آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک چھوٹی سی لیکن گہری بات ہے ،میں ایک دوست سے وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بارے میں ڈسکس کررہا تھا کہ اس نے کہاکہ ایک بار میں اپنی فیملی کے ساتھ سینما میں ایک انگلش مووی دیکھنے گیا میرے ساتھ میرا پانچ سالہ بیٹا بھی تھا۔فلم کے شروع ہونے سے پہلے جب قومی ترانہ بجا تو پورا سینما قومی ترانے کے احترام میں کھڑا ہوگیا۔میرا بیٹا کہنے لگا کہ یہ فلم سے پہلے قومی ترانہ کیوں بجایاگیاہے اورآپ سب لوگ کیوں کھڑے ہوگئے ۔میں نے کہا کہ ہمارا قومی ترانہ ہے اس کے احترام میں کھڑا ہونا ضروری ہے ۔ میرا بیٹا مطمئن ہوگیا ۔گزشتہ رات نومنتخب وزیراعظم عمران خان کے خطاب سے پہلے اور بعد میں بھی قومی ترانہ بجایاگیا ہم سب گھر والے صوفے پربراجمان تھے ۔ہمیں تقریر کا شدت سے انتظارتھا ۔اس لیے اور کسی جانب دھیان نہیں جارہا تھا ۔لیکن میں نے محسوس کیا کہ قومی ترانہ کے دوران میرا بیٹا کھڑا ہوگیا اور جب ترانہ ختم ہوا تو اس نے ہم سب گھروالوں کی جان عذاب کردی کہ آپ لوگ ترانہ سن کر با ادب کھڑے کیوںنہ ہوئے۔ہم نے اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم لوگ دھیان نہیں دے سکے یا گھر میں رہ کر ضروری نہیں ترانے کے احترام میں کھڑا ہواجائے لیکن میرا بیٹا ہمارے ہی کہے ہوئے وہ الفاظ دُہرا رہا تھا جو ہم نے سینما میں مووی سے پہلے قومی ترانے کے احترام کے حوالے سے کہے تھے۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنے بیٹے سے معافی مانگ کر اسے راضی کیا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا۔اور اسے یقین دلایا کہ آئندہ جب بھی قومی ترانے کی آواز آئے گی اس کے احترام میں ضرور کھڑے ہونگے۔وزیراعظم کی تقریر بھی مجھے قومی ترانے کے الفاظ کی طرح لگی ۔جس میں عمران خان نے پوری قوم کو بتایا کہ کس طرح ملک کے لیے کھڑا ہونا ہے۔ لیکن مجھے اپنے دوست کے بیٹے کی قومی ترانے کے حوالے سے باتیں سن کر یہ احساس ہوا کہ اگر وزیراعظم نے اپنی تقریر کے کسی بھی حصے سے پہلوتہی کی تو وہ قوم جو عمران خان کے لیے کھڑی ہوگئی ہے پھر وہ چھوڑے گی نہیں۔اگر تقریر کے مندرجات پر غورکیاجائے تواس میں بہت سارے پہلو مسنگ تھے۔ہاں یہ حقیقت ہے کہ ایک تقریر میں سارے مسائل اور ان کے حل یا وہ سارے پہلو اجاگر نہیں کئے جاسکتے جو بائیس کروڑ کی عوام کو درپیش ہیں۔ لیکن چونکہ پاکستان کا ہر طبقہ اس تقریر میں اپنے اپنے مسائل کے حل کی راہ تک رہا تھا ۔اس لیے ان طبقوں کو تو اچھا لگا جن کاذکر ہوا لیکن ان لوگوں کو مایوسی ہوئی جن کا ذکر نہ ہوسکا۔ قوم سے خطاب کے سارے پہلو خوش کن تھے۔مثلا یہ بات بہت اچھی لگی جس میں وزیراعظم نے سول سروس کے لوگوں کو کہاکہ وہ سیاسی وابستگی یا پسند جو چاہیے رکھیں لیکن اپنے فرائض منصبی مثبت انداز میںاپنائیں۔ میرا خیال ہے ملک کی ترقی کی کشتی کے اصل ملاح سول سرونٹس ہیں۔ ورنہ پالیسی کچھ بھی بنالیں جب تک اس کی اصل سپرٹ کے مطابق عمل درآمد نہیں ہوگا ۔وہ پالیسی موثر نہیں ہوگی۔ پولیس اور ضلعی عدالتیں اور بلدیاتی نظام پر ایک ایسی تکون ہے کہ اگر اس کو درست کرلیاجائے تو عوام کے80 فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر پولیس کے محکمہ کو ٹھیک کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کے بعد پہلا قدم پولیس کے ملازمین کے مسائل حل کرنا ہے۔ ان کی ڈیوٹی ٹائمنگ، ان کے بچوں کی تعلیم اور صحت کے حوالے سے اقدامات ،ان کی تنخواہ کےا سٹرکچر پر نظر ثانی،تھانوں کی بہتر صورتحال پولیس والوں کے رہائش کے لیے اقدامات اوراس کے بعد ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے سخت فیصلے کئے جائیں۔ پولیس ملازمین کے مسائل حل کئے بغیر ان سے اچھے کی توقع دیوانے کاخواب ہی ہو سکتا ہے۔ زراعت کے شعبہ کو ترقی کے اقدامات اور چھوٹے اضلاع کو بھی زندگی کی سہولیات سے مزین کرنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ زراعت سے وابستہ کسان یا کاشتکار کے بچے تعلیم حاصل کرکے دوسرے کام کو ترجیح دیتے ہیں ۔کیونکہ کسان یا کاشتکار جس طرح کی زندگی گزار رہا ہے وہ نئی نسل کے نوجوانوں کو مطمئن نہیں کرسکتی ۔جس کی وجہ سے وہ کاشتکار یا زمیندار بننے کی بجائے شہر جا کر نوکری کرنے کو ترجیح دیتا ہے ۔کسان اور کاشتکار کی زندگی بدلنے سے ملک میں بہت مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ٹورازم یا سیاحت کے فروغ کے لیے صوبوں کی سطح پر اور مرکز میں پی ٹی ڈی سی کے نام سے ادارے کام کررہےہیں۔ ان کے سربراہان کے طورپر میرٹ پر بہترین لوگوں کو تعینات کرکے بہت فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن اچھے لوگ اور مالی استحکام دے کر ان سے مستقبل کے لئے کام لیاجاسکتاہے۔ قوم سے خطاب کے حوالے سے بہت سی باتیں کی جاسکتی ہیں۔ لیکن اس کو موثر تب ہی بنایاجاسکتا ہے کہ صرف سینما میں دکھانے کے لیے قومی ترانے پر کھڑا ہونے کی بجائے ملکی مفاد کے ترانے پر ہرجگہ کھڑا ہونا اور احترام دینا ہوگا اوراس کے لیے پوری قوم کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ خا لی گفتا ر کے غا زی نہیں بلکہ حکو مت کو یہ سا رے کام کر نے کے لئے بہت محنت کر نا ہو گی ،ورنہ قوم میرے دوست کے بیٹے کی طر ح چھو ڑ ے گی نہیں۔

twitter:@am_nawazish

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں