آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تخلیقی صلاحیتوں سے کس طرح آمریت کو للکارا جاتا ہے، تو آپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ میں تیار ہونے والے تخلیقی شہ پاروں کو دیکھنا چاہیے۔ اُس زمانے میں عظیم ناول تخلیق کرنے والے جرمن مصنّف، گنٹر گراس(Gunter Grass)، پولش ہدایت کار، آندرے وائدا (Andrzes Wajda) اور چیکو سلواکیہ کے میلوش فورمان (Milos Forman) نے ایسی شان دار فلمز تخلیق کیں کہ جو آج بھی ناظرین کو بہت کچھ سکھاتی ہیں۔ تاہم، اس مضمون میں ہم رواں برس کے اوائل میں امریکا میں انتقال کرنے والے میلوش فورمان کا ذکر کریں گے۔

1950ء اور1960ء کے عشرے کا یورپ ایک مایوس کُن نظّارہ پیش کر رہا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کی تباہ کُن یادیں ابھی تازہ تھیں اور سرد جنگ کے آغاز نے انہیں مزید تلخ کر دیا تھا۔ اس رنجیدہ ماحول میں نہ صرف اطالوی و فرانسیسی سینما، بلکہ پولش اور چیک فلمز نے بھی یورپ کی بڑی عُمدہ انداز میں عکّاسی کی۔ جب فرانسیسی سینما میں ایک نئی لہر وارد ہو رہی تھی،تو چیکو سلواکیہ کے ہدایت کار بھی ایک نئے رُجحان کی تشکیل کر رہے تھے۔ میلوش فورمان اس نئی لہر اور رُجحان کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ 1960ء کے عشرے میں فورمان اور دیگر ہدایت کاروں کی تخلیق کردہ فلمز نے سماجی شعور پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا، جو مشرقی یورپ کے گھٹن زدہ ماحول میں کسی کرامت سے کم نہ تھا۔ مشرقی یورپ کے زیادہ تر ممالک نازی جرمنی کے استبداد کو بُھگت چکے تھے، جس کے بعد وہاں سوویت رہنما، اسٹالن نے اپنی وفا دار حکومتیں قائم کر لی تھیں۔ چیکو سلواکیہ پر کمیونسٹوں نے1948ء میں اپنی حکومت قائم کی تھی اور 1960ء کے آتے آتے مقامی باشندے اس حکومت سے بے زار بھی ہوچُکے تھے۔ چُوں کہ حزبِ اختلاف کی تمام سیاست کو کُچل دیا گیا تھا، تو ایسے میں چیکو سلواکیہ کے دارالحکومت، پراگ میں قائم اکیڈمی اور پرفارمنگ آرٹس نے مزاحمت کا عَلم بلند کیا۔ تاہم، پاکستان میں اب تک کوئی ایسی اکادمی قائم نہیں کی گئی کہ جو سینما سے متعلق علوم و فنون کی ترویج کرے یا تخلیقی کام کے ذریعے عوام میں ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد کا سلیقہ پیدا کرے۔

1960ء کے عشرے میں چیکو سلواکیہ کے فلم سازوں نے اپنے عوام میں سیاسی و سماجی شعور بیدار کرنے کے لیے خاصا کام کیا اور خود ہی اپنی ریاست کے جبر اور نااہلی کا پردہ چاک کیا۔ اس موقعے پر چیک ہدایت کاروں نے غیر تحریر شُدہ اور اسکرپٹ سے ہٹ کر جملے استعمال کیے، طنز و مزاح کو بھی اپنایا اور ساتھ ہی غیر پیشہ وَر اداکاروں کو سامنے لائے۔ خیال رہے کہ اکثر پیشہ وَر فن کار اپنی ترویج و ترقّی ہی میں زیادہ دِل چسپی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب 1970ء اور 1980ء کے عشرے میں بھارت میں عوام پر ظلم و ستم کے خلاف آرٹ موویز بننا شروع ہوئیں، تو ان میں زیادہ تر نئے اور غیر پیشہ وَر اداکار شامل تھے اور امیتابھ بچن جیسے بڑے اداکار ان فلمز پر یہ کہتے ہوئے تنقید کرتے تھے کہ یہ فلم ساز دُنیا کے سامنے بھارت کا تاریک چہرہ پیش کر کے اپنے مُلک کو بدنام کر رہے ہیں ، جب کہ ایسی ہی باتیں آج پاکستان میں شرمین عبید چنائے وغیرہ کے بارے میں کی جاتی ہیں۔

میلوش فورمان نے 1963ء میں ’’کالا پیٹر‘‘ (Black Peter) نامی پہلی فلم بنائی، جسے بادلِ نخواستہ سنسر بورڈ سے منظوری بھی مل گئی۔ یہ فلم ایک ایسے جاسوس نوجوان کے بارے میں ہے، جسے اپنے کام میں کوئی دِل چسپی نظر نہیں آتی۔ گو کہ یہ فورمان کی پہلی فلم تھی، لیکن اس نے فورمان کو یک دَم بڑے ہدایت کاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ اس فلم کو سنسر بورڈ سے غالباً اس لیے اجازت مل گئی تھی کہ اس میں بہ ظاہر کمیونسٹ اخلاقیات کی ترویج کی گئی تھی، مگر فورمان نے اس فلم کے ذریعے کمیونزم پر تنقید کی۔ یعنی فلم کا مرکزی کردار، پیٹر دوسروں کی جاسوسی کو غلط گردانتا تھا اور یہ ایک طرح کا سیاسی پیغام بھی تھا۔

فورمان کی اگلی فلم، ’’گوری کے محبوب‘‘ (Lovers of a Blonde)تھی اور اس میں بھی سماجی طنز بڑا نمایاں تھا۔ یہ فلم ایک ایسے کارخانے کے بارے میں ہے، جہاں صرف لڑکیاں کام کرتی ہیں۔ یہ کارخانہ ایک دیہی علاقے میں قائم ہے اور اس کا سربراہ ایک عُمر رسیدہ مَرد ہے، جب کہ گائوں کے تمام جوانوں کو فوج میں بَھرتی کر کے اُس سرحد پر بھیج دیا گیا ہے، جو مغربی جرمنی سے ملتی ہے۔ یاد رہے کہ تب مغربی جرمنی کو مشرقی یورپ کی کمیونسٹ حکومتوں کا دشمن سمجھا جاتا تھا۔ اس فلم میں دِکھایا گیا ہے کہ کارخانے کا مالک فوج کے کمانڈر کے پاس جا کر درخواست کرتا ہے کہ کچھ نوجوانوں کو سرحد سے بُلا کر واپس گائوں میں بھیجا جائے، تاکہ حالات معمول پر آ جائیں، مگر فوجی کمانڈر یہ مختصر سا جواب دے کر اُس کی درخواست رَد کر دیتا ہے کہ ’’جنگ کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔‘‘ جس پر کارخانے کا مالک جواب دیتا ہے،’’ممکن ہے کہ جنگ آیندہ 50،100سال تک نہ ہو اور اس وقت تک آپ پورے معاشرے کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا رکھنے پر کیوں بہ ضد ہیں۔‘‘ بالآخر تنگ آ کر کمانڈر چند ادھیڑ عُمرفوجیوں کو گائوں کی ایک ڈانس پارٹی میں بھیج دیتا ہے۔ تاہم، یہ ادھیڑ عُمر فوجی اہل کار زمینی حقائق سے بالکل نابلد ہوتے ہیں اور اپنی لایعنی گفتگو ہی میں مصروف رہتے ہیں۔ اس فلم میں ایسے نپے تُلے رویّوں پر تنقید کی گئی ہے، جن میں عام شہریوں کے احساسات و جذبات کا بالکل بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔

فورمان نے آمرانہ استبداد کے خلاف سوچ کو اپنی اگلی فلم میں مزید آگے بڑھایا، جس کا نام ’’فائر بریگیڈ والوں کی پارٹی‘‘ (Firemen's Ball) تھا۔ 1967ء میں بنائی گئی اس فلم میں ایک دیہی علاقے کے فائر بریگیڈ کے عملے کو دِکھایا گیا ہے، جو اپنے سابق سربراہ کی 86ویں سال گرہ منانا چاہتا ہے۔ جس طرح پچھلی فلمز میں دُکان اور کارخانے کو پورے معاشرے کا عکّاس بنایا گیا تھا، اسی طرح اس فلم میں بھی فائر بریگیڈ کے محکمے کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ فلم میں نہ صرف سِول اور فوجی افسر شاہی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، بلکہ حُکم رانوں کو اپنی بنیادی ذمّے داریوں سے رُو گردانی کرتے ہوئے بھی دِکھایا گیا ہے۔ اس فلم میں دِکھایا گیا ہے کہ جب تقریب شروع ہوتی ہے، تو اس کی متوقّع منصوبہ بندی ناکام ہو جاتی ہے اور اچانک غیر متوقّع واقعات رُونما ہونے لگتے ہیں۔ تقریب میں پورے گائوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے، لیکن اچانک تقسیم کے لیے رکھے جانے والے انعامات غائب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ فائر بریگیڈ کے اہل کار تقریب میں مقابلۂ حُسن کے انعقاد کی خواہش بھی رکھتے ہیں، مگر مقابلے کے لیے منتخب کردہ امیدوار نہ تو حسین ہیں اور نہ ہی اس مقابلے میں کوئی دِل چسپی رکھتے ہیں۔ فور مان نے اس فلم میں فائر بریگیڈ کے عملے کے ذریعے پورے معاشرے کی عکّاسی کی ہے کہ کس طرح ریاستی ادارے مختلف شعبدے بازیوں کے ذریعے معاشرے کو بے وقوف بنانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں اور خود اپنی بنیادی ذمّے داریاں بھی پوری نہیں کرتے۔ یہ فلم محاوراتی طور پر ’’آخری تنکا‘‘ ثابت ہوئی، کیوں کہ اس کے بعد 1968ء میں ریلیز ہونے والی فلم، ’’پراگ کی بہار‘‘ (Prague Spring) کو کُچل دیا گیا۔

جب 1968ء میں سوویت افواج پراگ میں داخل ہوئیں، تو کئی تخلیقی فن کار مغربی یورپ اور امریکا بھاگ گئے۔ اس دوران فورمان بھی ہالی وُڈ پہنچ گئے اور 1975ء میں غالباً اپنی سب سے اچّھی فلم بنائی، جس کا نام، One Flew Over The Cuckoo Nest تھا۔ یہ 1935ء کے بعد پہلی فلم تھی کہ جسے چاروں بڑے آسکر ز ملے۔ یعنی بہترین فلم، بہترین ہدایت کاری، بہترین اداکار اور بہترین اداکارہ کے ایوارڈز۔ اس فلم میں فورمان نے کمیونسٹ حکومت کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ سرمایہ دارانہ معاشرے پر مختلف اداروں کی بالادستی کو للکارا۔ اس فلم میں ایک پاگل خانہ دِکھایا گیا ہے، جس پر آمرانہ طرزِ عمل کی حامل نرس کی حُکم رانی ہے، جو نہ صرف اپنی نا اہلی چُھپاتی ہے، بلکہ نفسیاتی مریضوں سے اپنی نا آسودہ خواہشات کا انتقام بھی لیتی ہے۔اس فلم کے بعد فورمان نے ایک میوزیکل فلم، Hairبنائی، جو ایک ڈرامے سے ماخوذ تھی۔ پھر 1984ء میں مشہور موسیقار، موزارٹ (Mozart) کی زندگی پرمبنی ایک شان دار فلم بنائی، جس کا نام، Amadeus تھا اور اس فلم نے بھی کئی آسکرز حاصل کیے۔ یہ فلم کسی فرد کی زندگی پر بنائی جانے والی بہترین فلمز میں شمار ہوتی ہے۔

فورمان کی بنائی گئی فلمز کی ایک طویل فہرست ہے، مگر تمام فلمز میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ یہ طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف جدوجہد پر مبنی ہیں۔ 1997ء میں بنائی جانے والی فلم، People vs Larry Flintایک حقیقی عدالتی مقدّمے پر مبنی ہے، جس میں اظہارِ رائے کی آزادی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے فن کاروں کے لیے فورمان کی فلمز میں یہ واضح پیغام پوشیدہ ہے کہ وہ بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے جبر و منافقت کے خلاف آواز اُٹھا سکتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں