آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت عبدُاللہ شاہ غازی کے عرس کی تقریبات کراچی میں جاری ہیں ، پاکستان اور بیرون ملک سے عقیدت مند مزار پر پہنچنا شروع ہوگئے۔ تین روزہ عرس کی سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے مزار کے اطراف سی سی ٹی وی کیمرے نصب اور رینجرز اور پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے۔

برصغیر کے مشہور صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے بارہ سو 88 ویں سالانہ عرس کا آغاز آج سے ہوگیا ، عرس کی تقریبات کا اغاز سیکرٹری اوقاف اور مذہبی امور ریاض سومرو نے کیا۔پاکستان بھر سے زائرین مزار پہنچ رہے ہیں ۔

عرس کی تقریبات میں نماز عشا کے بعد عقیدت مندوں نے دھمال ڈالا ،معروف قوالوں کی جانب سے عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا

عرس کے موقع پر سیکیورٹی کے لئے مزار کے اندر اور اطراف سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔

عبد اللہ شاہ غازی کراچی کے نہایت معروف و برگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں۔ آپ کا مزار کلفٹن، کراچی میں واقع ہے۔

تاریخ کے مطابق عبد اللہ شاہ غازی امام محمد نفس الزکیہ کے فرزند تھے اور عبد اللہ شاہ غازی اہل بیت میں سے تھے۔

آپ کی مدینہ میں 720ء میں ولادت ہوئی اور آپ سندھ میں تقریباً 760ء میں تشریف لائے اور اپنے ساتھ بہت زیادہ مقدار میں گھوڑے لائے تھے جو اپ نے کوفہ، عراق سے خریدے تھے۔

بعض روایات کے مطابق عبد اللہ شاہ غازی کو خارجیوں نے شہید کیا تھا جو جنگل میں چھپے ہوئے تھے۔ اور شہادت کے بعد اپ کی لاش کو اپ کے جانشین کراچی لے آئے تھے اور آپ کو ایک ٹیلا نما پہاڑ موجودہ کلفٹن، کراچی میں دفنا دیا تھا۔ اور آپ کے بھائی مصری شاہ جو آپ کے ساتھ شہید ہوئے تھے ان کو موجودہ کراچی ڈیفینس میں دفنایا گیا تھا۔

کراچی کے کچھ شہریوں کا ماننا ہے کہ عبد اللہ شاہ غازی کی وجہ سے کراچی سمندری طوفان سے محفوظ ہے۔ اور اس پاک ہستی کی وجہ سے بحر ہند سے کبھی کوئی طوفان کراچی سے نہیں ٹکرایا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں