آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2011 میں فرانس نے عوامی مقامات پر نقاب سے چہرہ چھپانے پر پابندی لگائی، اِس پابندی کے تحت کوئی بھی عورت اپنا چہرہ چھپا کر گھر سے باہر نہیں نکل سکتی تھی، اُس وقت کے فرانسیسی صدر سرکوزی جن کی حکومت نے یہ پابندی عائد کی تھی، اِس کی حمایت میں کہا کہ نقاب ظلم کی نشانی ہے اسے فرانس میں خوش آمدید نہیں کہا جا سکتا۔ فرانس کی سات کروڑ آبادی میں سے میں کُل ملا کر دو ہزار سے بھی کم عورتیں ہیں جو پورے نقاب سے چہرہ ڈھانپتی ہیں، ایسی ہی ایک عورت پر جب جرمانہ عائد کیا گیا تو وہ اپنا مقدمہ یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت میں لے گئی اور موقف اپنایا کہ یہ پابندی فرانسیسی آئین میں دی گئی مذہبی آزادی سے متصادم ہے، مگر سترہ رکنی بنچ نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے فرانسیسی حکومت کی نقاب پر پابندی برقرا ر رکھی۔ 2011 میں بلجیم نے عوامی مقامات پر ایسا کوئی بھی کپڑا اوڑھنے پر پابندی لگا دی جس سے پہننے والے / والی کی شناخت میں مشکل پیش آتی ہو، اس پابندی کو بلجیم کی عدالت نے یہ کہہ کر برقرار رکھا کہ اس سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور بعد ازاں یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت نے بھی اِس کی حمایت کی۔ بلجیم کی سوا کروڑ آبادی میں سے کُل دو سو پندرہ عورتیں ہیں جو نقاب سے چہرہ چھپاتی ہیں۔ 2017 میں آسٹریا نے ملک بھر کی عدالتوں اور اسکولوں میں کسی بھی شخص (عورت ) کے نقاب پہننے یا برقع اوڑھنے پر پابندی لگا دی، اِس پابندی کا جواز یہ بتایا گیا کہ عوامی مقامات پر چہرہ چھپانا آزادانہ بات چیت میں رکاوٹ بنتا ہے اور یہ بات کسی بھی آزاد معاشرے کے لئے قابل قبول نہیں۔ آسٹریا کی اٹھاسی لاکھ آبادی میں سے کُل ملاکر ڈیڑھ سو عورتیں نقاب سے چہرہ چھپاتی ہیں۔ اسی سال ہالینڈ نے بھی عوامی مقامات پر کسی بھی انداز میں چہرہ چھپانے پر پابندی عائد کر دی، انتہا پسند ڈچ سیاست دان اس پابندی کا مطالبہ کئی برسوں سے کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑی فتح ہے اور اُن کا اگلا قدم ہالینڈ سے مساجد کا خاتمہ ہوگا۔ ہالینڈ کی پونے دو کروڑ آبادی میں سے تقریباً تین سو عورتیں نقاب سے چہرہ چھپاتی ہیں۔ اسی طر ح ڈنمارک، روس، بلغاریہ، سویٹزرلینڈ، اسپین اور اٹلی میں بھی نقاب اور برقع پر کہیں کہیں پابندی ہے۔ ترکی کی مثال سب سے دلچسپ ہے، یہاں کمال اتا ترک نے عورتوں کے سکارف پر بھی پابندی عائد کر رکھی تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ پابندی ختم ہو گئی تاہم آج بھی ترکی میں فوج اور عدلیہ میں کام کرنے والی خواتین سر پر سکارف نہیں اوڑھ سکتیں۔

مسلمان عورتوں کے نقاب پہننے پر پابندی کے حق میں مغربی ممالک کے دلائل کا خلاصہ یوں ہے کہ نقاب یا برقع اُن کے سیکولر معاشرے کی اقدار سے متصادم ہے، انہوں نے صدیوں کی جدوجہد کے بعد اپنے معاشروں کو آزاد کیا ہے جہاں ہر کوئی برابری کی سطح پر زندہ رہ سکتا ہے، ایسے معاشرے میں نقاب اوڑھنے والی عورتوں کی گنجائش نہیں کیونکہ یہ ایک آزاد سوسائٹی کے تصور سے ناآشنا ہیں، یہ لوگ مغربی ممالک کی سہولتیں تو چاہتے ہیں مگر اُس کے ساتھ وہ ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں جو ایسے معاشروں کو آزاد رکھنے کے لئے ہر شہری کو اٹھانی پڑتی ہے، جب کوئی شخص اپنا چہرہ چھپاتا ہے تو اُس کی شناخت ممکن نہیں رہتی، اِس سے سیکورٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، چہرہ چھپانے والے سے آزادانہ بات چیت کرنا ممکن نہیں رہتا، کیا کسی ایسی محفل کا تصور ممکن ہے جہاں کوئی مرد نقاب پہن کر آ جائے اور وہ سب کو دیکھ سکے مگر اسے کوئی نہ دیکھ سکے، اسی طرح کوئی شخص چہرہ چھپا کر کسی دوسرے کی جگہ عدالت میں گواہی دے سکتا ہے، اسکول میں امتحان دے سکتا ہے، جس کی بہرحال کسی طور اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دوسری جانب مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ملکوں میں سرے سے کوئی نظام ہی قائم نہیں کیا، کہیں انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے تو کہیں عورتوں کو کار چلانے کی اجازت بمشکل ملتی ہے، کہیں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں تو کہیں خانہ جنگی ہو رہی ہے، کہیں آزادیِ اظہار کا گلا گھونٹا جا رہا ہے تو کہیں مذہبی انتہا پسندی نے جینا حرام کر رکھا ہے، کسی ملک میں ڈھنگ کی یونیورسٹیاں ہیں اور نہ کسی اسلامی ملک میں کوئی جدید تحقیق ہو رہی ہے۔ ایسے میں مسلمان جب مغربی ممالک جاتے ہیں تو انہیں بنی بنائی زندگی مل جاتی ہے، ریاست انہیں سوشل سیکورٹی دیتی ہے، اُن کے تعلیمی اداروں میں مسلمان تعلیم حاصل کرتے ہیں، محفوظ معاشرے میں آزادی سے سانس لیتے ہیں اور پھر اُن ’’کافر‘‘ممالک کی شہریت لینے کے لئے ہر قسم کا حلف اٹھانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

اِن تمام باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ مغربی ممالک کا مسلمانوں پر نقاب یا برقع اوڑھنے جیسی پابندی کا فیصلہ درست ہے جس بنیادی اصول پر مغرب کا سیکولر معاشرہ کھڑا ہے، یہ پابندیاں اسی اصول کی نفی میں ہیں، بنیادی اصول یہ ہے کہ سیکولر معاشرے میں مذہب ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہوتاہے اور ریاست اس میں عمل دخل نہیں رکھتی، سو جونہی آپ یہ کہہ کر پابندی لگاتے ہیں کہ کوئی بھی عورت نقاب سے اپنا چہرہ چھپا کر باہر گھوم پھر نہیں سکتی تو اس کا مطلب عملاً آپ نے اسے اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے سے روک دیا، اب یا تو وہ اپنے گھر میں محصور ہو جائے جو کہ یورپ کے مغربی معاشرے کے تصور آزادی سے بالکل اُلٹ بات ہے یا پھر وہ اپنے مذہبی عقائد سے محض اس بنا پر دستبردار ہو جائے کہ ملک کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا، ایسی صورت میں وہ معاشرہ خود کو سیکولر، آزاد اورجمہوری نہیں کہہ سکتا جو ایک اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والی عورت کو اُس کے مذہبی عقائد چھوڑنے پر مجبو ر کردے۔ تاہم اِس دلیل میں وزن ہے کہ ایسی تمام جگہوں پر جہاں شناخت ظاہر کرنا ضروری ہو جیسے سکول، ائیرپورٹ، عدالت وغیرہ وہاں ریاستی اہلکار عورتوں سے نقاب اتارنے کا کہہ سکتے ہیں اور اِس پر کسی مسلمان عورت کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہئے۔ کروڑوں کی آبادی والے مغربی معاشرے میں جہاں چند سو عورتیں نقاب سے چہرہ چھپاتی ہوں او ر اُن کا مکمل ڈیٹا بھی موجود ہو وہاں اُن سے یہ کہہ کر خوف کھانا کہ وہ اُن کے سیکولر اقدار کے لئے خطرے کا باعث ہیں یا اُن کا نقاب اُن کے مظلوم ہونے کی نشانی ہے، ایسی مضحکہ خیز بات ہے جس کا دفاع ممکن نہیں۔ یہ وہ مغربی ممالک ہیں جہاں برہنہ ساحل ہیں، جہاں تعلیمی اداروں میں طلبا آپس میں برہنہ دوڑ کے مقابلے کرتے ہیں اور جہاں عالمگیر شہرت کے فوٹوگرافر لوگو ں کو مشہور مقامات پر جمع کرکے اجتماعی برہنگی کی تصویر بنا کر آرٹ کے نام پر داد وصول کرتے ہیں، اِن معاشروں میں فرض کر لیا گیا ہے کہ عورت اگر برہنہ ہو گی تو empoweredیا خود مختار کہلائے گی اور اگر نقاب اوڑھے گی تو یقیناً مظلوم ہوگی۔ گویا عورت کے کپڑے اتارنے پر پابندی نہیں البتہ وہ کیسے کپڑے پہنے گی، یہ طے کرنا ایک سیکولر اسٹیٹ کا کام ہے، واہ!

کچھ ہمیں بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے، یورپی ممالک کو ہم جس اصول کی بنا پر لتاڑتے ہیں وہ اصول ہم خود پر لاگو کرنے کے لئے تیار نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یورپ ہمیں یہ آزادی دے کہ ہم اپنے مذہبی عقیدے اور کلچر کے مطابق جو چاہیں پہنیں مگر یہ آزادی اور یہ اصول ہم اپنے مسلمان ممالک میں غیرمسلموں کو دینے کو تیار نہیں۔ اسے دوغلا پن کہتے ہیں اور اسی سے چھٹکارے کے لئے ہم مغربی ممالک کی شہریت لینے جاتے ہیں اور وہ اپنی شرائط پر ہمیں رسوا کرکے شہریت دیتے ہیں۔ غلام اور کمزور قوموں کا مقدر ایسا ہی ہوتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں