آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


سندھ کے محکمہ اطلاعات میں پونے چھ ارب روپے کی کرپشن کے مقدمے میں گرفتار پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر اور موجودہ رکن سندھ اسمبلی شرجیل میمن کو پرتعیش قید میں رکھنے کے لئے سب جیل قرار دئیے گئے کلفٹن کے نجی اسپتال کے کمرے پر چیف جسٹس آف پاکستان کے چھاپے اور شراب برآمدگی کے مقدمے کو پولیس اور جیل حکام نے ملی بھگت کرکے انتہائی کمزور درج کیا ہے۔

ایف آئی آر میں اصل ملزم شرجیل میمن کا محض تذکرہ کرکے دوسرے اصل ملزم کو ہی مدعی بنا دیا گیا۔ ایف آئی آر میں چیف جسٹس آف پاکستان کے چھاپے کے وقت جیل پولیس کے اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ جیل مجاہد خان کی ڈیوٹی تھی۔ مجاہد خان اور ساتھی اہلکاروں کی ڈیوٹی کے دوران شراب سب جیل میں کیسے گئی؟

اس کی تفتیش ڈیوٹی پر موجود جیل اہلکاروں سے کی جانی چاہیے تھی۔ ان کی غفلت اور لاپرواہی کو مقدمے کا حصہ بنایا جانا چاہیے تھا مگر مجاہد خان کو مقدمے کا مدعی بنا دیا گیا تھا۔ چیف

جسٹس آف پاکستان کے چھاپے اور شراب کی برآمدگی کے وقت شرجیل انعام میمن اکیلا تھا۔ اسے شراب برآمدگی کا براہ راست ذمہ دار قرار دینے کی بجائے بعد میں وہاں پہنچنے والے ان کے ملازمین کو ملزم قرار دے دیا گیا۔

مقدمے میں شرجیل انعام میمن کے کمرے کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ مقدمے میں براہ راست نامزد نہیں۔ شرجیل انعام میمن کے کمرے سے شراب چیف جسٹس ثاقب نثار کی موجودگی میں برآمد ہوئی جس کا انہوں نے کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران انکشاف کیا مگر کراچی کے ایس ایس پی ساؤتھ عمر شاہد حامد حکومتی عہدے داروں کی مبینہ ملی بھگت کی بنا پر اپنے میڈیا بیانات میں شراب کی برآمدگی کے بیان سے گریز کرتے رہے۔

یہی نہیں افسران کے مبینہ ایما پر دن بھر شراب کو شہد یا زیتون کا تیل قرار دینے کی سوشل میڈیا مہم بھی جاری رکھی گئی۔ کراچی پولیس اور جیل حکام کو اس سنگین بے قاعدگی کا مقدمہ سبق آموز بنانا چاہیے تھا مگر نہ صرف شرجیل انعام میمن بلکہ اس سے جڑے تمام کرداروں کو صاف بچا لیا گیا ہے۔

سب جیل قرار دیئے گئے کمرے میں شراب پینے یا برآمدگی کا ملبہ شرجیل انعام میمن کے ملازمین پر ڈال دیا گیا۔ درج کی گئی ایف آئی آر میں شرجیل انعام میمن اور جیل کے متعلقہ اہلکاروں اور افسران کو کلین چٹ دی گئی ہے۔

حیرت انگیز طور پر ایف آئی آر میں چیف جسٹس کے دورے یا اسپتال میں چھاپے کا تذکرہ تک نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مقدمہ کے اندراج کے لیے 11 گھنٹے تک تھانا بوٹ بیسن کا روزنامچہ روکا گیا۔

مقدمہ درج کرنے سے قبل کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ اور دیگر پولیس حکام نے تھانہ بوٹ بیسن کا دورہ بھی کیا۔

واضح رہے کہ شرجیل انعام میمن غیر قانونی طور پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے سابق دور کے احکامات پر تین ماہ سے زائد عرصے سے کلفٹن کے نجی اسپتال میں بیماری کے بہانے رہائش پذیر تھے۔

شرجیل انعام میمن نے اپنی الیکشن فہم بھی اسپتال کے اسی کمرے سے چلائی تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں