آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی کے منگھوپیر تھانے کے ایس ایچ او نے خاندانی تنازعہ پر اپنی اہلیہ کے دو رشتے داروں کو ان گھروں سے گرفتار کرکے اپنے تھانے کی حدود میں مسلح ڈاکو ظاہر کرکے گرفتار کرلیاہے۔

پولیس کے مطابق وقار عرف وکی اور دانش کو پولیس کی اسٹریٹ کرائم کے خلاف مہم کے دوران چنگی ناکہ منگھوپیر کے قریب سے گرفتار کیا گیاتھا،دونوں ملزمان کے خلاف غیرقانونی اسلحہ برآمد ہونے کے مقدمات درج کئے اور انہیں اتوار کو عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ پر جیل بجھوا دیا تھا۔

ایک ملزم کے بھائی یوسف نے جیو نیوز کو اصل واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر دستاویزی ثبوت پیش کرتے ہوئے دونوں افراد کی گرفتاری کی اصل وجہ بتادی،جس میں ایس ایچ او منگھوپیر شاہد تاج نے پولیس پارٹی کے ہمراہ 28 اگست کی را ت ساڑھے 3 بجے بریگیڈ تھانے کی حدود خداداد کالونی کی الہادی بلڈنگ میں غیرقانونی طور پر چھاپہ مارا اوردونوں نوجوانوں کو حراست میں لیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ تمام کارروائی ریکارڈ پر ہے۔

یوسف نےمزید بتایا کہ دونوں لڑکوں کی پھوپھی زاد بہن ایس ایچ او شاہد تاج کی بیوی ہے، گھر پر چھاپے میں لیڈی سرچر ساتھ تھی اور نہ ہی بریگیڈ پولیس کو آمد کی اطلاع دی گئی، فوٹیج میں کئی مسلح پولیس اہلکاروں کو گھر میں گھستے اور لڑکوں کو گرفتار کرتے دیکھا جاسکتا ہے، گھر پر چھاپہ صبح ساڑھے 3 بجے مارا، گرفتاری ڈھائی بجے ظاہر کی گئی۔

اہل خانہ کے مطابق چھاپے کے وقت تھانیدار کی بیوی پرائیویٹ گاڑی میں بلڈنگ کے باہر موجود تھی،بھابی سے اونچی آواز میں بات کرنے کے انجام کا کہہ کر پولیس اہلکاروں نے لڑکوں پر تشدد کیا۔

اہل خانہ نے بھی کہا کہ ایس ایچ او شاہد تاج اور اس کی اہلیہ نے دونوں لڑکوں کو زمین پر گرا کر لاتوں سے مارا، خاتون کو فون کرکے معاملہ رفع دفع کرنے کا کہا تو اس نے پیغام بھیجا کہ ’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے‘،اس سے قبل ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو میں خاتون نے لاشیں گرانے اور مزید انجام کی دھمکیاں بھی دیں۔

ایس ایس پی ویسٹ ڈاکٹر رضوان کے مطابق پولیس کو کی گئی شکایت کے بعد ابتدائی تحقیقات میں ایس ایچ او کیخلاف کئی سنگین الزامات سامنے آئےجس کو دیکھتے ہوئے ایس ایچ او شاہد تاج کو معطل کرکے عہدے میں تنزلی بھی کردی گئی اورمعاملے میں ملوث دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں