آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویسے توکچھ انتظامی معاملات میں تحریک انصاف کی حکومت کا سر منڈاتے ہی اولےپڑنےوالا حال ہے لیکن چند ہفتوں پہلے قائم ہونے والی حکومت تعریف کی مستحق ہے کہ اس نے ابھی تک بہت اچھے انداز میں پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کےلیے انتہائی تکلیف اور دکھ کا باعث بننےوالےگستاخانہ خاکوں کے معاملے پر ایک ایسا کردار ادا کر رہی ہے جس کے نتائج کی تمام مسلمان دنیا کو اشد ضرورت ہے تاکہ ایسے اسلام دشمن بے حرمتی کے واقعات کو مغربی دنیا میں روکاجا سکے۔ کابینہ کے پہلے ہی اجلاس میں عمران خان حکومت نے ہالینڈمیں منعقد ہونےوالے اس ناپاک مقابلے کی مذمت کرتےہوئےمطالبہ کیا کہ ایسی مضموم اسلام دشمن اقدامات کو روکا جائے۔ اُسی روزپاکستان کے دفتر خارجہ نےہالینڈکے اعلیٰ سفارت کار کو بلا کر پاکستان کی طرف سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ۔ چند روز قبل سینیٹ آف پاکستان نے متفقہ قرارداد کے ذریعے گستاخانہ خاکوں کے ناپاک مقابلے کی مذمت کی تو وہاں موجود وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایسے اسلام دشمن اقدامات کو مغرب میں بار بار دہرائے جانےپر وہ مسلمان دنیا کو بھی ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ عمران خان کا یہ کہنا درست تھا کہ اس اہم ترین مسئلہ جس کا مسلمانوں کے ایمان سے تعلق ہے کو مسلمان مل کر ہی مستقل حل تلاش کر سکتےہیں جس کےلیے اُنہوں نے سینیٹ کو یقین دلایا کہ اُن کی حکومت پوری کوشش کرے گی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی فارمزپر بھی اٹھایا جائے گا لیکن وہ اس مسئلے کے مستقل حل کےلیے اسلامی ممالک کی تنظیم OIC کے ذریعے مسلمان دنیا کو ایک حکمت عملی پر اکھٹا کر کے مغربی دنیا کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ گستاخی کا یہ معاملہ مسلمانوں کےلیے کسی بھی حالات میں قابل برداشت نہیں اس لیے ایسے حرکتوں کو آزادی رائے سے جوڑا جانا بالکل غلط ہے۔ عمران خان کا کہنا تھاکہ جس طرح ہولوکاسٹ پر کئی مغربی ممالک میں بات نہیں ہو سکتی اسی طرح مسلمانوں کو مغرب کو باور کرانا پڑے گا کہ آزادی رائےکے نام پر کسی بھی قسم کی گستاخی کو قانونی طورپر قابل گرفت جرم قرار دیا جائے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس معاملےپر ترکی کے سفیر سے بھی بات کی اور ایک مشترکہ حکمت عملی بنانےپر مشورہ کیا۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق اُنہوں نے ہالینڈ میں اپنے ہم منصب سے بھی بات کی اور اُن کو باور کروایا کہ ایسے اسلام دشمن اقدامات سے نہ صرف ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچتی ہے بلکہ ایسی حرکتیں یورپ کا بھی امن متاثر کر سکتی ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ موجودہ حکومت اس معاملے کو خارجہ امور میں سر فہرست رکھتے ہوئے اپنی بھرپور کوشش کے ذریعے جو کہا اُس پر عمل کرے گی۔ ویسے تو ماضی میں بھی پارلیمنٹ میں ایسے اسلام دشمن اقدامات کے خلاف قراردادیں بھی پارلیمنٹ نے پاس کیں، حکمرانوں کے مذمتی بیان بھی جاری ہوئے، یہ بھی وعدہ کیا جاتا رہا کہ ان معامالات کو او آئی سی اور مغربی دنیا میں اُٹھایا جائے گا لیکن عملی طورپر کچھ سامنے نہیں آیا اور یوں گستاخی کے واقعات دہرائےجاتےرہے۔ کہتے ہیں کہ گمان ہمیشہ اچھا کرنا چاہیے اس لیے میں موجودہ حکومت سے توقع رکھتا ہوں کہ ماضی کےبرعکس اس معاملے کو کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچایا جائے گا۔ میری وزیر اعظم عمران خان سے گزارش ہے کہ اس معاملے کو صرف وزیر خارجہ پر نہ چھوڑیں بلکہ ذاتی طورپر اسلامی ممالک کے سربراہان سے بات کریں ، ہو سکے تو سعودی عرب، ترکی، ایران، عرب امارات، مصر اور دوسرے اسلامی ممالک کا دورہ کریں اور اس ایک نقطہ پر اسلامی ممالک کو اکھٹا کریں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح پاکستان میں بھی اس معاملے پر بہت رنج و غم پایاجاتاہے۔ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے انعقاد کے خلاف تحریک لبیک کے علامہ خادم رضوی نے تو لاہور سے مارچ بھی شروع کر دیا ہے۔ ماضی میں بھی مغرب کی طرف سے ایسے اسلام دشمن اقدامات پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت بڑے بڑے احتجاج ہوئے۔ احتجاج کے کئی واقعات میں تشدد بھی ہوا اور پاکستان سمیت دوسرے اسلامی ممالک میں چند واقعات میں کئی انسانی جانوں سمیت اور قومی و نجی املاک کا نقصان بھی ہوا۔ جلائو گھرائو بھی کیا گیا اور احتجاج کرنےوالے مسلمانوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔ لیکن اس کے باوجود مسلمان ممالک کی حکومتوں کے درمیان ایک مشترکہ حکمت عملی بنانے کی کوئی خاص کوشش تک نہ ہوئی جوعام مسلمانوں کےلیے ہمیشہ مایوسی کا سبب رہا۔ احتجاج پر امن ہوناچاہیے اور اس کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے لیکن جب مسلمان حکمراں اور حکومتیں ایسے نازک معاملات میں مسلمانوں کے احساسات کی صحیح ترجمانی نہیں کرتے تو تشدد کے رستے کھل جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب مسلمان ممالک کے پاس ایک مشترکہ لائحہ عمل موجود نہیں، ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے ممالک جہاں ایسے گستاخانہ حرکتیں کی جاتی ہیں اُن کی مصنوعات کو استعمال کرنا ترک کر دیں۔ اس کام کےلیے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مہم چلائی جائے تاکہ اُن ممالک کی معیشت اور کاربار پر ضرب لائی جائے۔ اسی موضوع پر میں نے اپنے ایک حالیہ کالم ’’اس بے حرمتی پر مسلمان حکمراں کیا بولیں گے؟‘‘ میں تجویز دی تھی کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے سوشل میڈیا ٹیمز کے ذریعے اس مسئلےپر مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کریں تاکہ مغرب میں رہنے والوں پر کوئی دبائو آئے ۔ لیکن افسوس کہ چند مذہبی جماعتوں کے علاوہ کسی سیاسی جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم نے اس مسئلے کو اپنی مہم کا حصہ نہیں بنایا۔ یہ مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے، یہ ہر مسلمان کے دکھ کا باعث بنتا ہے اس لیے کم از کم اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر اپنی اپنی سوشل میڈیا ٹیمز کے ذریعے فعال طریقے سے مغرب کو احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیے۔ اس سلسلے میں ٹی وی چینلز کو خصوصاً اپنے ٹاک شوز کے ذریعے ایک طرف مسلمان حکمرانوں کو اُن کی ذمہ داری کا احساس دلانا چاہیے تو دوسری طرف عام مسلمانوں کی رہنمائی کرنی چاہیے کہ وہ کیا طریقے ہو سکتے جن کو اپنا کر ہم مغرب سے اپنی بات منوا سکتے ہیں۔


(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں