آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیرا عظم عمران خان کے پاک فوج سے تعلقات کا باضابطہ آغازستائیس اگست کو اس روز ہوا کہ جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم ہائوس میں ان سے ملاقات کی۔ میری اطلاع کے مطابق اسی ملاقات میں عمران خان کے جی ایچ کیو کا دورہ بھی طے ہوا۔ جنرل باجوہ سے ملاقات کے دو روز بعد وزیراعظم اپنی کابینہ کے چند اہم ترین ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی گئے۔ جہاں وزیراعظم اور آرمی چیف کی پچیس منٹ کی ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔ انہیں کور کمانڈرز کانفرنس کے لئے مختص کمرے میں لے جایا گیا۔

وزیراعظم کے اس غیر معمولی دورے کے موقع پر ڈی جی ملٹری آپریشنز اور ڈی جی آئی ایس آئی نے وزیراعظم اور ان کیساتھ آنیوالے کابینہ کے ارکان کو ملک کو درپیش مسائل پاکستان کے امریکہ ، بھارت، افغانستان ، ایران ، سعودی عرب سے تعلقات کے بارےمیںتفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ ڈی جی ایم آئی نے ملک میں دہشتگردی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ایک افسر نے ملک بھر میں فوج کے منصوبوں ، فوجی بجٹ ، شہیدوں کے ورثا کے لئے اقدامات اور ڈی ایچ اییز کے بارے میںبریفنگ دی۔

اس ملاقات کی اہم بات یہ بھی ہوئی کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تمام شرکا کے سامنے کہا کہ

Prime Minister we will completely support you and will follow your policies. Buck will stop at you.

ترجمہ ?۔جناب وزیراعظم ہم آپ کو مکمل سپورٹ فراہم کریں گے اور آپ کی پالیسیوں کی پیروی کریں گے۔فیصلہ آپ پرہی آئے گا۔

اس دوران وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان کے لئے خصوصی ظہرانہ بھی دیا گیا۔ عمران خان اپنی ٹیم کے ہمراہ کم و بیش آٹھ گھنٹے جی ایچ کیو میں رہے۔ جس کے بعد وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے اس ملاقات کوزبردست اور انتہائی مثبت قراردیا۔ ماضی میں وزرائے اعظم جی ایچ کیو آتے رہے ہیں ، مگر عمران خان کی یہ ملاقات کئی اعتبار سے منفرد تھی کیونکہ ماضی میں ایسی پذیرائی کسی اور وزیراعظم کےحصے میں نہیں آئی۔

عمران ویسے تو جنرل ضیا الحق اور ان کے بعد آنے والے کم و بیش تمام آرمی چیفس سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ مگر بحیثیت سیاستدان عمران خان کے فوج سے تعلقات کا آغاز اتنا ہی پرانا ہے جتنا پرانا جنرل مشرف کا دور۔ یہ جنرل مشرف کے اقتدار کے ابتدائی دنوں کی بات ہے ۔ ان دنوں جنرل محمود آئی ایس آئی کے سربراہ اور میجر جنرل احتشام ضمیر ان کے نائب تھے۔

مشرف کی عمران خان سے ملاقاتیں کرائی گئیں دونوں قریب آنا بھی چاہتے تھے۔ مگر عمران خان کو جب جنرل احتشام ضمیر کے ذریعے پتہ چلا کہ مسلم لیگ ق میں وہ تمام سیاستدان موجود ہیں جن پر کرپشن کے الزامات ہیں تو وہ اس جماعت میں شامل نہ ہوئے۔ سال دوہزار تیرہ کے موسم سرما میں جب میں اپنی کتاب کے انٹرویو کے سلسلے میں جنرل احتشام ضمیر سے ملا توباتوں باتوں میں عمران خان کا ذکر آیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عمران خان صاف ستھرے کرپشن سے پاک سیاستدانو ں کو اپنی جماعت میں شامل کرنے کی باتیں کیا کرتے تھے۔ انہیں اس وقت دور دور تک علم نہ تھا کہ "الیکٹیبلز" کس بلا کا نام ہے۔میں نے احتشام ضمیر سے پوچھاکہ عمران خان مشرف کا ساتھ کیوں چھوڑ گئے اس پر انہوں نےبتایا کہ عمران خان جو باتیں آج کررہا ہے وہی باتیں تب کررہا تھا۔ یہ باتیں ہیں تو ٹھیک مگر ہیں بیوقوفی کی۔ اس لئے ان کے ساتھ ہماری بات بن نہ سکی۔ ظاہر ہے طاقت کے رموز اپنے ہوتے ہیں۔

عمران نے شروع میں مشرف کا ساتھ دیا اور پھر افتخار چوہدری کی معزولی کے بعد مشرف کے خلاف تحریک میں بھی شامل ہوئے۔

جنوری2008کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تو کم و بیش دو سال بعد سال دوہزار دس میں اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے عمران خان سے پہلی ملاقات کی اور پھر سلسلہ چل نکلا۔ یہ پاشا ہی تھے جو فوج میں عمران خان کا اولین تاثر اچھالے کر گئے تھے اور وہ تاثر یہ تھا کہ عمران خان ایک صاف ستھرا، کرپشن سے پاک،سیدھا سادا اور نیک نیت انسان ہے۔ میرے خیال میں وزیراعظم عمران خان کا فوج میں یہ تاثر آج بھی قائم ہے۔

جنرل پاشا کی مارچ دوہزاربارہ میں آئی ایس آئی اور فوج سے رخصت تک اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی عمران خان سے کوئی ایک بھی ملاقات نہیں تھی۔ پاشا کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام آئی ایس آئی کے سربراہ بنے تو رابطوں کا سلسلہ جاری رہا۔ قربت اتنی بڑھی کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

اکتوبر سال دوہزار تیرہ میں عمران خان نے مینار پاکستان لاہور پر یادگار جلسہ کیا تو تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنمائوں کا باضابطہ طور پرماتھا ٹھنکا۔ مگر عام انتخابات میں خلاف توقع نتائج آنے پرعمران خان نے چیف جسٹس اور آرمی چیف جنرل کیانی دونوں کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کرنا شروع کردیا اور موقع ملتے ہی دونوں پر کڑی تنقید کرنے لگے۔ کیانی ملازمت میں توسیع لینے اوردیگر وجوہات کی بنا پر اپنے ادارے میں غیر مقبول ہوچکے تھے ، کیانی پر تنقیدنےعمران کو فوج سے دور نہیں شاید اور نزدیک کیا۔

نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے دنوں میں اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام عباسی بھی عمران خان کے قریب تھے۔ کہا جاتا ہےکہ سال دوہزار چودہ میں دھرنے کے خاکےمیں دونوں نے مل کرہی رنگ بھرا تھا۔ اس موقع پر لاہور میں سابق آئی ایس آئی چیف جنرل احمد شجاع پاشا نے اپنے قریبی دوست پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود سے ملاقات کی تھی۔ اس وقت مجھ سمیت اکثر لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ دھرنے کے پیچھے پاشا ہیں لیکن اب پتہ چلا ہے کہ لاہور کی اس ملاقات میں پاشا نے دھرنے کی مخالفت کی تھی اور عمران خان کو پیغام بھیجا تھا تھا کہ دھرنا ناکام ہوجائے گا اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس بات کی پاشا بھی تصدیق کرتے ہیں۔ ہوا بھی وہی، دھرنے نے عمران خان کو تو کوئی فائدہ نہ دیا تاہم نوازشریف کی منتخب حکومت کو نقصان بہت پہنچا اور باقیوں کے حصے میںبھی بدنامی آئی۔

کوئی مانے یا نہ مانےعمران خان وزیراعظم بن چکے ہیں۔ جمعرات کو جب اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ جی ایچ کیو گئے تو آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری فوٹیج میں آرمی چیف کو انہیں چھڑی کے بغیر سیلوٹ کرتے اور جی ایچ کیو میں مرکزی کرسی پر بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ سیلوٹ پہلے بھی کئے جاتے تھے اور مرکزی نشست پر وزرائے اعظم کو پہلے بھی بٹھایا جاتا تھا مگر ان کی فوٹیج جاری نہیں کی جاتی تھی۔

یہ سب اس بات کا اظہار ہے کہ فوج دل سے عمران خان کو اپنا وزیراعظم تسلیم کرتی ہے۔ ملکی تاریخ کی پچھلی تین دہائیوں میں وزارت عظمیٰ پر تین بڑی شخصیات براجمان رہیں۔ جنہوں نےاپنی مدت میں اس عہدے پرانمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان تین شخصیات میں بے نظیر بھٹو ، نوازشریف اور یوسف رضا گیلانی شامل ہیں۔

بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ پر ان کے والد کی موت اور نوازشریف کی وزارت عظمیٰ پر بارہ اکتوبرکے واقعات کی پرچھائیاں رہیں جبکہ یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ، آصف زرداری صاحب کی زیر بار رہی۔

عمران خان اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان پر ماضی کا کوئی سایہ موجود نہیں۔ ان کا فوج میں تاثر سیدھے سادے ، نیک نیت شخص کا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر عمران خان نے اپنی مرکزی اور صوباِئی کابینہ کے انتخاب میں کی گئی غلطیوں کو بروقت درست کرلیا۔ انتقام کی سیاست کو ترک کرکے ریفارم کی سیاست پر توجہ دی اور غیر ضروری جھگڑوں کی بجائے اپنی استعداد کار میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کی بہتری کے اقدامات کئے اور عوام کو اپنے ساتھ رکھا تو وہ تمام شعبوں کے اختیارات بھی حاصل کرلیں گے اور آسانی سے نہ صرف پانچ سال پورے کریں گے بلکہ ملک کو بھی آگے لے جائیں گے۔فوج یقیناََان کے ساتھ ہوگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں