آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سا فرانسسکو کی اس جدید ساختہ فلک بوس عمارت کے اختراعی ڈھانچے نے زلزلے کی ڈیزائننگ کو تبدیل کر دیاہے۔یہ دعویٰ ہےارپ اینڈ ہیلیر مینس آرکیٹیکٹس کا،جنہوں نے امریکی شہر میں واقع 181فریمونٹ کےتیسرے سب سے بڑےٹاورمیں زلزلے سے محفوظ رہنے کی ٹیکنالوجی استعمال کی ہےاور زلزلے کے جھٹکوں سے بچنے کے لیے Viscous Damper System کا استعمال کیا گیا ہے۔

181 فریمونٹ کے لئے، تعمیراتی فرم نے ایک بنیادی تبدیلی یہ کی کہ اس اسکائی اسکریپر کی چھت پر ٹیونڈ ماس ڈیمپر یا سلوشنگ ڈیمپر کا استعمال کیا،جس کا استعمال عمارتوں کے خم دارستونوں کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔امریکا کے تمام ٹاورز میں اس کا استعمال عام ہے۔ارپ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ تعمیر کا کہنا ہے کہ زلزلے سے عمارت کی حفاظت کے لیے اس کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔

ہیلر مینس آرکیٹیکٹس کی طرف سے ڈیزائن کردہ 181 فریمو۱نٹ کےاس تیسرے سب سے بڑےٹاور کی قابل ذکر چیز پینٹ ہاؤس کا اسٹرکچرل ڈیزائن ہے، جس میں بڑی مقدار میںViscous Damper System کا استعمال کیا گیا ہے،تاکہ زلزلے کی صورت میں عمارت کے گرنے کا امکان کم ہو اور لوگوں کو اس مدت میں حفاظتی جگہ پر پہنچایا جاسکے۔

ارپ کے انجینئرز نے رسک اینڈ ری ریزی لیئنس مینجمنٹ میں اختصاص رکھنے والے آرکیٹیکچرل انجینئرعرب نژاد امریکی مسلمان ابراہیم المفتی کی قیادت میں، جب ہیلر مینس کے ڈیزائن کا جائزہ لیا تواسٹیل سپر اسٹرکچر بہت زیادہ بھاری تھا،جیساکہ بیجنگ میں او اے ایم کا کشش ثقل سے بچنے والا سی سی ٹی وی ہیڈکوارٹرز ہے۔ فلک بوس عمارت کا یہ وزن زلزلے کی صورت میں عمارت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے، جو جھٹکوں کا بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔اس میں عمارت کے گرجانے کے قوی امکانات پائے جاتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے اسٹرکچر کا وزن کم کرکے اسے زیادہ لچکدار بنایا تاکہ شدید زلزلے کی صورت میں اس کے دوٹکڑے ہوکر ٹوٹنے کا کم امکان ہو،جیسے ماضی میں کئی عمارات کا حشر ہوچکا ہے۔ 

اس عمارت میں وضع کردہ ٹیلر ڈیوائسز کے ذریعے زلزلے کے جھٹکے برداشت کرنے والے وِسکس ڈمپر سسٹم کے جامع تجزیے اور ماڈلنگ کی ضرورت ہے،تاہم اس سسٹم کی سب سے بڑی خوبی اس کی لچکدار ساخت ہے، جو زلزلے کی صورت میں عمارت کو ہلا تو سکتی ہے لیکن ٹوٹ کر گرنے کا خطرہ کم ہے جس سے عمارت کے مکین محفوظ رہیں گے۔اس لیے کہ یہ عمارت لرزش کے ساتھ ہی اپنا رخ بدلتے ہوئے حادثے سے خود کو بچا لے گی۔اسی خوبی کی بنا پر اسے مستقبل کی محفوظ زلزلہ پروف عمارات میں شمار کیا جارہا ہے۔اسٹوری ہائٹ ڈمپرز، پسٹن کی طرح دکھائی دیتے ہیں اور آخر میںدو ثانوی بریسز کے ساتھ منسلک ہیں،جو کمرشل فلورز میں زاویہ بناتے ہوئے اسٹیل بریسز کے ساتھ سینڈ وچ کی طرح چسپاں ہیں۔عمارت جیسے ہی آڑی ہوتی ہے تو ابتدائی بریسز چپک جاتے ہیں اور اسپرنگ کی مانند لمبے ہوجاتے ہیں،جب کہ ثانوی بریسز ڈمپرز کو متحرک کرتے ہیں،جو زلزلے کی توانائی کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں۔بریسز کے انٹرسیکشن پر نصب پی ٹی ایف ای پیڈز اور فلور پلیٹیں بھی بریسز کو فلورز کے ذریعےجھولنے اور زلزلے کی لہروں کے مطابق گھومنے میں معاونت فراہم کرکے اسے گرنے سے بچاتی ہیں۔

ہیلر مینس کےبانی و صدرجیفری ہیلر کہتے ہیں، ’’یہ نظام زلزلے کے امکان سے محفوظ رہنے کے لیے سان فرانسسکو کی فلک بوس عمارتوں کے لیے سب سے بہترین اور امکانی طور پر دنیا کی تمام بلند عمارتوں کے لیے بہتر سسٹم ہے۔ڈمپنگ سسٹم کی تنصیب کے علاوہ181 فریمونٹ کے اسٹرکچر میں لچک اور پائیداری پر مبنی ا ٓر ای ڈی آئی ریٹنگ سسٹم اسٹینڈرڈز کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔‘‘اس ضمن میں المفتی کہتے ہیں کہ جو لوگ بہتری کے خواہش مند ہیں ان کےلیے یہ بہترین متبادل ہوسکتا ہے۔

محل وقوع

ریاستہائے متحدہ امریکا کی ریاست سان فرانسسکو کا آسمان چھوٹی بڑی فلک بوس عمارات سے سجا ہوا ہے، جنہیں دیکھ کر کوئی بھی اس شہر کی خوشحالی کا اندازہ لگا سکتا ہے۔181فریمونٹ کے نام سے موسوم یہ پروجیکٹ ’’سو ما‘‘ کے نام سے معروف جنوبی مارکیٹ کے پڑوس میں واقع ہے۔اس مالیاتی ضلع کی حدود میں’’بے ایریا ریپڈ ٹرانزٹ‘‘(BART)،کال ٹرین اسٹیشنز،بے برج اور اہم شاہراہیں آجاتی ہیں۔اس وقت یہ علاقہ ترقیاتی کاموں کی جنت بنا ہوا ہے جہاں کئی رہائشی اور کمرشل پروجیکٹس بن رہے ہیں۔181فریمونٹ کی 56منزلیں دفاتر اور رہائش کے لیے مختص ہیں جب کہ45ہزار مربع فٹ پر مشتمل نیچے کی36منزلیں کلاس اے کے دفاتر اور اوپرکی منزل پر67منزلیں لگژری کنڈو مینیمز پر مشتمل ہیں، جنہیں فیس بک نے کرائے پر لیا ہوا ہے اور وہاں انسٹاگرام ڈویژن دفتر بھی قائم ہوگا۔

181فریمونٹ ٹاورز نہ صرف تعمیراتی شاہکار ہے بلکہ اس کا انٹریئر ڈیزائن بھی اعلیٰ ترین ذوق کی عکاسی کرتے ہوئے انتہائی نفیس فرنیچر اور دیدہ زیب مجسموں سے آراستہ ہے، جو کسی بھی باذوق مرد و خاتون کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔دفاتر میں دوپہر کو قیلولہ کرنے اور اپنے جسم کو چاک و چوبند رکھنےکے لیے آرام کرنے والی کرسیاں بھی موجود ہیں۔ان جدید سہولتوں کی موجودگی میں توقع ہے کہ فیس بک اپنے اس خواب کو پورا کرلے گا کہ پوری دنیا تک انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن ہوجائے۔ اس لیے انہوں نے اپنے کارکنوں کو ایسی پُر آسائیش سہولتیں دی ہیں تاکہ ان کی کارکردگی بہتر ہو اور وہ دنیا کو گلوبل ولیج بنانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں