آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اسمبلی کے ارکان کی حلف برداری‘ اسپیکر‘ڈپٹی اسپیکر اور قائدِ ایوان کے انتخاب کے بعد‘ پاکستان اپنے جمہوری سفر کے تیسرے دور میں داخل ہو چکا ہے، جس کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے دورِ آمریت کے خاتمے کے بعد ہوا تھا۔نئی منتخب اسمبلی پاکستان کی پندرہویں اسمبلی ہے‘ اس اسمبلی کے بارے میں کچھ لکھنے سے قبل مناسب ہوگا کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے کچھ اہم حقائق بیان کردیے جائیں تاکہ موجودہ نسل کو معلوم ہوسکے کہ ہم نے اپنے جمہوری سفر کاآغاز کس طرح کیا تھا۔پہلی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 اگست 1947ء کو کراچی میں جوگندر ناتھ منڈل کی عبوری صدارت میں ہوا، جن کا نام لیاقت علی خان نے پیش کیا تھا۔اس اجلاس میں اسمبلی کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی گئی اور اسمبلی کے مستقل صدر کے انتخاب کا طریقۂ کار طے کیا گیا۔اس عُہدے کے لیے صرف قائداعظم کے کاغذاتِ نام زدگی موصول ہوئے‘ اس طرح قائداعظم 11 اگست کو دستور ساز اسمبلی کے بلامقابلہ صدر منتخب ہوگئے۔یہ دستور ساز اسمبلی‘ ایسے ارکان پر مشتمل تھی، جن کا تعلق پاکستان میں شامل ہونے والے علاقوں سے تھا اور جو متحدہ ہندوستان میں 1946ء کے عام انتخابات میں منتخب ہوئے تھے‘ ان میں ہندو‘ سکھ اور مسیحی ارکان بھی تھے، جن میں سے کچھ کا تعلق آل انڈیا کانگریس سے تھا۔پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان‘ مشرقی بنگال سے منتخب ہوئے تھے۔ یہ دستور ساز اسمبلی 10 اگست 1947 ء سے 24 اکتوبر 1954 ء تک قائم رہی‘ اس عرصے کے دوران قائداعظم‘ خواجہ ناظم الدّین اور ملک غلام محمد گورنر جنرل کے منصب پر اور لیاقت علی خان‘خواجہ ناظم الدین اور محمد علی بوگرہ وزارتِ عظمیٰ کے عُہدے پر فائز رہے۔

پاکستان کی پندرہویں اسمبلی 25 جولائی 2018 ء کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے بعد وجود میں آئی۔13 اگست کو اراکین نے حلف اٹھایا‘ آئینِ پاکستان کے مطابق گزشتہ اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے ارکان سے حلف لیا اور خود بھی رکن قومی اسمبلی کے طور پر حلف اٹھایا۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے 15 اگست کو خفیہ رائے شماری ہوئی۔تحریکِ انصاف کے اسد قیصر اور قاسم سوری بالترتیب 176 اور 183 ووٹ لے کر کام یاب قرار پائے اور پھر 17 اگست کو، جو جنرل ضیاء الحق کے یومِ وفات کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے‘قومی اسمبلی نے 176 ووٹ کی اکثریت سے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کو قائدِ ایوان چن لیا‘اُن کے مدّ مقابل پنجاب کے سابق وزیرِ اعلیٰ، شہباز شریف صرف 96 ووٹ لے سکے، پیپلزپارٹی اور جماعتِ اسلامی کے ارکان نے رائے شماری میں حصّہ نہیں لیا۔ دوسرے روز 18 اگست کو عمران خان نے ایوانِ صدر میں وزیر اعظم کے عُہدے کا حلف اٹھایا، یہ تاریخ بھی یادگار ہے کہ دس سال پہلے اسی روز جنرل پرویز مشرف استعفا دے کر بہ حسرت و یاس ایوانِ صدرسے رخصت ہوئے تھے۔ عمران خان قومی اسمبلی کے پانچ حلقوں سے منتخب ہوئے، جو ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل، صرف ذوالفقار علی بھٹو چار نشستوں پر کام یاب ہوئے تھے اور ایک نشست پر مولانا فضل الرحمٰن کے والد، مفتی محمود سے ہارگئے تھے۔ عمران خان نے میاں والی کی نشست اپنے پاس رکھی ہے۔ عمران خان کی زندگی میں 22 کا عدد خاص اہمیت کا حامل ہے، اُنھوں نے 22 رنز کی برتری سے ورلڈ کپ جیتا تھا، بائیس سال تک سیاسی جدوجہد میں حصّہ لیا اور صرف ایک نشست سے 176 ووٹ کا سفر طے کرنے کے بعد اب پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم ہیں۔

موجودہ قومی اسمبلی‘اس اعتبار سے ماضی کی اسمبلیوں سے مختلف کہی جاسکتی ہے کہ متعدد قدآور سیاسی شخصیات‘ اس کا حصہ نہیں ہیں۔ جو گزشتہ کئی برسوں سے اس ایوان کی زینت ہوا کرتی تھیں۔ان میں سرِفہرست جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ، مولانا فضل الرحمٰن ہیں، جنہوں نے اپنے آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سے حلقہ این اے 38 اور حلقہ این اے 39 سے انتخابات میں حصّہ لیا، مگر دونوں نشستوں پر ہار گئے۔ایسا ہی معاملہ جماعتِ اسلامی کے امیر، سینیٹر سراج الحق کے ساتھ ہوا۔ وہ حلقہ این اے 7لوئردیر سے امیدوار تھے، مگر اُنہیں بھی شکست ہوئی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ، اسفند یار ولی خان بھی قومی اسمبلی نہ پہنچ سکے۔ قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیرپائو اور اے این پی کے رہنما، غلام احمد بلور بھی قومی اسمبلی کے فلور پر موجود نہیں ہوں گے۔متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما، فاروق ستار‘ ماضی میں پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں، لیکن اس بار وہ بھی اسمبلی سے غائب ہیں۔دو سابق وزرائے اعظم یوسف رضاگیلانی اور شاہد خاقان عباسی، جو کبھی ایوان کی زینت ہوتے تھے‘ پندرہویں قومی اسمبلی کا حصّہ نہیں ہیں۔ یہی حال محمود خان اچکزئی کاہے وہ بھی اسمبلی نہیں پہنچ سکے۔ایوان میں ان کہنہ مشق سیاسی شخصیات کی عدم موجودی کے کیا اثرات ہوں گے‘ اس بارے میں قطعیت کے ساتھ نہیں کہاجاسکتا‘ تاہم یہ ضرور ہے کہ تجربہ کار پارلیمینٹرینز کے نہ ہونے سے ایوان میں وہ رونق نظرنہیں آئے گی، جو ان شخصیات کی برجستہ اور پُرلطف تقریروں سے پیدا ہوتی تھی۔سابق وزیرِداخلہ، چوہدری نثار علی خان بھی اپنی مدلّل تقریروں سے ایوان کو گرمایا کرتے تھے‘مگر اب وہ بھی ایوان سے باہر ہیں۔انہوں نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے انتخاب لڑا تھا، مگر دونوں ہی پر ہار گئے‘البتہ وہ پنجاب اسمبلی کی نشست جیتنے میں کام یاب رہے ہیں۔

اگر پرانے اور تجربہ کار پارلیمینٹرینز‘ ایوان سے باہر ہوئے ہیں، تو بہت سے نئے چہرے بھی قومی اسمبلی تک پہنچے ہیں۔پہلا نام بلاول بھٹو زرداری کا ہے، جو اگرچہ لیاری، کراچی سے پیپلزپارٹی کی قدیم ترین نشست ہار گئے، لیکن لاڑکانہ کی نشست پر انہیں کام یابی ملی۔1985 ء میں قائم ہونے والی قومی اسمبلی میں بھی زیادہ تر نئے چہرے آئے تھے اور بیش تر تجربہ کار اور پرانے سیاست دان انتخاب نہیں جیت سکے تھے یا انہوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیاتھا۔ اس مرتبہ بھی پچاس سے زائد پرانے پارلیمینٹرینز قومی اسمبلی سے باہر ہیں۔نئے آنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق پنجاب سے ہے‘جن کی تعداد سینتالیس ہے‘ جب کہ سندھ سے ستائیس‘ خیبرپختون خوا سے پچیس اور بارہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔تمام قابلِ ذکر بڑی سیاسی جماعتوں نے نئے چہرے متعارف کروائے ہیں۔ان میں تحریکِ انصاف سرِفہرست ہے، جس کے سب سے زیادہ نئے ارکان‘ قومی اسمبلی میں ہیں۔بلاول بھٹو ہی کی طرح متعدّد نوجوانوں کو پہلی مرتبہ پارلیمانی سیاست میں قدم رکھنے کا موقع ملا ہے۔تقریباً دس سابق طالبِ علم رہنما تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی رہنما، فرّخ حبیب‘ مسلم لیگ (نون) کے عابد شیرعلی کو شکست دے کر ایوان میں آئے ہیں۔ان کے علاوہ زرتاج گل‘ شاہد خٹک‘ مراد سعید‘تاشفین‘ ارسلان گھمن‘ بتول جنجوعہ بھی پارلیمانی سیاست میں داخل ہوئے ہیں۔ایک نمایاں نام پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق رہنما، سیف الرحمٰن محسود کا ہے، جو کراچی سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ نیز، مخصوص نشستوں پر کئی نوجوان خواتین بھی نام زَد ہوکرآئی ہیں۔

خواتین کی مخصوص نشستوں کی بات چلی ہے تو یہ بھی ذکر ہوجائے کہ زیادہ تر نشستوں پر سیاسی رہنمائوں کی رشتے دار خواتین ہی کی نام زدگی کی گئی ہے۔مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف کے ساتھ اُن کی اہلیہ، مسرت اور بھتیجی شیزافاطمہ بھی ایوان میں موجود ہوں گی۔اس طرح خیبرپختون خوا کے سابق وزیرِاعلیٰ پرویز خٹک کی خواہرِ نسبتی اور بھتیجی بھی مخصوص نشستوں پر رکن قومی اسمبلی بنی ہیں۔حناربانی کھر‘ شگفتہ رحمانی‘ شازیہ مری اور ناز بلوچ‘ پیپلزپارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کا حصّہ ہیں، تو مسلم لیگ نون کی جانب سے سابق وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات، مریم اورنگ زیب‘ ان کی والدہ طاہرہ اورنگ زیب‘ وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی، طارق فاطمی کی اہلیہ، زہرا فاطمی‘ سابق وزیرخزانہ، حفیظ پاشا کی اہلیہ، عائشہ غوث پاشا‘ سابق وزیرمملکت جعفر اقبال کی صاحب زادی، زیب جعفر اور بھتیجی مائزہ حمید کو خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن اسمبلی بننے کا موقع ملاہے۔پاکستان کی پارلیمانی سیاست کے حوالے سے عوام کو ہمیشہ یہ شکوہ رہا ہے کہ ملک میں خواہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو‘ خاندانی اور موروثی سیاست داں پارٹیاں بدل بدل کر‘ ہمیشہ سیاست اور اقتدار پر چھائے رہتے ہیں۔نئی قومی اسمبلی کا بھی جائزہ لیا جائے، تو اس بار بھی چند مخصوص خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ہی نظر آئیں گے۔اگرچہ بہت سے سیاسی خاندان آئوٹ ہوگئے ہیں، لیکن ان کی جگہ دوسرے خاندانوں نے لے لی ہے۔پندرہویں قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں جن 325 ارکان نے حلف اٹھایا‘ اُن میں سے پچاس سے زاید ارکان آپس میں رشتے دار ہیں۔مثلاً رحیم یارخان سے پیپلزپارٹی کے دو ارکان، مخدوم مصطفیٰ محمود اور غلام مرتضیٰ محمود‘ سگے بھائی ہیں۔ ملتان کے شاہ محمود قریشی اور زین قریشی باپ، بیٹا ہیں۔حنا ربانی کھر اور رضاربانی کھر‘ بہن، بھائی ہیں۔آصف زرداری‘بلاول بھٹو باپ، بیٹا ہیں۔جب کہ منور علی تالپور، آصف زرداری کے بہنوئی اور بلاول بھٹو کے پھوپھا ہیں۔ پھر مسلم لیگ نون کے پرویز ملک، اُن کی اہلیہ اور بیٹا بھی قومی اسمبلی میں موجود ہیں۔پرویز خٹک اور عمران خٹک رشتے میں سُسر، داماد ہیں۔ اور جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا کہ پرویز خٹک کی اہلیہ، خواہرِ نسبتی اور بھتیجی بھی ایوان کی رکن ہیں۔اس لحاظ سے قومی اسمبلی میں باپ‘ بیٹا‘ بہن، بھائی‘ چاچا‘ ماما‘بھتیجا‘ بھتیجی‘ ساس‘ سُسر‘ سالا‘ بہنوئی‘ پھوپھا‘ پھوپھی‘ خالہ‘ بھانجا‘ نند‘ نندوئی اور دیگر تمام ہی رشتوں کی نمائندگی موجود ہے۔ان رشتوں سے ہٹ کر کچھ اور نسبتیں بھی اس ایوان کو منفرد بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر تین سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق‘ فخرامام اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ایوان میں فروکش ہوں گے۔ فخرامام‘ جنرل ضیاء الحق کے دور میں غیر جماعتی قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے جنرل ضیاء کے نام زد امیدوار، خواجہ محمد صفدر کو شکست دے کر بہت بڑا اَپ سیٹ کیا تھا، لیکن کچھ عرصے بعد ان کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد آئی تو وہ اس منصب سے محروم کردیئے گئے۔ دو سابق وزرائے اعظم، راجاپرویز اشرف‘ میاں محمّد سومرو کے علاوہ تین سابق وزرائے اعلیٰ اختر مینگل (بلوچستان) شہباز شریف (پنجاب) اور پرویز خٹک (خیبرپختون خوا) بھی ایوان میں فروکش ہیں، لیکن ان سب میں نمایاں سابق صدرِ مملکت، آصف علی زرداری ہیں، جو تقریباً چھبیس سال بعد‘ قومی اسمبلی میں بطور رکن آئے ہیں۔پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں ایسی بہت کم مثالیں ہیں کہ کوئی سابق صدرِ مملکت طویل عرصے بعد بطور رکن قومی اسمبلی‘ایوانِ زیریں کاحصہ بناہو۔واضح رہے، پاکستان کی قومی اسمبلی دنیا کا بائیس واں بڑا ایوانِ زیریں ہے۔

پندرہویں قومی اسمبلی کے ارکان کی حلف برداری کا دن، ایک یادگار دن کے طور پر تاریخ کا حصّہ بن گیا ہے۔ انتخابی نتائج پر بہت شورو غوغا کے باوجود اس روز کسی جانب سے احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ رواداری‘ یگانگت اور مفاہمانہ رویّے ہی دیکھنے میں آئے۔ بدترین سیاسی مخالف سمجھے جانے والے رہنمائوں نے خوش دلی کے ساتھ ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا اور تصاویر بنوائیں۔ایوان کا حصّہ بننے والے اراکین کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے‘ان میں بہت سے اپنے قریبی رشتے داروں کے ساتھ آئے تھے‘ہر رکن کو اپنے ساتھ پانچ مہمان لانے کی اجازت تھی‘ سو نئے ارکان نے اس اجازت کا خُوب فائدہ اٹھایا۔بلاول بھٹو‘ اپنے والد آصف علی زرداری اور بہنوں کے ساتھ پہنچے‘خواجہ آصف اپنی اہلیہ اور بھتیجی کے ساتھ آئے۔ یہ حقیقت بھی بڑی دل چسپ کہی جائے گی کہ انتخابات میں متعدد پرانے سیاست دان اگرچہ خود تو کام یاب نہ ہوسکے، لیکن ان کے قریبی عزیز، عام یا مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی میں پہنچ گئے۔ پہلا نام مولانا فضل الرحمٰن کا ہے، جو خود دو حلقوں سے ہارے، مگر ان کے صاحب زادے اسعد محمود نہ صرف قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے بلکہ ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں بھی حصّہ لیا۔سابق وزیرقانون، زاہد حامد انتخاب میں کھڑے نہیں ہوسکے، مگران کے صاحب زادے، علی زاہد رکن قومی اسمبلی بن گئے۔مسلم لیگ (نون)کے رہنما دانیال عزیز نے عدالتی فیصلے کے مطابق عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار پانے کے سبب انتخابات میں حصّہ نہیں لیا تھا، لیکن ان کی اہلیہ مہناز عزیز قومی اسمبلی میں موجود ہیں۔

پندرہویں اسمبلی کی تشکیل کے بعد یہ توقع کی جارہی ہے کہ یہ اسمبلی ماضی کے ایوانوں سے قدرے مختلف ہوگی، کیوں کہ نئے ارکان پُرجوش ہیں اور کچھ کر دکھانے کا عزم اور حوصلہ رکھتے ہیں۔خود تحریک انصاف دوجماعتی سیاسی نظام میں اپنی جگہ بناکر ملک کی سیاست میں جو تبدیلی لائی ہے‘ اس کے اثرات یقیناً ملک و قوم کے لیے خوش گوار ثابت ہوں گے۔ بہت سی سیاسی اجارہ داریاں ختم ہوں گی، تو ملک بہتری کی جانب بڑھے گا۔ اللہ کرے، یہ توقعات پوری ہوں اور قوم نے جس تبدیلی کا خواب دیکھا ہے، اس کی تعبیر بھی جلداز جلد اس کے سامنے آئے۔

ضمنی انتخابات

پندرہویں قومی اسمبلی کا ایوان تاحال نامکمل ہے۔ 11 نشستیں خالی ہیں ، قومی اسمبلی کی 9 نشستیں ایک سے زاید نشستوں پر کام یاب ہونے والے ارکان نے خالی کی ہیں، دو پر انتخابات ملتوی ہو گئے تھے، اب ان سب پر ضمنی انتخاب ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا ہے، جس کے مطابق 14 اکتوبر کو ملک بھر میں قومی اسمبلی کےگیارہ اور صوبائی اسمبلیوں کے 26 حلقوں میں پولنگ ہوگی۔ امیدواروں کے کاغذاتِ نام زدگی کی جانچ پڑتال 4ستمبر کو ہوگی۔ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں کے خلاف 8 ستمبر تک درخواستیں دائر کی جا سکیں گی۔ نظر ثانی شدہ فہرستیں 14ستمبر کو جاری ہوں گی، امیدوار 15 ستمبر تک اپنے کاغذاتِ نام زدگی واپس لے سکیں گے۔ قومی اسمبلی کی چار نشستیں وزیراعظم، عمران خان نے چھوڑی ہیں ،اُن میں این اے 35 بنّوں، این اے 53 اسلام آباد، این اے 131 لاہور اور این اے 243کراچی کی نشستیں شامل ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف ہی کے ایک رُکن میجر(ر) طاہر صادق نے اٹک سے قومی اسمبلی کے علاوہ، پنجاب صوبائی اسمبلی کی بھی ایک نشست خالی کی ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الٰہی نے گجرات اور چکوال سے قومی اسمبلی کی دو نشستیں این اے 69 اور این اے 65 چھوڑی ہیں، مسلم لیگ نون کے حمزہ شہباز، این اے 124کی نشست سے دست بردار ہو گئے ہیں۔ جب کہ تحریکِ انصاف کے ایک رہنما، غلام سرور خان نے این اے 63راول پنڈی کی نشست چھوڑ دی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں