آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عیدالاضحی گزرگئی ہے حج بھی ہوگیا ہے۔ اللہ پاک سب کو بہت بہت مُبارک کرے اور عبادات قبول فرمائے، آمین۔ آج آپ کی خدمت میں دو دلچسپ، سبق آموز واقعات پیش کرنا چاہتا ہوں اُمید ہے کہ پسند کرینگے۔

(۱) صدقہ کی برکت ۔ اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں صدقہ کی اہمیت اور برکت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اس سے متعلق واقعہ پڑھیے اور اللہ رب العزّت کی قدرت کے کرشموں میں سے ایک چھوٹا سا کرشمہ دیکھئے۔

مصر کا ایک امیر بزنس مین تھا ابھی اس کی عمر صرف پچاس سال کے لگ بھگ تھی کہ ایک دن اس کو دل میں تکلیف کا احساس ہوا، اور جب اس نے قاہرہ کے سب سے بڑے اسپتال میں علاج کرایا تو انہوں نے معذرت کرتے ہوئے اسے یورپ جانے کا کہا، یورپ میں تمام ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد وہاں کے ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ تم صرف چند دن کے مہمان ہو، کیونکہ تمہارا دل کام کرنا چھوڑ رہا ہے۔ وہ شخص بائی پاس کروا کر مصر واپس آگیا اور اپنی زندگی کے باقی دن گن گن کر گزارنے لگا۔ ایک دن وہ ایک دکان سے گوشت خرید رہا تھا جب اس نے دیکھا کہ ایک عورت قصائی کے پھینکے ہوئے چربی کے ٹکڑوں کو جمع کر رہی ہے۔ اُس شخص نے عورت سے پوچھا تم اسے کیوں جمع کررہی ہے؟ عورت نے جواب دیا کہ گھر میں بچّے گوشت کھانے کی ضد کررہے تھے، چونکہ میرا شوہر مر چکا ہے اور کمانے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے اس لئے میں نے بچوں کی ضد سے مجبور ہو کر یہ قدم اٹھایا ہے، اس پھینکی ہوئی چربی کے ساتھ تھوڑا بہت گوشت بھی آجاتا ہے جسے صاف کرکے پکالوں گی۔ بزنس مین کی آنکھوں میں آنسو آگئے اس نے سوچا میری اتنی دولت کا مجھے کیا فائدہ میں تو اب بس چند دن کا مہمان ہوں، میری دولت کسی غریب کے کام آجائے اس سے اچھا اور کیاہے۔ اس نے اسی وقت اس عورت کو کافی سارا گوشت خرید کر دیا اور قصائی سے کہا اس عورت کو پہچان لو، یہ جب بھی آئے اور جتنا بھی گوشت مانگے اسے دے دینا اور پیسے مجھ سے لے لینا۔ اس واقعے کے بعد وہ شخص اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف ہوگیا۔ کچھ دن بعد اسے دل میں کسی تکلیف کا احساس نہ ہوا تو اس نے قاہرہ میں موجود لیبارٹری میں دوبارہ ٹیسٹ کرائے، ڈاکٹروں نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق آپ کے دل میںکوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن تسلی کیلئے آپ دوبارہ یورپ میں چیک اپ کروائیں۔ وہ شخص دوبارہ یورپ گیا اور وہاں ٹیسٹ کرائے، رپورٹس کے مطابق اس کے دل میں کوئی خرابی سرے سے تھی ہی نہیں، ڈاکٹر حیران رہ گئے اور اس سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیا کھایا کہ آپ کی بیماری جڑ سے ختم ہوگئی۔ اُسے وہ گوشت والی بیوہ یاد آئی اور اس نے مسکرا کر کہا، علاج وہاں سے ہوا جس پر تم یقین نہیں رکھتے، بے شک میرے نبی ﷺ نے سچ کہا تھا کہ صدقہ ہر بلا کو ٹالتا ہے۔

(2)حضرت عمر ؓ کی عقل و فہم اور نظام حکومت پوری دنیا میں مثالی مانی جاتی ہے۔ آپ زیادہ معلومات کے لئے مولانا شبلی نعمانی ؒ اور محمد حسین ہیکل کی انگریزی میں حضرت عمر فاروق اعظمؒ پڑھ لیں آپ کو احساس ہوجائے گا کہ وہ کتنی بڑی شخصیت کے مالک تھے۔ آئیے ان کی چند باتیں آپ کو بتاتا ہوں۔

ہم نے بچپن میں پڑھا تھا مقدونیہ کا الیگزینڈر 20 سال کی عمر میں بادشاہ بنا۔ 23 سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا، اسنے سب سے پہلے پورا یونان فتح کیا، اس کے بعد وہ ترکی میں داخل ہوا، پھر ایران کے دارا کو شکست دی، پھر وہ شام پہنچا، پھر اس نے یروشلم اور بابل کا رخ کیا، پھر وہ مصر پہنچا، پھر وہ ہندوستان آیا، ہندوستان میں اس نے پورس سے جنگ لڑی، اپنے عزیز از جان گھوڑے کی یاد میں پھالیہ شہر آباد کیا، مکران سے ہوتا ہوا واپسی کا سفر شروع کیا، راستے میں ٹائیفائڈ میں مبتلا ہوا اور 323 قبل مسیح میں 33 سال کی عمر میں بخت نصر کے محل میں انتقال کرگیا۔ دنیا کو آج تک بتایا گیا وہ انسانی تاریخ کا عظیم جرنیل،فاتح اور بادشاہ تھا اور تاریخ نے اس کے کارناموں کی وجہ سے اسے الیگزینڈر دی گریٹ کا نام دیا اور ہم نے اسے سکندر اعظم یعنی بادشاہوں کا بادشاہ بنادیا، لیکن آج اکیسویں صدی میں پوری دنیا کے مورخین کے سامنے یہ سوال رکھتا ہوں کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے الیگزینڈر کو سکندر اعظم کہلانے کا حق حاصل ہے؟ میں دنیا بھر کے مورخین کو سکندر اعظم اور حضرت عمر فاروق ؓ کی فتوحات اور کارناموں کے موازنے کی دعوت دیتا ہوں، آپ بھی سوچئے۔

الیگزینڈر بادشاہ کا بیٹا تھا، اسے دنیا کے بہترین لوگوں نے گھڑ سواری سکھائی، اسے ارسطو جیسے استادوںکی صحبت ملی تھی اورجب وہ بیس سال کا ہوگیا تو اسے تخت اور تاج پیش کردیا گیا، جب کہ اس کے مقابلے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی 7 پشتوں میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا تھا، آپ بھیڑ بکریاں اور اونٹ چراتے چراتے بڑے ہوئے تھے اور آپ نے تلوار بازی اور تیراندازی بھی کسی اکیڈمی سے نہیں سیکھی تھی۔ سکندر اعظم نے آرگنائزڈ آرمی کے ساتھ 10 برسوں میں17 لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا تھا، جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے 10 برسوں میں آرگنائزڈ آرمی کے بغیر 22 لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا ،اس میں روم اور ایران کی دو سپر پاور بھی شامل تھیں۔آج کے سیٹلائٹ، میزائل اور آبدوزوں کے دور میں بھی دنیا کے کسی حکمراںکے پاس اتنی بڑی سلطنت نہیں جو حضرت عمر فاروق ؓ نے نہ صرف گھوڑوں کی پیٹھ پر فتح کرائی تھی، بلکہ اس کا انتظام و انصرام بھی چلایا تھا، الیگزینڈر نے فتوحات کے دوران اپنے بے شمار جرنیل قتل کرائے، بے شمار جرنیلوں اور جوانوں نے اس کا ساتھ چھوڑا، اس کے خلاف بغاوتیں بھی ہوئیں اور ہندوستان میں اس کی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار بھی کردیا،لیکن حضرت عمر فاروق ؓ کے کسی ساتھی کو ان کے حکم سے سرتابی کی جرأت نہ ہوئی۔ وہ ایسے کمانڈر تھے کہ آپ نے عین میدان جنگ میں عالم اسلام کے سب سے بڑے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید ؓ کو معزول کردیا اور کسی کو یہ حکم ٹالنے کی جرأت نہ ہوئی۔ آپ نے حضرت عمر بن العاص ؓ کو کوفے کی گورنری سے ہٹا دیا۔ آپ نے حضرت حارث بن کعب ؓ سے گورنری واپس لے لی۔ آپ نے حضرت عمرو بن العاص ؓ کا مال ضبط کرلیا اور آپ نے حمص کے گورنر کو واپس بلا کر اونٹ چرانے پر لگا دیا، لیکن کسی کو حکم عدولی کی جرأت نہ ہوئی۔

الیگزینڈر نے 17 لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا، لیکن دنیا کو کوئی نظام، کوئی سسٹم نہ دے سکا، جب کہ حضرت عمرفاروقؓ نے دنیا کو ایسے سسٹم دیئے جو آج تک پوری دنیا میں رائج ہیں۔ آپ نے (1) سن ہجری کا اجرا کیا، (2) جیل کا تصور دیا، (3) مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں، (4) مسجدوں میں روشنی کا بندوبست کرایا، (5) پولیس کا محکمہ بنایا، (6) ایک مکمل عدالتی نظام کی بنیاد رکھی، (7) آب پاشی کا نظام قائم کرایا، (8) فوجی چھائونیاں بنوائیں اور فوج کا باقاعدہ محکمہ قائم کیا۔ (جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں