آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی فٹ بال ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ طارق لطفی نے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کپتان اور 7کھلاڑیوں کا پریمیئر لیگ فٹ بال میں شامل نہ ہونا حیران کن ہے، پریمیئر لیگ میں ٹاپ ٹیموں کی عدم شرکت ایک سوالیہ نشان ہوگی، پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ سے خصوصی درخواست ہے کہ 3 سال کے وقفے کے بعد شروع ہونے والی لیگ میں ٹیموں کی تعداد بڑھائی جائے۔

جنگ سے باتیں کرتے ہوئے طارق لطفی کا کہنا تھا کہ پاکستانی فٹ بال کا سب سے بڑا ایونٹ پریمئر لیگ15 ستمبر سے پنجاب کے 4سینٹرز پر شروع ہورہا ہے اور اس کا فائنل رائونڈ سندھ میں متوقع ہے۔ 3 سال بعد ہونے والے ایونٹ میں پاکستان کی کئی ٹاپ کلاس ٹیمیں شامل نہیں ہیں جن میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی ٹیم بھی شامل ہے، صدام حسین جنہیں دو سال کیلئے قومی ٹیم کا کپتان بنایا گیا ہے وہ ،نائب کپتان اور دیگر کھلاڑی بھی ساف چیمپئن شپ کھیلنے ملک سے باہر گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی فٹ بال کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہاں ڈومیسٹک سسٹم انتہائی کمزور ہے۔ اس سسٹم کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بیک وقت کئی کئی کھلاڑی تیار ملیں جو عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کیلئے دستیاب ہوں۔ پاکستان فٹ بال فیڈرشن کے سربراہ فیصل صالح حیات فٹ بال کا بڑا ویژن رکھتے ہیں، انہیں فوری طور پر اس صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ ادارے جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنے ادارے میں نئی ٹیموں کو تشکیل دیا ہے ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ملکی ایونٹس میں شامل کیا جائے۔

طارق لطفی نے مزید کہا کہ جب ہمارے کھلاڑی ان ایونٹس میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے تو ہمارے پاس بھی ملک میں دستیاب باصلاحیت کھلاڑیوں کو اپنے اداروں میں کھپانے کا موقع ملے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں