپوزیشن میں تصور کر رہے ہیں ۔ دونوں طرف سے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی وجہ سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اجلاس 15منٹ کیلئے ملتوی کرنا پڑا ۔ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ مستقبل میں اس طرح بدنظمی رہی تو قومی اسمبلی کی کارروائی چلانا آسان نہیں ہو گا۔

یہ ٹھیک ہے کہ25جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) سے اور سندھ کے دارالحکومت کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) پاکستان سے نشستیں چھینی ہیں ۔ یہ انتخابات گزشتہ انتخابات سے صرف اسی بنیاد پر مختلف تھے ۔ ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کی حکومت میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس تحریک انصاف کی مخالفت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے لیکن مسلم لیگ (ن) نے مخالفت کا جو انداز اپنایا ہے ، وہ بالکل وہی انداز ہے ، جو ماضی میں عمران خان نے اپنایا تھا ۔ میاں شہباز شریف سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اس صورتحال میں سیاسی بالیدگی اور پختگی کا مظاہرہ کرینگے ۔ وہ قومی اسمبلی سے خطاب میں اپنا سیاسی وژن دینگے ، ملک کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرینگے اور یہ بتائیں گے کہ انتخابی دھاندلی کیخلاف جدوجہد کیساتھ مسلم لیگ (ن) مسائل کے حل کیلئے کیا کردار ادا کریگی لیکن میاں شہباز شریف کی تقریر صرف ایک نکتے پر مرکوز تھی کہ انتخابات میں دھاندلی کرنیوالے کرداروں کو بے نقاب کرنے تک اس ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دی جائیگی ۔ انہوں نے احتجاج اور تصادم کی سیاست کا عندیہ دیا ہے ۔ ماضی میں مسلم لیگ (ن) جب حکومت میںتھی تو اس کی قیادت کا یہ موقف ہوتا تھا کہ عمران خان کے احتجاج اور دھرنوں کی وجہ سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوئی ۔ پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک ) کے منصوبوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور مجموعی طور پر پاکستان کو معیشت کے شعبے میں بہت زیادہ نقصان ہوا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلم لیگ (ن) بھی تحریک انصاف کی طرح احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی اور کیا وہ تحریک انصاف کی طرح احتجاج کر سکے گی ؟ نومنتخب وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو درپیش داخلی اور خارجی چینلجز کا معروضی تجزیہ پیش کریں گے ، وہ یہ بتائیں گے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ، انہیں وہ کس طرح دیکھتے ہیں ۔ وہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی کا اعلان کرینگے۔ بدلتے ہوئے حالات میں پاکستان کی پوزیشن واضح کریں گے۔ اپنی حکومت کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کے بنیادی نکات سے آگاہ کرینگے اور حکومت کے 100دن کے ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے کا روڈ میپ دیں گے ۔ ان سے یہ بھی توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ جمہوری تعلقات کار ( ڈیمو کریٹک ورکنگ ریلیشن شپ ) کے معاملے پر بھی بات کریں گے لیکن ان کے خطاب میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ نو منتخب وزیر اعظم کے خطاب سے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اب بھی اپوزیشن لیڈر ہیں ۔ انکے خطاب کابنیادی نکتہ وہی تھا ، جس کو وہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بار بار اپنی تقریروں میں دہراتے رہے یعنی ’’ کسی ڈاکو کو نہیں چھوڑوں گا اور پاکستان کا پیسہ چوری کرکے باہر لے جانے والے ایک ایک آدمی کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کروں گا ۔ ‘‘ عمران خان صاحب یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان میں احتساب کی تاریخ 1947 ء سے شروع ہوتی ہے ۔ ایبڈو اور پروڈا جیسے قوانین سے لیکر موجودہ احتساب آرڈی ننس اور آئین کے آرٹیکل 62 اور 63تک ہر قانون کے تحت سیاست دانوں کا احتساب ہوا ہے اور صرف سیاست دانوں تک محدود رہا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اس احتساب کا دائرہ وسیع کرتے ہیں یا نہیں یا پھر ان کا احتساب بھی پرانے ایجنڈے تک محدود رہتا ہے ۔ یہ ان کیلئے کڑا امتحان ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کو احتجاج کا چیلنج بھی اپنی تقریر میں دیدیا ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن سے کسی قسم کے تعاون کی اپیل نہیں کی بلکہ یہ کہا ہے کہ وہ احتجاج کیلئے اپوزیشن کوکنٹینر ، کھانا اور کارکن بھی مہیا کرینگے ۔ نو منتخب وزیر اعظم کویقیناً اس بات کا بھی احساس ہو گا کہ قومی اسمبلی کے 342کے ایوان میں انہوں نے 176ووٹ حاصل کئے ہیں ، جو سادہ اکثریت سے صرف چار ووٹ زیادہ ہیں ۔ انکی حکومت کا انحصار صرف ایم کیوایم پر ہے ۔ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاسی کیمیا کے پیچیدہ عوام کا ادراک ہو گا ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے پہلاخطاب انتہائی متاثر کن تھا ،جسے خود نو منتخب وزیر اعظم عمران خان نے بھی سراہا ۔ یہ خطاب ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کے معیار کے مطابق بھی تھا اور اس اس امر کی دلیل دیتا تھاکہ بلاول بھٹو زرداری اس سیاسی خانوادے (Dynasty) کے حقیقی وارث ہیں ، جو ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا خانوادہ ہے ۔ بلاول کے خطاب میں اپنے نانا اور اپنی ماں کی جھلک نظر آئی ۔ انہوں نے وہ ساری باتیں کیں ، جو اپوزیشن لیڈر کو کرنا چاہئیں لیکن ان کابیانیہ سیاسی تھا۔ انہوںنے احتجاج کی اپنی سیاسی حکمت عملی بھی دی لیکن یہ حکمت عملی تاریخ کے تجربات کی روشنی میں مرتب کردہ تھی ۔ بلاول بھٹو زرداری نے بین السطوریہ بتا دیا کہ 25جولائی 2018ء کے عام انتخابات کو وہ بھی تسلیم نہیں کرتے لیکن یہ پہلے انتخابات نہیں ، جن میں دھاندلی ہوئی ہو ۔ جمہوری جدوجہد کے ذریعہ جمہوریت بحال ہوئی اور انتخابات میں دھاندلی کے خلاف جدوجہد بھی جمہوری جدوجہد کا تسلسل ہے تاکہ حقیقی جمہوریت قائم ہو ۔ ایوانوں میں اچھل کود اور ہلڑ بازی مناسب نہیں ۔ بلاول بھٹو زرداری کاکہنا تھاکہ اس دن قومی اسمبلی میں دو بڑی جماعتوں نے جو کچھ کیا ، اس سے قوم مایوس ہوئی ۔ انہوںنے عمران خان کو ’’ سلیکٹ وزیر اعظم ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا لیکن یہ بھی باور کرایا کہ وہ وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے وعدے پورے کریں ۔ انہوں نے عمران خان کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ نفرت کی سیاست سے گریز کریں

17 اگست 2018ء کو قومی اسمبلی کے اجلاس نے سیاست کا رخ متعین کر دیا ہے ، جس کے بارے میں بلاول بھٹو نے بھی متنبہ کیا ہے ۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے انتہائی بحرانی مرحلے سے گزر رہا ہے ۔ قومی سیاسی قیادت کو تدبر اور حوصلے سے کام لینا ہو گا ۔ تصادم کی سیاست ملک کیلئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں