آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان نے حسب روایت پُرامن بقائے باہمی کے تحت بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کے روز پریس کانفرنس میں بھارت سے کہا کہ کشمیر پر بات چیت کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں ہماری ترجیحات کا محور پاکستان اور اس کے مفادات ہوں گے، عوام کی بہتری کے لئے اقتصادی سفارت کاری کو بروئے کار لائیں گے، افغانستان میں استحکام پاکستان میں امن کی ضمانت ہے، امریکہ کی ترجیحات و تحفظات کا اندازہ ہے جنہیں سامنے رکھتے ہوئے دوٹوک انداز میں بات کریں گے۔ جہاں تک بات ہے خارجہ پالیسی کی یہ بذات خود مقصد نہیں بلکہ مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہے، ہر ملک اپنی ترجیحات و ضروریات کا تعین کرتا ہے جس میں ملک کو مضبوط و مستحکم کرنا، سرحدوں کا دفاع اور معیشت کی مضبوطی بنیادی اجزا ہوتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہمارا المیہ یہ رہا کہ قیام پاکستان کے بعد ہم امریکہ کے اور بھارت سوویت یونین کا اتحادی بن گیا۔چنانچہ کشمیر کا مسئلہ جب بھی اقوام متحدہ میں اٹھانے کی کوشش ہوئی روس نے اسے ویٹو کر دیا اور چار جنگوں کے باوجود یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ افسوس کہ پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی دعوت کا بھارت نے کبھی خاطر خواہ جواب نہ دیا حالانکہ وہ بھی یہ حقیقت جانتا ہے کہ یہ مسئلہ حل کئے بغیر خطے

میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اب جبکہ پاکستان ایک نیا آغاز کر رہا ہے اور بھارت کو مذاکرات کی دعوت دے رہا ہے تو بھارت کو چاہئے کہ دنیا کے اس سب سے زیادہ گنجان آباد خطے کے امن اور بہتری کے لئے آگے آئے۔ آخر کب تک دونوں ملک کشیدگی کے ماحول میں رہ کر اپنی ترقی و خوشحالی کی راہ کھوٹی کرتے رہیں گے۔ دوسری جانب ہمیں اب اپنی خارجہ پالیسی میں اہم اور بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانا ہوں گی خاص طور پر دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ اقتصادی مراسم بڑھانا ہوں گے تاکہ ہماری معیشت کو بھی استحکام ملنے کی راہیں استوار ہوں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں