آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس میں ایک دہائی پہلے تک مذہب اور عقیدوں کو بلا جھجک تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا تھا: بہت سے کامیڈین عیسائیت اور حتی کہ مقدس بائبل کا سرعام مذاق اڑا سکتے تھے ۔ لیکن امریکہ میں سرمایہ داری نظام پر تنقید کرنا نا قابل معافی گناہ کبیرہ گردانا جاتا تھا۔ اگر کسی سیاستدان پر سوشلسٹ ہونے کا دھبہ لگ جاتا تو وہ سیاست سے خارج سمجھا جاتا تھا۔ لیکن پچھلے دو تین سالوں میں اپنے آپ کو سوشلسٹ کہلوانے والوں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے اور اب بہت سے سیاسی دھڑے اپنے آپ کو کھلم کھلا سوشلسٹ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ امریکہ کے اس بدلتے ہوئے رجحان کو سمجھنا اسلئے ضروری ہے کہ سپر پاور ہوتے ہوئے اور مختلف بین الاقوامی اداروں ( ورلڈ بینک، آئی ایم ایف وغیرہ) کو کنٹرول کرتے ہوئے امریکہ دنیا کے اکثر ممالک کی معاشی اور نظریاتی ترجیحات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی پس منظر میں دیکھا جائے تو دنیا میں نئے معاشی ڈھانچے کی ابتدا امریکہ میں رونلڈ ریگن کے صدر منتخب ہونے کے بعد شروع ہوئی تھی اور آہستہ آہستہ دنیا کے اکثر ملکوں میں ریگن کے نظریاتی معاشی خیالات غالب آگئے۔اب بھی آنیوالے وقتوں میں امریکہ میں غالب رجحانات دنیا کی نظریاتی جہت کو متاثر کریں گے۔

چند دن پہلے جاری کئے گئے ایک سروے کے مطابق اب امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی میں 57فیصد ممبر اپنی شناخت سوشلزم سے کرتے ہیں اور سرمایہ داری نظام کو ترجیح دینے والوں کی تعداد 47فیصد ہے۔ یعنی اب ڈیموکریٹک پارٹی میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جو اپنے خیالات کو سوشلزم کے قریب پاتے ہیں۔ اسی طرح ڈیموکریٹک سوشلسٹ آف امریکہ (امریکی سوشلسٹ) کے ممبران کی تعداد2015میں 6000ہزار تھی جو کہ سات گنا بڑھ کر 63000تک پہنچ چکی ہے۔ بظاہر اس رجحان کے پیشرو صدارتی امیدوار برنی سینڈرز تھے جنہوں نے امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک بڑی پارٹی کی طرف سے بطور سوشلسٹ الیکشن میں حصہ لیا۔ اگرچہ وہ صدارتی امیدوار کے طور پر ہلیری کلنٹن سے مات کھا گئے لیکن انہوں نے بہت سی ریاستوں میں اپنے مد مقابل کو شکست دی اور ریپبلکن پارٹی کی رجعت پسندی کے خلاف سب سے بڑے رہنما تسلیم کئے جانے لگے۔ریگن کے دور سے لے کر اب تک ریپبلکن پارٹی نے ریاست کے فلاحی پروگراموں کے خلاف جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس جنگ میں سرمایہ دار طبقے کے سب سے بڑے معاون قدامت پرست مذہبی دھڑے شامل تھے: سرمایہ دار اپنے ٹیکسوں اور ریاستی ضابطوں میں کمی کی تحریک چلا رہے تھے جبکہ مذہبی دھڑے معاشرے پر مذہبی اقدار کو دوبارہ نازل کرکے اسقاط حمل جیسے قوانین کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس رجعت پسند محاذ میں نسل پرست گوروں کی تنظیمیں بھی شامل تھیں جو دوسری نسلوں اور رنگوں کے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے خائف تھیں۔ اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے یہ سارے رجعت پسند دھڑے سرمایہ داروں کی سر براہی میں اس نظریے پر متفق تھے کہ ہر کام ریاستی اداروں کی بجائے نجی شعبے میں بہتر انداز میں سر انجام دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جب بھی ڈیموکریٹک پارٹی یا ترقی پسند امریکی سیاستدانوں کی طرف سے صحت، تعلیم اور کارکنوں کے طبقوں کی بہتری کیلئے ریاستی مداخلت کیلئے آواز اٹھائی جاتی تھی تو رجعت پسند محاذ اسے سوشلزم کا لیبل لگا کر ہوا میں اڑانے کی کوششوں میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق 2015ء تک آتے آتے بہت سے ڈیموکریٹک ذہنیت رکھنے والے امریکیوں نے کہنا شروع کیا کہ ’’یوں ہے تو یوں سہی‘‘ اور اپنے آپ کو سوشلسٹ ماننا شروع کردیا جسکا اظہار برنی سینڈرز کی صدارتی مہم میں کھل کر سامنے آگیا۔

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت رجعت پسند محاذ کی چوٹی کی فتح تھی۔ ویسے تو ریگن کے بعد آنے والے ڈیموکریٹک صدور، بل کلنٹن اور باراک اوباما، نے بھی بڑی حد تک ریگن کی ہی معاشی پالیسیوں کو جاری رکھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے رجعت پسندی کو نئی بلندیوں تک پہنچاتے ہوئے 1960کی دہائی کے بعد عوامی جد جہد کے نتیجے میں نئے دور کے قوانین اور روایات کو مسمار کر کے 1950کی دہائی تک والا معاشرہ بحال کرنے کیلئے اقدامات کرنا شروع کئے جس میں گورے مردوں کی ہر شعبے میں اجارہ داری تھی اورکالوں ، خواتین اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق نہ ہونے کے برابر تھے۔ چنانچہ جس شدت سے ڈونلڈ ٹرمپ نے معاشرے کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی ہے اس کا رد عمل بھی اتنا ہی سخت ہے: یعنی اب سوشلسٹوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور امریکی طرز کی سرمایہ داری روبہ زوال ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

یہ بھی زیر نظر رہے کہ امریکہ میں جس طرح کے سوشلسٹ خیالات پروان چڑھ رہے ہیں وہ روایتی اور کلاسیکی سوشلزم سے بہت مختلف ہیں۔ سوشلزم میں تو تمام اثاثے ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں اور نجی شعبہ موجود نہیں ہوتا لیکن جس سوشلزم کا ذکر امریکہ میں ہو رہا ہے اس کے تصورات ڈنمارک اور مغربی یورپی ریاستوں کے فلاحی نظام سے مستعار لئے گئے ہیں: یعنی نجی شعبہ بھی موجود رہے گا لیکن ریاست عوامی کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے خود ادارے قائم کرے گی: تقریباً پورے یورپ اور کینیڈا میں صحت کا نظام ریاستی اداروں کے ہاتھ میں ہے۔گویا کہ امریکہ میں سوشلزم کے نام پر سوشل ڈیموکریسی کا پرچار بڑھ رہا ہے۔ اگر مستقبل میں یہ رجحان غالب آجاتا ہے تو اس کے ساری دنیا پر اثرات ہوں گے۔

ویسے تو مارکسی نظریے کے مطابق سوشلسٹ انقلاب آنا ہی امریکہ جیسے پختہ کار سرمایہ داری نظام میں چاہئے لیکن یہ ایک دوسری بحث ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اگر امریکہ میں نجی شعبے کی تقدیس میں کمی آتی ہے اور ریاستی ادارے عوامی سہولیات کا کام اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں تو پاکستان جیسے دنیا کے بہت سے ممالک اس کی پیروی کرنے پر مجبور ہوں گے۔ پاکستان میں بھی ریگن کے نظریات کی ایک بھدی سی شکل پر عمل ہو رہا ہے اور اس کے خلاف بھی تحریک کا بننا ناگزیر ہے۔ اس وقت پاکستان کی تینوں بڑی پارٹیوں کا معاشی نظریہ ایک ہے جس کے بدلے جانے کا وقت قریب آتا جا رہا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں