آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فروری 2018ء میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے پیرس اجلاس میں دہشت گرد فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے ناکافی اقدامات پر پاکستان کا نام دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کردیا تھا۔ اس لسٹ میں پاکستان سمیت 9 ممالک ایتھوپیا، سری لنکا، شام، یمن، سربیا، تیونس اور ٹرینڈاڈ اینڈ ٹوباگوشامل ہیں۔ FATF ایک انٹرنیشنل ادارہ ہے جو دنیا میں دہشت گرد فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے اقدامات کرتا ہے۔ اس ادارے نے گرے اور بلیک لسٹ مرتب کی ہیں جن میں دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے خلاف کمزور ریکارڈ رکھنے والے ممالک کے نام شامل ہیں۔ ادارے کی بلیک لسٹ میں وہ ممالک شامل ہوتے ہیں جو منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں اور قانون سازی کے حوالے سے عالمی اداروں سے تعاون نہیں کررہے۔ پاکستان 2012ء سے 2015ء تک FATF گرے لسٹ میں شامل تھا لیکن بعد میں پاکستان کا نام اس لسٹ سے نکال دیا گیا تاہم FATF نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ عسکریت پسندوں کی فنڈنگ پر پاکستان کا نام دوبارہ اس لسٹ میں ڈالا جاسکتا ہے۔

24 سے 29 جون کو پیرس میں ہونے والے FATF کے ICRG جائزہ اجلاس جس میں نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے پاکستانی وفد کے ہمراہ شرکت کی تھی، میں پاکستان کا نام ’’گرے لسٹ‘‘ سے نکالنے کیلئے 150 صفحات پر مشتمل 26 نکاتی ایکشن پلان 10 ترجیحات کے ساتھ پیش کیا گیا تھا جس پر 31 اگست 2018ء تک عملدرآمد کرنا تھا اور عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کا نام ’’گرے لسٹ‘‘ سے ’’بلیک لسٹ‘‘ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے اجلاس کو بتایا تھا کہ پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور موجودہ قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے ترامیم بھی کی ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے 24 جولائی سے اندرون ملک کیش کرنسی کی نقل و حمل اور اوپن اکائونٹ پر پابندی لگادی ہے جس سے بلیک منی کے پھیلائو کو روکنے میں مدد ملے گی۔ اسٹیٹ بینک کے ڈالر کی بیرون ملک بالخصوص افغانستان اسمگلنگ روکنے کیلئے کئے گئے ان اقدامات کی وجہ سے مارکیٹ میں ڈالر کی خرید اور طلب میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔

پاکستان کے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء، فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947ء، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ، پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ 1992ء، پروٹیکشن آف فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت کوئی بھی بیرون ملک مقیم غیر رہائشی پاکستانی بیرون ملک اپنے اثاثوں کو ظاہر کئے بغیر رکھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی سرمایہ کاری اور آمدنی پاکستان سے نہ ہو۔ اسی طرح فارن ایکسچینج قوانین کے تحت پاکستان میں قانونی طور پر حاصل کی گئی آمدنی کو اسٹیٹ بینک کی منظوری کے بغیر غیر ملکی کرنسی میں بیرون ملک منتقل کیا جاسکتا تھا جس سے وہ بیرون ملک اپنے قانونی اثاثے بناسکتے تھے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے سیکشن III(4) کے تحت بیرون ملک سے بینکنگ چینل کے ذریعے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم بغیر ذرائع آمدنی پوچھے قانونی تسلیم کی جاتی تھیں لیکن ان قوانین کا غلط استعمال کیا گیا اور اربوں ڈالر فارن کرنسی اکائونٹ کے ذریعے بیرون ملک بھیجے گئے مگر FATF کی گائیڈ لائن کے تحت حالیہ بجٹ میں ان قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے اور اب پاکستان سے بینکوں کے ذریعے فارن کرنسی بیرون ملک بھیجی نہیں جاسکے گی۔

’’گرے لسٹ‘‘ سے پاکستان کا نام نکالنے کے سلسلے میں FATF ایشیاء پیسفک گروپ (APG) کی 6 رکنی ٹیم نے 13 اگست 2018ء کو وزارت خزانہ، نیب، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، ایف آئی اے، نیکٹا اور مختلف سیکورٹی اداروں کے حکام سے ملاقاتیں کیں جس میں کراس بارڈر کیش منی لانڈرنگ پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور FATF کے 26 نکاتی ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا۔ان نکات پر عملدرآمد کیلئے عبوری حکومت نے ایکشن پلان کی منظوری دی تھی جس کی بنیاد پر اسمگلنگ روکنے کیلئے سزائوں اور جرمانوں میں اضافہ، اینٹی منی لانڈرنگ آرڈیننس 2010ء اور فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947ء میں مطلوبہ ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ SECP اور اسٹیٹ بینک نے بھی اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پر عملدرآمد کیلئے سخت اقدامات اٹھائے ہیں جس کے بعد منی لانڈرنگ میں ملوث افراد اپنی شناخت نہیں چھپاسکیں گے اور بینکوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اکائونٹ کے حقیقی مالک کی شناخت کریں۔

حکومت کو بھی یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ جنوری 2019ء تک دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کی مالی امداد میں ملوث افراد اور خیراتی اداروں کے اثاثوں کی شناخت کرکے اُسے اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے شیئر کرے جس کیلئے حکومت کو یکم ستمبر 2018ء سے 31 اکتوبر 2019ء تک کا وقت دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نجی بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو بھی اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے بارے میں معلومات اور ٹریننگ فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ ان تمام اقدامات پر عملدرآمد کیلئے تحریک انصاف کی نئی حکومت کو پارلیمنٹ میں قوانین میں تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام دوبارہ شامل کئے جانے کے بعد اس کا رسک پروفائل بڑھ جاتا ہے، پاکستانی بینکوں کے ذریعے رقوم کے تبادلے مشکل ہوجاتے ہیں اور بیرونی سرمایہ کار تجارتی قانونی خدشات کے پیش نظرپاکستان کے ساتھ کاروبار سے گریز کرتےہیں۔ اس کے علاوہ عالمی مالی اداروں سے فنانسنگ مشکل اور مہنگی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے عالمی ریٹنگ ادارے پاکستان کی ریٹنگ میں کمی کرسکتے ہیں۔ دنیا بھر میں آج کل عالمی ریگولیٹرز بینکوں کو منی لانڈرنگ کے قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے پر کروڑوں ڈالر جرمانہ کررہے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان کے ایک بڑے مالی ادارے حبیب بینک کو نیویارک میں بینکنگ سیکٹر کی نگرانی کرنے والے امریکی ادارے نے 225 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا جس کی وجہ حبیب بینک کا منی لانڈرنگ قوانین کے خلاف سرگرمیاں تھیں۔ اس جرمانے کے بعد حبیب بینک امریکہ میں اپنا آپریشن بند کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک اور بارکلے بینک جو زیادہ تر کارپوریٹ صارفین کے ساتھ کاروبارہ کرتے ہیں،نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے شدید دبائو کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ہائی رسک ممالک میں اپنے آپریشنز محدود کردیئے ہیں۔ ہانگ کانگ میں مشاورتی کمپنی کوئنلان ایسوسی ایٹس کے مطابق امریکی واچ ڈاگز نے اینٹی منی لانڈرنگ کے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد نہ کرنے پر گزشتہ 8 سالوں میں 16 ارب ڈالر کے جرمانے عائد کئے ہیں۔

بھارت اور امریکہ پہلے دن سے سی پیک منصوبوں میں عالمی سرمایہ کاری سے خوش نہیں اور ان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ خطے میں چین اور پاکستان علاقائی برتری حاصل نہ کرسکیں۔ گرے لسٹ میں پاکستان کا نام ڈالنے کا مقصد پاکستان پر دبائو ڈالنا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہو۔ میرے نزدیک دہشت گرد فنانسنگ کی بنیاد پر گرے لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کرانا بھارت اور امریکہ کا ایک سیاسی انتقام ہے۔ پاکستان کا نام ’’گرے لسٹ‘‘ سے نکالنے کیلئے جنوری 2019ء میں جائزہ لیا جائے ہوگا لیکن اس سے قبل FATF کی ٹیم اپنے 26 نکات پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے پاکستان کا دوبارہ دورہ کرے گی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ نئی جائزہ رپورٹ پر فیصلے سے پہلے FATF ممالک کو پاکستان کی دہشت گرد فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے کئے گئے اقدامات کو موثر طریقے سے پیش کرے بصورت دیگر پاکستان کا نام ’’بلیک لسٹ‘‘ میں شامل کیا جاسکتا ہے جس کی ہماری معیشت متحمل نہیں ہوسکتی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں