آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کیا ہم مسلمان کہلوانے کے مستحق ہیں؟ اللہ سبحانہ و تعالٰی کا نام تولیتے ہیں مگرعمل اُس کے بالکل برعکس ہیں جس کا وہ حکم دیتا ہے۔کہتے تو ہیں کہ اسلام ہمارا دین ہے مگر ہر معاملے میں لادینی اور اسلام مخالف قوّتوں کی بات مانتے ہیں۔قرآن حکیم کو اللہ کی کتاب تو مانتے ہیں مگر اس کواپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر نافذ کرنے کے بجائے خوبصورت غلافوں میں لپیٹ کر طاقوں میں سجانے، تعویذوں میں گھول کر پلانے، دلہنوں کے سر پر سے گزارنے، اپنے جھوٹ سچ پر دوسروں کے یقین کے لیے قسم اُٹھانے کے لیے محدود کر دیا ہے۔ حضرت محمدﷺ کو اللہ کا آخری نبی تو مانتے ہیں مگر اس پاک ہستی کے احکامات کو بھی بھلا بیٹھے ہیں۔ ذرا غور فرمائیے کہ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ قتل کا بدلہ قتل یعنی قصاص ہے۔ اللہ تعالٰی سورة البقرة میں بیان فرماتے ہیں ” اے عقل والو!تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے تا کہ تم پرہیز گار بن سکو۔“ اللہ تعالٰی نے قاتل کے لیے قصاص کی حد مقرر کر دی مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کا حال دیکھیں کہ اقوام متحدہ اور یورپین یونین کے مطالبہ پر گزشتہ چار سال سے (قصاص) موت کی سزایہاں معطل رہی۔ اسلام کے بدترین دشمنوں اور اسلامی شعائر اور نبیﷺ کی شان میں آئے دن گستاخی کرنے والوں کی خوشی کے لیے قرآن اور سنّتِ رسول ﷺ سے کھلا انحراف

کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ سے پوچھا گیا اور نہ ہی کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا۔ جب سے آصف علی زرداری صدر بنے، صرف ایک قاتل کو گزشتہ ہفتہ پھانسی دی گئی اور وہ بھی اس لیے کہ قاتل کا تعلق فوج سے تھا اور فوج کی طرف سے یہ مطالبہ تھا کہ اُس کو پھانسی دی جائے۔ جیسے ہی گزشتہ چار سال میں یہ پہلی پھانسی دی گئی تو فرانس اور پھر یورپی یونین نے حکومت پاکستان سے اپنی خفگی کا اظہار کیا اور یہ تک کہہ دیا کہ پاکستان میں قصاص (سزائے موت)کو اگر ختم نہ کیا گیا تو ہمیں معاشی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ان دھمکیوں پر حکومت بولی اور نہ ہی دفتر خارجہ کو کچھ کہنے کی ہمت ہوئی۔ یہاں بھی محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اپنے رب کی بجائے جیسے ہم نے امریکا و یورپ کو اپنا رازق تسلیم کرلیا ہے۔زبان سے ہم جو مرضی کہیں، ہمارے معاملات روز بروز اُن اسلامی تعلیمات کے برعکس بڑھتے جا رہے ہیں جوبحیثیت مسلمان ہمارے لیے حتمی ہیں۔ ہم نے تو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ کی حدوں کا خیال نہ کیا، محض اس لیے کہ کہیں ہمارے دنیاوی خدا ہم سے خفا نہ ہو جائیں۔ مگر ہندوؤں کے ملک انڈیا کو دیکھیں اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ بات یقینی ہے کہ ہندوستان کی ”انسانی حقوق“ کی خلاف ورزی پرنہ تو فرانس کچھ بولے گا اور نہ ہی یورپی یونین کی جرأت ہو گی کہ پاکستان کی طرح ہندوستان کو بھی دھمکا دے۔ ہمارے جیسے آدھے تیتر آدھے بٹیروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ہماری مثال دھوبی کے کتے کی سی ہے جو گھر کا ہے نہ گھاٹ کا۔امریکا میں بھی کئی ریاستوں میں سزائے موت دی جاتی ہے مگر کسی اقوام متحدہ یا یورپی یونین کی کیا ہمت کہ امریکا بہادر پر کوئی اعتراض کریں۔ ہمارے اپنے نام نہاد انسانی حقوق کے علم بردار بھی ہمیں پر برستے ہیں۔ اُن کی زبانیں بھی امریکا و ہندوستان کے سامنے گنگ ہو جاتی ہیں۔اپنا حال دیکھیں کہ اسلام سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے سزاؤں کا کتنا با اثر نظام دیتا ہے مگر مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہم میں حوصلہ نہیں کہ ان سزاؤں کو لاگو کر سکیں۔ خوف ہے کہ نہ جانے امریکا و یورپ کیا کہیں گے۔ اسلامی سزاؤں کے اصل حل کی طرف جانے کی بجائے ہم پاکستان کو اسلحہ سے پاک کرنے کے ناممکن کو ممکن بنانا چاہتے ہیں۔ ایران کو چھوڑیں، سعودی عرب کی بھی بات نہیں کرتے کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ملا عمر نے افغانستان میں اپنی پانچ سالہ حکومت میں جرائم کا کیسے خاتمہ کیا تھا اور وہ کیا اقدامات تھے کہ وہ افغانستان جو بدترین جھگڑوں، اندرونی خلفشار اور جرائم کا گڑھ تھا، امن کاگہوارا بن گیا۔انہوں نے انتہائی بُرے حالات میں حکومت سنبھالی، پولیس کا کوئی نظام تھا نہ ہی پروسیکیوشن سسٹم، نہ ہی عدالتوں کا جال تھا مگر اس سب کے باوجود دنوں اور ہفتوں میں افغانستان میں ایسے حالات پیدا کر دیے کہ قتل، ڈکیتی، چوری چکاری، زنا اور اغوا جیسے جرائم کا نام و نشان مٹ گیا۔ دنیا میں ہیروئین اور کوکین کی پیداوار میں سرفہرست ممالک میں شامل افغانستان میں ان کی پیداوار بلکل ختم کر دی گئی۔ ملا عمر کی حکومت کے کچھ اقدامات پر اعتراض اپنی جگہ مگر اسلامی سزاؤں کے ذریعے دنیا کی غریب ترین حکومت نے جرائم کی روک تھام کے لیے وہ کچھ کر دکھایا جو مغرب و امریکا اپنی تمام تر دولت اور جدید کریمنل جسٹس سسٹم کے باوجودنہیں کر پائے۔چند روز قبل ایک ٹی وی شو میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر حضرات نے پاکستان میں جرائم کی روک تھام کے لیے اسلامی سزاؤں کی مکمل حمایت کی۔ مگر اکثر سیاستدان ڈالروں کی لالچ میں اسلامی حدوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے اُن نام نہاد انسانی حقوق کے علم بردار اور سیکولرازم کے پیروکاروں سے ڈرتے ہیں جو پاکستان میں جرائم پیشہ افراد اور عادی مجرموں کے وکیل بن بیٹھے ہیں۔ دھشتگردی کرکے درجنوں معصوموں کی جان لینے والے، بے رحم ٹارگٹ کلرز، اجرتی قاتل، پیسہ کی لالچ میں انسانوں کو قتل کرنے والے چور، ڈاکو، بھتہ خور، اغوا کار،موبائل و پرس چھیننے والے اور فرقوں اور لسانی تفریق پر دوسروں کی جان لینے والے کسی رحم کے مستحق نہیں اور وہ اسی قابل ہیں کہ انہیں سرِعام پھانسی دے کر نشانِ عبرت بنایا جائے جو سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگر ہم نے ظالموں اور فسادیوں کا ہاتھ روکنا ہے تا کہ روز روز ہماری ماؤں کی گودیں نہ اجڑیں، بچے یتیم نہ ہوں، عورتیں بیوگی کے دکھ سے بچیں ، بوڑھے والدین اپنے بچوں کے جنازوں کو کاندھا دینے پر مجبور نہ ہوں، ہمارے قبرستانوں میں دفن میتوں کی بے حرمتی نہ کی جائے، چھوٹی بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل جیسے واقعات پیش نہ ہوں اور معاشرے میں درندگی کی نئی نئی داستانیں جنم نہ لیں تو ہمیں اس بیماری کے علاج کے لیے وہی دوا استعمال کرنی ہے جو ہمارے دین نے ہمیں سکھائی اور جس کا کوئی برابر نہیں ہو سکتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں