آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں گزشتہ روزوفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم اور وفاقی وزراء کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے سمیت کئی اہم فیصلے کیے گئے جن سے پتہ چلتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کاروبار مملکت کو کرپشن سے پاک کرنے ، معاملات میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے اور دیگر حوالوں سے اپنے انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ٹھوس اقدامات کے لیے کوشاں ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے جمعہ کی شام ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ کابینہ کے فیصلے کے مطابق وزیر اعظم فضائی سفر کے لیے فرسٹ کلاس کی بجا ئے کلب کلاس استعمال کرینگے اور اس فیصلے کا اطلاق چیف جسٹس، چیئرمین سینیٹ ،وزیر خا رجہ اور آرمی چیف سمیت ان تمام سرکاری شخصیات پر ہوگا جو فرسٹ کلاس میں سفر کرتی ہیں ۔ وزیر اطلاعات نے وزیر اعظم، وزراء اور ممبران قومی اسمبلی کے صوابدیدی فنڈ ختم کرنے کے اقدام کو تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے صرف آخری سال میں 21ارب روپے کے صو ا بدیدی فنڈ ز استعمال کئے جبکہ صدر مملکت نے بھی آٹھ نو کروڑ روپے کے صوابدیدی فنڈز خرچ کیے حالانکہ آئین کی رو سے حکومتی معاملات میں صدر کا کردار برائے نام ہی ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے 30 ارب روپے ممبران قومی اسمبلی کو دیے۔

اس طرح محض ایک سال میں 51 ارب روپے کے صوابدیدی فنڈز استعمال کئے گئے۔ وزیر اطلاعات کے بقول وزیر اعظم عمران خان کا موقف ہے کہ’’ یہ ٹیکس گزاروں کا پیسہ ہے جسے نواز شریف نے بادشاہوں کی طرح استعمال کیا۔ ‘‘ وزیر اطلاعات کے ان دعووں میں اگر کوئی بات حقائق کے منافی یا وضاحت کی متقاضی ہے تو گزشتہ منتخب حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے موجودہ ذمہ داروں کو اپنا موقف بلاتاخیر قوم کے سامنے پیش کرنا چاہیے لیکن اگر ایسا نہیں تو صوابدیدی فنڈز کے اس بے محابا استعمال کا حساب لیا جانا ضروری ہے تاکہ قوم کو پتہ چلے کہ اس کے خون پسینے کی کمائی کے یہ پیسے کہاں اور کس طرح استعمال ہوئے۔ اور اگر انہیں عوامی بہبود کے کاموں کے بجائے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا ہے تو ان رقوم کی قومی خزانے میں واپسی کیلئے نتیجہ خیز اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ وزیر اطلاعات کے مطابق ’’گزشتہ حکومت کے آخری سال میں 750ارب روپے کا بجٹ تھا جبکہ ایک ٹریلین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس منظور کی گئیں،کا بینہ نے اس پر مکمل پابندی لگا دی ہے، آ ئندہ تر قیا تی منصو بے پہلے پارلیمنٹ میں زیر بحث آئیں گے پھر منظور ہوں گے۔‘‘ جمہوری نظام کا محور بلاشبہ پارلیمنٹ ہی ہے اور نئی حکومت اگر پالیسی سازی اور فیصلوں میں یہ امر ملحوظ رکھنے میں کامیاب ہوجائے تو ملک میں حقیقی جمہوریت کی ترویج یقینی ہوجائے گی۔میٹرو بس منصوبوں کے آڈٹ اور حسب ضرورت انکوائری کا فیصلہ بھی کرپشن کی روک تھام میں معاون ثابت ہوگا۔فضائی سفر کیلئے وزیر اعظم سمیت اہم سرکاری شخصیات کی جانب سے فرسٹ کلاس کے بجائے کلب کلاس استعمال کرنے کا فیصلہ مالی اعتبار سے خواہ کسی بڑے فرق کا باعث نہ بنے لیکن سرکاری سطح پر سادگی اور کفایت شعاری کا کلچر عام کرنے کے حوالے سے اس کی علامتی اہمیت بہت واضح ہے۔ بڑے شہروں میںکچی آبادیوں کو شہری سہولتیں فراہم کرنے کیلئے ٹاسک فورس کا قیام بھی ایک مستحسن فیصلہ ہے جو عوامی مسائل و مشکلات کے ازالے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔سرکاری دفاتر کے اوقات کار ایک گھنٹے آگے بڑھانے سے اگر بجلی کی بچت واقعی ممکن ہے تب تو ٹھیک ہے ورنہ بظاہر اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ملک بھر میں پانچ سال میں دس ارب درخت لگائے جاسکے تو ماحول میں لازماً بہتری آئے گی۔ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو سے سنسر شپ کا خاتمہ اور اپوزیشن کو بھی پوری کوریج دینے کا فیصلہ حکومت کی خود اعتمادی کا ثبوت ہے اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ اظہار رائے کی آزادی کے آئینی تقاضے کی تکمیل ہوسکے۔ بحیثیت مجموعی وفاقی کابینہ کے تمام فیصلے مثبت ہیں اور ان پر عمل درآمد سے معاملات میں بہتری متوقع ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں