آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات8؍صفر المظفّر1440ھ18؍ اکتوبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دور جدید میں باغ کے بنا گھرکا تصور نامکمل سا لگتا ہے، چھوٹا ہی سہی لیکن خوبصورت باغ ہر گھر کی ضرورت بنتا جارہا ہے۔ یہ جہاں گھر کی خوبصورتی بڑھاتے ہیں وہیں صحت مند فضا کے قیام میں بھی مددگا ر ثابت ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے گھرکے صحن یا بالکنی میں بھی باغیچہ ہے تو اس سے اچھی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ بہترین فضا کےساتھ ساتھ آپ کو تروتازہ رکھنے والا وہ مقام ہے جہاں آپ اپنے فارغ اوقات کا مزہ نہایت خوبصورتی کے ساتھ اٹھاسکتے ہیں۔ اس حصے کی سجاوٹ و آرائش گھر کے دیگر حصوں کی طرح نہایت اہم ہے اور یہی وجہ ہے کہ گھر کے مکین چھوٹے سے باغ کے لیے بھی نئے رجحانات کو پیشِ نظر رکھتے ہیں کہ کیا اِن ہے اور کیا آؤٹ۔ باغ کی سجاوٹ اور پھولوں کے انتخاب کے حوالے سے نئے رجحانات کی تلاش جاری رہتی ہے۔ رواں برس باغیچے کے لیےکچھ ایسے اسٹائل ٹرینڈ کا حصہ بنے جنہیں مغرب تو مغرب مشرقی ممالک میں بھی خاصا اپنایاجارہا ہے۔ ان اسٹائل کے بارے میں جان لیتے ہیں تاکہ آپ بھی اپنے باغیچے کو ان نئے رجحانات کے مطابق ڈھال سکیں۔

چھوٹی جگہوں پر بنے باغیچے

رواں برس گھروں میں بڑی جگہ پر باغیچہ بنانے کے بجائے چھوٹی اور کم جگہ پر باغیچہ بنانےکا رجحان دیکھنےمیں آرہا ہے۔ اگر آپ کے پاس صحن،گھرکے پچھلے حصے یا پھر بالکنی میں کچھ جگہ موجود ہے تو آپ وہاں پر ایک خوبصورت باغیچہ بناسکتے ہیں۔اس چھوٹی سی جگہ پربیٹھنے کا انتظام کرکے گملوں میںلگے پودے اور ہری بھری گھاس سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔

اگر آپ کے پاس بڑی جگہ دستیاب ہے تو اس حصے کو مختلف اور چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں۔ مثلاً ڈائننگ ایریا بنائیں،پتھری دیواراور بچوں کے لیے چھوٹا سا سوئمنگ پول تعمیر کروائیں جبکہ دوسری جانب مصنوعی یا تازہ گھاس، ترتیب وار گملوں میں لگے پودے اور چند درخت اس حصے کو خوبصورت باغ میں تبدیل کردیں گے۔

عمودی باغیچہ

عمودی طرز پر بنے باغات بھی رواں برس کافی مقبول ہورہے ہیں۔ عمودی طرز کا باغیچہ بنانے کے لیے گھر کی خالی دیواروں پر افقی طرزمیں گملے یا پودے لگائے جاتے ہیں۔ محدود جگہ پر ورٹیکل پلانٹر کی تعمیر ایک بہترین خیال ہے ۔ ایک عمودی باغ آپ کے لیے اُوپرچڑھ کر اور سطح ِ نظرپرکام کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ اس طرح آپ کمردرد سے بچے رہیں گے۔ افقی طرزمیں گملوں کے ذریعے باغبانی کے شوق کی تکمیل کے لیے ایک عمودی پلانٹرگملے میں لگایا جاسکتاہے۔ اس پلانٹر کو خوبصورت رنگ کے ذریعے مزید دلکش بنایا جاسکتا ہے۔ لمبی سبزخوردنی پھلیوں اور ڈنڈوں کی مدد سے پھولوں کی بیلوں کو اوپر تک چڑھایا جا سکتا ہے، جس سے یہ خوب پھلے پھولیں گے۔

ماحول دوست لینڈ اسکیپنگ

صرف ماحول دوست مکانات ہی نہیں بلکہ ماحول دوست لینڈ اسکیپنگ باغیچے بھی آجکل کافی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں، جس کے تحت گھروں میں کم بجٹ اور کم پانی میںنشوونما پانے والے پودوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہ پودے کسی بھی گھر کے لیے موزوں اور بہترین ہیں۔ ماحول دوست لینڈ اسکیپنگ کے تحت باغیچے کے لیے پودے ہی نہیں پتھر، کنکر اور ریت کا بھی انتخاب کیا جاتا ہے۔ پلانٹ کنٹینر میں خوبصورت پودوں اور پتھروں کے ذریعے جگہ کا لطف بھی بڑھایا جاسکتا ہے۔ اگر آپ بھی ماحول دوست باغیچہ بنانا چاہتے ہیںتو محدود جگہ اور کم بجٹ بھی آپ کی اس خواہش کو بخوبی پورا کرسکتا ہے۔

باغیچے میں فوارہ

گھر میں داخل ہوتے وقت پہلی نظر باغیچے پر ہی پڑتی ہےاور اس میں بنایا گیا فوارہ ایک منفرد منظر پیش کرتا ہے۔ گزشتہ برس باغ میں فائر پٹز(آگ کا گڑھا )خاصے مقبول ہوئے تھے لیکن رواں برس باغ کے لیے فواروں کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ فوارے کو دیوار میں بھی لگایا جاسکتا ہے، مثلاً باغ میں پانی والی دیوار تھوڑی پتلی مگر بڑے حجم کی بنوائیں، جو پانی کی اچھی خاصی مقدار نیچے گرائے۔ یہ باغ کا ایک نمایاں عنصر ہو گا،جو آپ کو قدرت کا احساس دلائے گا۔ دوسری صورت میںاگر آپ کے پاس کافی جگہ موجود ہے تو جھیل کی صورت میں فوارے الگ سے بھی لگائے جاسکتے ہیں، ساتھ ہی درج بالا دیوار سے گرتی پانی والی آبشار بھی اس کے ساتھ ملائی جاسکتی ہے، جس سے پانی گرتا ہوا جھیل میں چلا جائے گا اور یہ آپ کے باغ میں ایک خوبصورت منظر پیش کرے گا۔

لیونگ روم کے ساتھ باغیچہ

رواں سال نئے رجحان کے پیش نظر لیونگ روم اِن ڈور نہیں آؤٹ ڈورخاصا مقبول ہوا ہے۔ اس رجحان کے تحت لیونگ روم کے لیے شیڈز قائم کیے جاتے ہیں۔ ایک حصہ لیونگ روم کے لیے مختص کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے حصے میں باغبانی کا شوق پورا کیا جاتا ہے۔ اس ٹرینڈ کو اپنانے کے لیے آپ کے پاس زیادہ جگہ کا ہونا ضروری ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں