آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں عطا آباد میں جھیل گومل کے قریب کھڑا خوفِ الٰہی سے کانپ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ہم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائیں گے، ہمارے رب نے تو ہمارے لیے جنت اس خطہ ارض پر اتار دی ہے، مملکت خداداد پاکستان کا وجود یقیناً اللہ تعالیٰ کی ہزاروں نعمتوں میں سے ایک بڑی اہم اور خاص الخاص نعمت ہے، اہلِ پاکستان اللہ تبارک و تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہی رہے گا۔ دنیا کی کون سی زرعی معدنیاتی اور ماحولیاتی نعمت ہے جو پاکستان کو میسر نہیں، دنیا کے بیشتر ممالک میں قدرت کی مہربانی سے اگر کچھ نعمتیں ہوتی ہیں تو کچھ نہیں ہوتیں، خطۂ پاکستان میں بلند و بالا پہاڑ، گرم ترین طویل ریگستان، پانی کے پانچ دریا جو زراعت اور زندگی کے لیے انتہائی اہم اور کار آمد ہیں، ماحولیاتی نعمتوں میں دنیا کے خوبصورت ترین عالمی سطح کے سیاحتی مقامات، وطن عزیز کا حدود اربعہ اور محل وقوع جو ہر طرح اور ہر طرف سے عالمی طاقتوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ معدنی نعمتوں میں تیل، گیس کی دولت دنیا کا بہترین ماربل تانبہ، سونا، یورنیم، لوہا اور کون سی معدنی نعمت ہے جو اس خطے میں نہیں ہے یقیناً اللہ نے ہمیں ایک بہترین خطہ عنایت کیا ہے، ہمارے کسی پڑوسی کو بھی ایسے موسم ایسی نعمتیں میسر نہیں ہیں۔ چار جنوری سن دو ہزار دس کا دن یوں تو ہمارے خطے کے لیے بڑا قیامت خیز دن تھا، زلزلے نے گلگت، بلتستان کے علاقے گومل میں بڑی تباہی مچائی تھی چین سے جو رابطہ شاہراہ قراقرم کے ذریعہ قائم تھا وہ ٹوٹ گیا تھا، سڑک کا ایک بڑا حصہ اس زلزلہ کی نذر ہوگیا تھا کیونکہ زلزلے نے پہاڑوں کو اُن کی جگہ سے ہلا دیا تھا پہاڑ کے ایک بڑے تودے نے دریائے ہنزہ کا رستہ روک دیا، دریا کا بہاؤ تقریباً چار ماہ رکا رہا جس سے قدرت کا حسین شاہکار ایک بڑی جھیل نے جنم لیا‘ اللہ بڑا ہی مسبب الاسباب ہے، وہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان رحم کرنے والا ہے، وہ اگر ایک دروازہ بند کرتا ہے تو اس سے پہلے نیا دروازہ کھول دیتا ہے۔ عطا آباد جو گلگت سے تقریباً ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلے اور ہنزہ کے علاقے کریم آباد سے تقریباً چودہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے لینڈ سلائڈنگ کے باعث بننے والی اس قدرتی جھیل کی لمبائی اکیس کلومیٹر ہے، یہ جھیل چار جنوری دو ہزار دس سے پہلے کہیں موجود نہیں تھی لیکن اب ایک بڑے آبی ذخیرے کے طور پر دیکھی جاتی ہے، اس جھیل کے بننے کی وجہ سے شاہراہ قراقرم کا خنجراب پاس کا رستہ مسدود ہوگیا تھا خنجراب جانے کے لیے کافی عرصے تک کشتیوں کے ذریعے آمدورفت ہوتی رہی، بڑی بڑی کشتیوں کے ذریعے مال بردار ٹرک اور مسافر سفر کرتے رہے اب چین کے تعاون سے پہاڑ کاٹ کر سرنگوں کے ذریعے خنجراب کا رستہ بحال کردیا گیا ہے، اب تمام ٹریفک ان ہی سرنگوں، سڑکوں کے ذریعے خنجراب اور اس سے آگے جارہا ہے، عطا آباد یا گومل جھیل ایک بڑا قدرتی ذخیرہ آب ہے، اس سے اگر چاہیں تو بھرپور فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے اس جھیل پر اگر ڈیم بنا لیا جائے تو جھیل سے پاکستان کے آبی اور برقی مسائل بہ آسانی حل ہوسکتے ہیں ایک اندازے کے مطابق اس پر لاگت کالا باغ ڈیم سے کم آئیگی کیونکہ پانی ذخیرہ کرنے کا انتظام قدرتی طور پر ہوچکا ہے، صرف ڈیم بنانے کی لاگت آئے گی، بھارت جو وطن عزیز کو پانی کی مار مارنا چاہ رہا ہے وہ منہ دیکھتا رہ جائے گا دریائے ہنزہ کا رخ کشمیر سے بھارت کی طرف ہے بھارت جو ضرورت سے زائد پانی جب جی چاہتا ہے ہمارے دریاؤں میں چھوڑ کر وطن عزیز کو سیلاب کا شکار کردیتا ہے اس کا جواب بھی اس جھیل سے دیا جاسکتا ہے ہمارے تمام سابقہ حکمران جانے کیوں خواب غفلت میں اب تک مبتلا رہے ہیں اور وطن عزیز کو ملنے والے پانی کو سمندر برد کرتے رہے ہیں، اسے استعمال میں لانے کے لیے کسی ڈیم کا بندوبست نہیں کرسکے جبکہ ہمارا ازلی دشمن بھارت جو میدان جنگ میں آمنے سامنے آنے سے خوف زدہ ہے اس نے اب ہمارے وطن عزیز کو پانی کی مار مارنے کی منصوبہ بندی کی ہے اُن کا خیال ہے کہ ہمارا پانی ڈیم پر ڈیم بنا کر روکنے سے پاکستان پانی کے لیے ہمارے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا اس لیے بھارت ہمارے حصے کے پانی پر زبردستی ڈیم پر ڈیم بنا کر قابض ہورہا ہے بھارت کے مذموم عزائم کو سمجھتے ہوئے جناب چیف جسٹس آف پاکستان نے اس سمت خصوصی توجہ مرکوز کی ہے، ڈیم کی تعمیر کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا ہے، اس میں پاکستانی عوام بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ موجودہ نئی حکومت کے منتخب وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی حکومتی تقریر میں جو دس نکات عوام کے سامنے پیش کئے ہیں اُن میں پانی کے مسئلے پر بھی اپنی فکر اور تشویش کا اظہار کیا ہے، پانی ذخیرہ کرنے، ڈیم کی تعمیر کا ارادہ بھی بیان کیا ہے، وزیراعظم عمران خان سیاحت کے شوقین ہیں انھوں نے قدرتی طور پر بننے والی گومل جھیل کو یقیناً دیکھا ہوگا انہیں اس کے سلسلے میں کسی بریفنگ کی ضرورت بھی نہیں ہوگی اس جھیل پر فوری منصوبہ بندی کرکے تعمیری کام شروع کیا جاسکتا ہے یقیناً یہ منصوبہ آسان ہوگا اس پر لاگت بھی دوسرے کسی منصوبے سے کہیں کم آئے گی اگر یوں کہا جائے کہ آم کے آم گٹھلیوں کے دام تو غلط نا ہوگا۔ گلگت سے اگر شاہراہ قراقرم کے راستے سفر کیا جائے تو ہمیں ہر طرف قدرت کے بے پناہ حسین نظارے ہی نظارے نظر آتے ہیں، ایک طرف سرسبز شاداب بلندو بالا پہاڑ تو دوسری طرف دریائے ہنزہ بہہ رہا ہوتا ہے دور تک پھیلے کھیت پھلوں سے لدے باغات جن کی مہک سے ماحول مہک رہا ہوتا ہے جگہ جگہ پہاڑوں سے نکلتے آبشار وہیں عطا آباد جھیل اپنے حسن وجمال کے ساتھ آنے والوں کا استقبال کرنے کے لیے موجود ملتی ہے، اس جھیل کے ملکوتی حسن کو لفظوں میں قید نہیں کیا جاسکتا اس کا نظارہ کرنے والے تا دیر اس کے حسن میں کھو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اگر شاہراہ قراقرم کا راستہ روکا ہے تو اس کے صلے میں ہمیں ایک بڑا پانی کا ذخیرہ بھی عنایت کیا ہے۔ اگر غور وفکر کیا جائے تو ہمیں اپنے ایسے دشمن سے نمٹنے کا ہتھیار فراہم کردیا ہے جو ہمیں پانی کی مار مارنا چاہتا ہے، اگر ڈیم کی تعمیر کے لیے جھیل کو خالی کیا گیا تو بھارت کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔

ہمارے نئے حکمران جو ہر طرف ہر طرح کچھ نا کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں وہ اگر آبی منصوبے پر عمل کر گزرتے ہیں تو اپنا نام پاکستان کی تاریخ میں سنہری حرف میں لکھوا سکتے ہیں اور اُنکا ابتدائی ایجنڈا بھی آگے بڑھ سکے گا عوام سے کیے گے وعدوں کا بھرم بھی رہ جائے گا‘ اللہ ہمارے وطن کی ہر طرح سے حفاظت فرمائے اور اہل وطن کا حامی وناصر ہو، آمین۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں