آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وطنِ عزیز کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے کوئی دِن ایسا نہیں جاتا جب بھارت پاکستان کو زک پہنچانے کا کوئی سامان نہیں کرتا۔ بھارتی ہٹ دھرمی کی تازہ ترین مثال لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جند روٹ سیکٹر کے گائوں ندھیری کو بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنانا ہے۔بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک بزرگ شہری شدید زخمی ہوا جبکہ املاک اور مویشیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ بھارت کی آئے دن سرحدی خلاف ورزیوں کے وجہ سے سرحد کے نزدیک رہنے والے شہری خوف و ہراس کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ دفترِ خارجہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت رواں سال اب تک 1300سے زائد مرتبہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کر چکا ہے ، جس کی وجہ سے 52معصوم شہری اب تک اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔بھارتی ہٹ دھرمی اور اشتعال انگیزی کا پاک فوج کو بھی منہ توڑ جواب دینا پڑتا ہے جس پر بھارت سرکار واویلا مچاتی ہے۔ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام پر بھارتی وزیر اعظم کا پاکستانی ہم منصب کو مبارکباد کا فون کرنا اور پاکستان کی طرف سے تمام تر مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی دعوت دینا ، بالخصوص دونوں ممالک اور بالعموم خطے میں قیام امن کیلئے سنگ میل کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے،مگر افسوس پاکستان کی اس امن پسندانہ روش کا جواب معصوم

پاکستانی شہریوں کو فائرنگ کا نشانہ بناکر دینامستقل بھارتی وطیرہ ہے۔آئے دن بھارت کی طرف سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی انتہائی تشویشناک ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مکمل جنگ میں بدل جانے کا خطرہ ہے۔ علاقائی اور عالمی امن کے پیش نظر ضرورت اِس امر کی ہے کہ دہلی سرکار نہ صرف یہ کہ سیز فائر معاہدے کی پابندی کرے بلکہ دریائی پانی ،مسئلہ کشمیر اور دیگر تمام مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی راہ اختیار کرے کہ مسائل کے حل کا یہی درست طریقہ ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں