آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دنیا میں چند ایک ہستیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے عوام اور ملک کی تقدیر کو بدل کے رکھ دیا۔ ترکی ان خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جہاں پہلے اتاترک نے اور موجودہ دور میں ایردوان نے اس ملک کی قسمت کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے دور میں جبکہ یہ تباہی کے کنارے تک پہنچ چکا تھا کو نہ صرف بچایا بلکہ ترقی کی راہ پر بھی گامزن کیا۔
ترکی کو دنیا کے سولہویں ترقی یافتہ ملک کا روپ دینے اور جی 20 ممالک کی صف میں شامل کرنے والے رجب طیب ایردوان فرورری 1954ء میں بحر اسود کے ساحلی شہر ریِضے میں پیدا ہوئے۔ تیرہ سال کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ معاشی مشکلات کی وجہ سے استنبول کے گنجان آباد اور پسماندہ علاقے قام پاشا منتقل ہو گئے۔ پیالہ پاشا پرائمری اسکول سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے امام خطیب ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا۔ امام خطیب اسکولوں کی سیکولر ترکی میں کیونکر ضرورت محسوس ہوئی؟ اس کی وجہ بڑی واضح ہے۔ عصمت انونو ( جو مسلمان ہونے کے باوجود مذہب اسلام کے سخت خلاف تھے نے نام نہاد سیکولرازم کی آڑ میں خلافت عثمانیہ کے دور کے تمام اسلامی اثرات کو ختم کرنے کی بھرپور کوششیں کی تھیں۔ انہوں نے اتاترک کے نام کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرتے ہوئے مذہبی حلقوں کی کمر توڑنے، مسلمانوں پر ظلم

ڈھانے اور مساجد کو اصطبلوں میں تبدیل کرنے، ان پر تالے ڈالنے، مدرسوں، قرآن کریم کی تعلیم دینے والے اداروں اور اسلامی مراکز کو بند کرنے کے لئے استعمال کیا تھا جس کی وجہ سے اسلامی حلقے انہیں دجال کے نام سے یاد کرتے ہیں) کے دور میں ترکی قحط الرجال کا شکار ہوچکا تھااورمسلمانوں کو نماز جنازہ اسلامی اصولوں کے مطابق پڑھانے کے لئے امام تک دستیاب نہ تھے اس کمی کو پورا کرنے کیلئے آخر کار ملک میں امام خطیب مدرسے قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ان مدرسوں میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام جدید اسکولوں میں پڑھائے جانے والے سلیبس کو بھی امام خطیب مدرسوں کے نصاب میں شامل کردیا گیا اور اس جدید سلیبس میں بھی کامیاب ہونے کی شرط عائد کردی گئی۔ ترکی کے امام خطیب مدرسوں اور پاکستان کے مدرسوں کے درمیان فرق بھی یہی ہے۔ پاکستان کے مدرسوں میں جدید تعلیم کا تو کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے اورمذہبی تعلیم بھی ناکافی اور خطرناک بھی ہے۔ خطرناک اس لئے کہ اب ان مدرسوں میں سے زیادہ تر میں دہشت گردی کی بھی تعلیم دی جارہی ہے اور کسی قسم کی چیکنگ کا نظام نہ ہونے اور سرکاری رٹ کی عدم موجودگی کے باعث یہ مدرسے مختلف فرقوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے علاوہ کوئی اور کام سرانجام نہیں دے رہے ہیں۔ ان مدرسوں کا نظام بوسیدہ ہونے اور جدید تعلیم سے بے بہر ہ ہونے کی وجہ سے یہ مدرسے نیم حکیم خطرہ جان سے زیادہ خطرہ پاکستان بن چکے ہیں۔
ایردوان نے امام خطیب مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد استنبول کی مرمرہ یونیورسٹی کی اقتصادی اور تجارتی فیکلٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ ایردوان کے لئے تعلیم جاری رکھنا کوئی آسان کام نہ تھاخاندانی حالات کی وجہ سے انہوں نے گلی اور محلوں میں چھابڑی لگاتے ہوئے اور لیموں اور دیگر اشیاء کو فروخت کرتے ہوئے اپنی تعلیم کو مکمل کیا۔ انہوں نے 1976ء میں نجم الدین ایربکان کی ملی سلامت پارٹی کے یوتھ ونگ سے اپنی عملی سیاست کا آغاز کیا۔ اگرچہ 1991ء میں پہلی بار رفاہ پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے لیکن اس دور میں ترجیحاتی ووٹنگ سسٹم کے باعث ان کی رکنیت قانونی حیثیت حاصل نہ کرسکی اوریوں ان کو پہلا سیاسی دہچکا لگا۔
ایردوان 27 مارچ 1994ء میں بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار استنبول بلدیہ کے میئرمنتخب ہوئے۔ استنبول کے میئرہونے کے دور میں انہوں نے جس طریقے سے استنبول کو ایک جدید منظم اور خوب صورت شہر بنایا اس کی وجہ سے ان کی شہرت پورے ترکی میں پھیل گئی حالانکہ جب انہوں نے میئر کے عہدے کا حلف اٹھایا تو ہر طرف جان بوجھ کر یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ ایردوان شہر کی بسوں کو مردانہ اور زنانہ دو حصوں میں تقسیم کردیں گے اور سمندر میں تیراکی کرنے کی کسی خاتون کو اجازت نہ ہوگی ان الزامات کے بعد ان کے مخالفین کو منہ کی کھانا پڑی کیونکہ ایردوان نے کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا انہوں نے پہلے روز ہی سے اعتدال پسندی کی پالیسی پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے اس دوران استنبول کے ٹریفک سسٹم کی طرف خصوصی توجہ دیتے ہوئے استنبول کو ان مشکلات سے نکالا اور کئی دہائیوں سے استنبول میں پانی کی جو قلت محسوس کی جا رہی تھی اس کو بھی ختم کیا اور شہر بھر میں پانی کی فراوانی کا بندوبست کردیا۔ ان کو استنبول بلدیہ کے میئر ہونے کے دور میں جو شہرت حاصل ہوئی اور خاص طور پر متوسط طبقے نے جس طریقے سے ان کو پذیرائی بخشی اس سے ان کی جماعت ہی میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں اور ایربکان کی فضیلت پارٹی پر پابندی عائد ہونے کے دوران یہ پارٹی دو گروپوں میں تقسیم ہوکر رہ گئی اور ایک گروپ جس کی قیادت ایردوان نے کی تھی اس گروپ نے 14/اگست 2001ء کو جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ( جسے مختصراً ترکی زبان میں آق پارٹی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے) کے نام سے نئی جماعت قائم کرلی اور ایردوان اس جماعت کے چیئرمین منتخب ہوگئے۔ اس دوران ان پر ترکی کے مشرقی صوبے سیرت میں ایک مذہبی نظم پڑھنے اور عوام کو بغاوت پر اکسانے کا الزام لگاتے ہوئے آٹھ ماہ قید کی سزا سنادی گئی۔ آٹھ ماہ قید کی سزا کی وجہ سے ایردوان کو عام انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ ان کی عدم موجودگی کے باوجود3 نومبر2002ء میں ہونے والے عام انتخابات میں آق پارٹی نے حیرت انگیز طور پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے کلی اکثریت حاصل کرلی۔ ایردوان کی عدم موجودگی میں عبداللہ گل نے پارٹی کے عبوری چیئرمین اور وزیراعظم کے طور پر اختیارات سنبھال لئے۔ پارلیمنٹ کی طرف سے ایردوان کو عام انتخابات میں حصہ لینے کے بل کی منظوری کے باوجود اس وقت کے صدر احمد نجدت سیزر نے اس بل کو ویٹو کردیا لیکن دوسری بار اس بل کو پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کئے جانے کے بعد صدر بھی اس بل پر دستخط کرنے پر مجبور ہوگئے اور اس طرح ایردوان کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی راہ ہموار ہوگئی۔ قسمت کے جلوے دیکھئے ترکی کے جس شہر سیرت میں ان کو مذہبی نظم پڑھنے کی وجہ سے سزا ملی تھی اسی شہر نے ایردوان کے حق میں85 فیصد ووٹ ڈالتے ہوئے ان کو اسمبلی تک پہنچانے اور پھر وزیراعظم بنانے کی راہ ہموار کی۔
وزیراعظم کے اختیارات سنبھالنے کے بعد فوج اور صدر احمد نجدت سیزر نے ایردوان حکومت سے کسی قسم کا کوئی تعاون نہ کیا بلکہ فوج کے اندران کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور صدر سیزر نے بھی ایردوان کو ناکام بنانے اور ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے نئی حکومت کی جانب سے نامزد کئے جانے والے اعلیٰ عہدیداروں کے ناموں کی منظوری نہ دی اور ویٹو استعمال کرنے کا سلسلہ اپنے عہدہ صدارت کی میعاد ختم ہونے کے آخری روز تک جاری رکھا۔ علاوہ ازیں فوج اور اس وقت کی عدلیہ نے عبداللہ گل کو صدر منتخب ہونے سے روکنے کے لئے غیرآئینی طریقہ کار استعمال کرنے سے بھی اجتناب نہ کیا۔ فوج اور عدلیہ کے شدید دباؤ کو عوام نے اپنے دلوں پر بھی محسوس کیا اور پہلی بار 34 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیاب ہونے والی آق پارٹی نے اپنے دوسرے عام انتخابات2007ء میں مزید تیرہ فیصد ووٹ بڑھاتے ہوئے47 فیصد اور2011ء میں مزید تین فیصد ووٹوں میں اضافہ کرتے ہوئے50 فیصد ووٹ حاصل کرکے ترکی میں تیسری باراوپر تلے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔
ملک کو اقتصادی، سیاسی، مالی، تجارتی، سماجی ، مذہبی لحاظ سے مستحکم کرنے اور مضبوط بنانے کے بعد ایردوان نے ان کے خلاف مسلسل سازشوں میں ملوث اور حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے والے فوجیوں اور عدلیہ کے خلاف بڑا دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے اپنے تیسرے دور میں کارروا ئی کرنے کا فیصلہ کیا اور اس وقت ترکی میں 365 فوجی افسران پر مقدمہ چل رہا ہے جن میں بری ، بحری اور فضائیہ کے کمانڈر انچیف بھی شامل ہیں۔ ایردوان فوج پر مکمل طور پر اپنی حاکمیت قائم کرچکے ہیں۔ کیا کبھی ایردوان جیسا رہنما پاکستان کو بھی نصیب ہوگا؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں