آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پچھلے دنوں میرے علم میں تین کیس صحت کے حوالے سے لائے گئے۔ کوٹ رادھا کشن سے سات سال کا بچہ اپنڈکس کی درد کے ساتھ ایک نجی کلینک میں لایا گیا۔ آپریشن کیا گیا، مگر بچہ مر گیا۔ Anesthesiaکلینک کے ڈسپنسر نے دیا اور بچہ دوران سرجری اللہ کو پیارا ہوگیا۔ دوسرا کیس ڈسکہ کا 22سالہ نوجوان اپنڈکس کی درد سے لایا گیا وہ بھی مرگیا۔ تیسرا کیس ملتان میں ہوا۔ پتے اور اپنڈکس کے آپریشن کے مریض مر گئے۔
یہ چند کیس جو کسی حوالے سے میرے علم میں لائے گئے پنجاب کے دو دیہات اور ایک بڑے شہر میں پیش آئے، یہ پنجاب کا حال ہے، جو باقی صوبوں سے ہمیشہ سے ترقی یافتہ اور طب کے شعبے میں بہترین سہولیات کا حامل ر ہا ہے۔ ذرا دیر کو یہ سوچیں کہ صوبہ سندھ، بلوچستان اور کے بی کے اور گلگت، سکردو وغیرہ کے دیہات میں کیا صورتحال ہوگی؟
سرگودھا کے قریب بھلوال میں دنیا کا بہترین کینو پیدا ہوتا ہے اور سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کینو پیدا ہوتا ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں یہ کینو برآمد کیا جاتا ہے اور کروڑوں ڈالرز کمائے جاتے ہیں۔ وہاں پر کسی کو دل کا دروہ پڑ جائے تو بھلوال کے مریض کولاہور لانا پڑتا ہے۔ آج تک کسی حکومت نے نہیں سوچا بھلوال میں کیوں نہیں جدید سہولیات پر مبنی ہسپتال بنایا گیا؟ پاکستان کے چھوٹے شہروں کو چھوڑیں۔ کئی بڑے شہروں میں بھی انستھیزیا دینے

والے ڈاکٹروں کی شدید ترین کمی ہے۔ جن واقعات کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے یہ سب کے سب Anesthesiaکے ماہر نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ ایک ڈسپنسر کو کیا پتہ کہ اس نے بچے کو کس مقدار میں بے ہوشی کی دوائی دینی ہے؟ کس طرح بے ہوشی سے دوبارہ ہوش میں لانا ہے؟ لاہور، کراچی اور اسلام آباد و راولپنڈی کے بڑے بڑے سرجن، پروفیسرز نیز انستھیزیا کے ماہر کے بغیر سرجری نہیں کرتے لیکن پاکستان کے چھوٹے شہروں اور دیہات میں ڈاکٹر خود ہی بے ہوشی کی دوائی دیتا ہے اور خود ہی آپریشن کرتا ہے۔ آج یہ عالم ہے کہ کوئی بھی اچھا اور ماہر ڈاکٹر یہاں ٹھہرنے کو تیار نہیں۔ رہی سہی کسر ہمارے سسٹم نے کر دی ہے یقین کریں آنے والے چند برسوں میں اس ملک میں پیٹ درد کا اچھا ڈاکٹر بھی نہیں ملے گا۔ یوکرائن اور چین، کئی دیگر ممالک سے غیر رجسٹرڈ میڈیکل کالجوں سے جو پاکستانی ڈاکٹرز آرہے ہیں۔ ان کا نالج اور تجربہ انتہائی ناقص ہے۔ چین والے تو غیر ملکی ڈاکٹر یعنی جو پاکستانی وہاں سے ڈاکٹری کرتا ہے۔ اس کو اپنے مریض کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے۔ ڈاکٹری کہیں اور سے کرتے ہیں اور عملی تربیت حاصل کرنے کے لئے انہیں پاکستان آنا پڑتا ہے۔
پاکستان کے چھوٹے دیہات اور شہروں میں تو مکانوں میں پرائیویٹ ہسپتال قائم ہیں جو کسی طور پر کسی بھی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ بین الاقوامی معیار کو تو چھوڑیں یہاں پر تو مناسب سہولیات بھی نہیں۔ آج تک ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث جتنے بھی مریض اور زخمی موت کے منہ میں چلے گئے کیا پی ایم ڈی سی نے ان ذمہ دار ڈاکٹروں کے لائسنس کینسل کئے؟
1962ء میں پی ایم ڈی سی یعنی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے کتنے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی؟ صرف وارننگ دے کر ڈاکٹروں کو چھوڑ دینا کہاں کا انصاف ہے؟
حکومت کی کوئی باڈی یہ بتا دے کہ اس نے چھوٹے شہروں اور دیہات میں کبھی جاکر پرائیویٹ کلینکوں اور ہسپتالوں کو چیک کیا؟ وہاں پر کام کرنیوالے ڈاکٹرز یا سرجنوں کی قابلیت ، ڈگریوں اور تربیت کے بارے میں چیک کیا؟ حکومت کا اس وقت فرض ہے کہ وہ چھوٹے شہروں اور دیہات میں پرائیویٹ کلینکوں اور ہسپتالوں کا بڑی سختی کے ساتھ جائزہ لیں۔ اگر ہم یہاں پر صحت کی سہولیات کے حوالے سے کچھ اعداد و شمار پیش کریں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ پورے ملک میں صرف 140ماہر سرطان کے علاج کیلئے ہیں اور صرف 28سنٹروں میں کینسر کے مریضوں کا علاج ہوتا ہے۔ صوبہ پنجاب میں صرف 9سپیشلسٹ ہی ماہر ہیں جبکہ ہر سال ڈیڑھ لاکھ لوگ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ذرا دیر کو سوچیں کہ پاکستان کے چھوٹے شہروں، دیہات اور قصبوں کے لوگ کیا کریں گے؟ پنجاب کی دس کروڑ آبادی کے شہر میں صرف چار ٹیچنگ ہسپتالوں یعنی میو ہسپتال، جناح ہسپتال، الائیڈ ہسپتال اور نشتر ہسپتال میں کینسر کے مریضوں کا علاج ہوتا ہے؟
پورے ملک میں صرف سوا دو سو نیورو سرجنز ہیں اور صرف سو نیورو فزیشن۔ کئی دیہات اور شہروں میں نیورو سرجن نہیں۔ پچھلے دنوں وزیرآباد میں ایک شخص حادثے میں زخمی ہوگیا، دماغ پر چوٹ لگی وزیرآباد کے ڈاکٹروں نے گوجرانوالہ بھیجا گوجرانوالہ کے ڈاکٹروں نے لاہور بھیجا۔ لاہور پہنچ کر زخمی مر گیا۔ اتنا لمبا اور تکلیف دے سفرکرکے بھلا کوئی زخمی وزیرآباد سے لاہور پہنچ سکتا ہے؟ جبکہ پاکستان کے ہر چھوٹے سے چھوٹے دیہات اور شہر میں روزانہ حادثات میں بے شمار افراد زخمی ہوتے ہیں۔ ان بیچاروں کے ساتھ کیا گزرتی ہوگی؟ صرف اللہ کی رضا کہہ کر موت کو گلے لگاتے ہیں۔
کیا ہمارے معزز ممبران اسمبلی، بڑے بڑے لیڈرز جہاں وہ الیکشن جیت کر آتے ہیں ۔ ان چھوٹے شہروں اور دیہات میں اپنا اور اپنی اولاد کا علاج کرانا پسند کریں گے؟ خدا کے لئے کچھ کریں۔ ورنہ یہ بے زبان مخلوق اسی اذیت ناک طریقوں سے مرتی رہے گی اور روز محشر حکمران وقت اللہ کے حضور کیا کہیں گے؟ دعا اور بددعا دونوں عرش پر جاتی ہیں۔ڈریں اس وقت سے جب یہ لوگ بغیر علاج کے ہزاروں کی تعداد میں مرنے لگیں گے اور بددعاؤں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں