آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اقدامات سے اپنے ملک کو دنیا میں جس طرح تنہا کرتے چلے جارہے ہیں اسکا تازہ ترین مظاہرہ غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کو دی جانے والی بیس کروڑ ڈالر کی امداد معطل کیے جانے کی شکل میں ہوا ہے۔انکی جانب سے گزشتہ روز جاری کئے گئے ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ غزہ کیلئے مختص یہ امدادی رقم کہیں اور منتقل کردی جائے۔امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدے دار کے بقول اس فیصلے کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ یہ رقم امریکی مفادات کے مطابق استعمال کی جائے لہٰذا اسے اب دوسرے ترجیحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ تاہم امریکی ترجمان نے اس بارے میں کوئی تفصیل بتانے سے گریز کیا ۔ واضح رہے کہ اس تازہ اقدام سے پہلے امریکہ اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطین کو دی جانے والی ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی امداد بھی روک چکا ہے۔ امریکہ کی موجودہ انتظامیہ کا یہ طرز عمل فلسطین اور اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسیوں کے اس انتباہ کے باوجود جاری ہے کہ امداد روک دینے سے عام شہریوں کی زندگی مزید دوبھر ہو جائے گی۔ امریکی حکام غزہ کو امداد کی بندش کا یہ ناقابل فہم جواز پیش کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کو غزہ کو امداد فراہم کرنے میں چیلنجوں کا سامنا ہے جہاں حماس کا غلبہ غزہ کے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور پہلے ہی سے خراب انسانی اور معاشی صورتِ حال کو بدتر بنا رہا ہے۔ جبکہ حماس کی عوامی مقبولیت شکوک و شبہات سے بالاتر ہے ۔ حماس نے انتخابات میں بارہا بھاری عوامی حمایت حاصل کی ہے اور فلسطین کی ایک بڑی اور مسلمہ جمہوری طاقت ہے۔ غزہ کی امداد کی بندش کو تنظیم آزادی فلسطین کی ایک ممتاز رہنما اور رکن پارلیمنٹ حنان اشراوی نے بجاطور پر صدر ٹرمپ کی جانب سے’’ گھٹیا بلیک میلنگ قرار دیا ہے جسے وہ غیر قانونی قبضے میں اسرائیل کی مدد کے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔‘‘ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کی حمایت کو اگرچہ بیشتر ادوار میں بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے لیکن صدر ٹرمپ نے تل ابیب کی جیسی اندھی حمایت کی روش اختیار کی ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی انہوں نے واضح کردیا تھا کہ تنازع فلسطین کے حل میں کسی منصفانہ اور غیرجانبدارانہ کردار کی ادائیگی کے بجائے فلسطینیوں کے مقابلے میں یکطرفہ طور پراسرائیل کی مکمل حمایت کی حکمت عملی اپنائیں گے چنانچہ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ہی سے امریکہ فلسطین تعلقات کی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا اور دونوں ممالک کے درمیان دراڑ اس وقت انتہائی وسیع ہو گئیں جب امریکہ نے دسمبر 2017ء میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ۔یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے سے عالمی برادری کا بھرپور اختلاف اسی سال 18دسمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس فیصلے کیخلاف مصرکی قرارداد کی کونسل کے 14 ارکان کی حمایت کی شکل میں ہوا تھا اور امریکہ نے ویٹو کا اختیار استعمال کرکے اس قرارداد کے نفاذ کو روکا تھا۔صدر ٹرمپ اپنی جن دوسری پالیسیوں سے امریکہ کو دنیا میں تنہا کررہے ہیں ان میں سے ایک ایران سے جوہری معاہدے کی منسوخی بھی ہے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ اس طرح انہوں نے اپنے یورپی اتحادیوں سے بھی اختلاف مول لے لیا ہے۔ چین کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑ کر، شمالی کوریا سے اختلافات بڑھا کر اور روس کے خلاف اقدامات کرکے بھی ٹرمپ امریکہ کی تنہائی میں اضافہ کررہے ہیں جبکہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی بے جا حمایت اور افغانستان میں ناکام امریکی پالیسیوں کے نتائج کو واشنگٹن کے حق میںبدلنے کیلئے پاکستان کے ساتھ دھمکی آمیز طرزعمل اختیار کرکے وہ جنوبی ایشیا میں اپنے ایک ایسے اتحادی کو کھورہے ہیں جو اپنی پوری تاریخ میں امریکہ کا قابل اعتماد حلیف رہا ہے۔ حالات کے اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں میں مثبت تبدیلیاں نہ کیں توکیا تو ان کا دور انکے ملک کیلئے بڑے خسارے کا سودا ثابت ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں