آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجلی نظام کی اصلاح اولین ترجیح

اس ملک میں لوڈشیڈنگ تو اب اوڑھنا بچھونا ہے ہی کہ بجلی کی ترسیل کا نظام بھی اس قدر بگڑا ہوا ہے کہ ہر روز ملک بھر میں کروڑ وں کا بجلی کا سامان جل جاتا ہے، کبھی وولٹیج اس قدر کم اور کبھی اچانک اتنے زیادہ کہ ایک ہی جھٹکے میں گھریلو استعمال کے برقی آلات، اے سی، فریج، پنکھے،اوونز اور بلب اڑ جاتے ہیں، بالعموم یہ کارروائی اس وقت رونما ہوتی ہے جب لوگ سورہے ہوتے ہیں۔ ہم نئی حکومت سے زور دے کر کہیں گے بجلی کی ترسیل اور فراہمی کے نظام کی درستگی کو پہلی ترجیح دے، پچھلی حکومت لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا نعرہ لگاتی حکومت میں داخل ہوئی تھی اور یہی اس کی جڑوں میں بیٹھ گئی اور بالآخر عوام کا غصہ انتخابات میں ظاہر ہوگیا۔ کے الیکٹرک نے جو تماشا لگا رکھا ہے اس کا احوال کراچی والوں سے کوئی پوچھے، لوڈشیڈنگ تو جاری ہے کہ بجلی کی تاروں کے فرسودہ نظام نے دو بچوں کے ہاتھ بھی چھین لئے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت بجلی مسائل حل کرنے پر فوری توجہ دیں کہ اس سے عوام براہ راست بری طرح متاثر ہیں۔ پنجاب حکومت لیسکو کی پرسش کرے، کیونکہ لیسکو اور پی ٹی سی ا یل پر لائن مینوں کا راج ہے۔ نئے ٹرانسفارمرز، نئی تاریں بازار میں بک جاتی ہیں اور پرانے ٹرانسفارمرز ہی کو بار بار مرمت کرکے کام وقتی طور پر چلایا جاتا ہے، جب کسی گھر میں تمام آلات لو وولٹیج یا ایک دم ہائی وولٹیج سے جل جاتے ہیں تو گھروں میں حکمرانوں پر جو تبرا پڑھا جاتا ہے کبھی اس کا ریکارڈ بھی حاصل کیا جائے کہ وہ عوام کو پیارے ہیں یا پیارے ہوچکے ہیں؟ فوری نوعیت کی ضروریات کی ٹھیک طرح سے عدم فراہمی عوام پر کیا منفی اثرات مرتب کرتی ہے حکومت کمپنی کی مشہوری کو بچانے کی خاطر ہی سب سے زیادہ توجہ اس جانب دے ورنہ نیا، پرانے پاکستان سے بھی زیادہ پرانا اور بیکار ہو جائے گا۔ پاکستان حسین ترین ملک اور سب سے بڑی نعمت ہے مگر بیڈ گورننس نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ لاہور میں اندرون شہر اور نئی عوامی غریب لوگوں کی بستیوں میں کھمبوں، تاروں اور ٹرانسفارمرز کا منظر دیکھ کر گورکھ دھندے کا مفہوم سمجھ میں ہی نہیں نظر بھی آجاتا ہے۔

٭٭ ٭ ٭ ٭

کھڈے لائن دیانتدار افسران کا کھوج لگائیں

اچھے برے افسران، اہلکاران ہر محکمے میں ہوتے ہیں، مگر ناجائز حکومتی سیاسی مداخلت کے باعث جو لائق، ایماندار افراد ہوتے ہیں انہیں کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے کیونکہ وہ غیر قانونی کام کسی کے کہنے پر کرنے سے انکار کردیتے ہیں، جب لاہور گدھوں کا گوشت کھارہا تھا تو فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی ایک فعال افسر نے فیلڈ ڈیوٹی کرکے تنہا پورے شہر میں مضر صحت اشیائے خوردنی بنانے، بیچنے والوں کو نتھ ڈالدی تھی، مگر افسوس کہ اسے اس طرح منظر سے غائب کیا گیا کہ آج اخبارات میں اس کا نام تک نہیں ہوتا۔ اس افسر کے چھاپوں نے لاہور سے ملاوٹ ختم کرنے کیلئے بڑی مہم چلائی تھی، مگر ہمارے ہاں چونکہ اہل سیاست و حکومت، سیاست وحکومت کو کاروبار سمجھتے ہیں، سارے غلط دھندوں کے پیچھے ان کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ کوئی دیانتدار افسر ان کے حرام کاروبار کو ٹھپ کردے۔افسر کی طرح ہر صوبے میں ایماندار لائق افسروں، اہلکاروں کو او ایس ڈی بنانے کی روش عام ہے۔ اسے جب تک ختم نہیں کیا جائے گا کسی بھی شعبے میں بہتری نہیں آئے گی، اگر نئی حکومت نیا اچھا سا پاکستان بنانا چاہتی ہے تو اسے پہلے ان دیانتدار افسروں، اہلکاروں کا سراغ لگا کر سامنے لانا ہوگا جو اپنے جائز کاموں اور محکمانہ ذمہ داریاں نبھانے میں کوئی بےجا حکومتی سیاسی مداخلت برداشت نہیں کرتے۔ پولیس میں اچھی خاصی تعداد میں دیانتدار آفیسرز اور دیگر اہلکار موجود ہیں، مگر انہیں دیوار سے لگادیا گیا ہے۔ صرف انہیں رہنے دیا جاتا ہے جو خود بھی کھاتے ہیں اور کھلاتے بھی ہیں، بیوروکریسی میں اگر جھانکا جائے تو ایک اچھی خاصی تعداد ایسے افسران کی نکل آئیگی جنہیں غیر فعال کردیا گیا ہے۔ 36بددیانت پٹواریوں کا تبادلہ کرنیوالی اسسٹنٹ کمشنر اس وقت پٹواریوں کے ہاتھوں اجیرن ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اس دیانتدار خاتون افسر کو تحفظ فراہم کرے ورنہ اس کا انجام بھی باقی افسروں جیسا ہوگا۔ اس سلسلے میں سخت کارروائی کی جائے ورنہ یہ بات درست ثابت ہوجائیگی کہ نئے پاکستان میں ڈپٹی کمشنرز اسٹنٹ کمشنرز سے زیادہ طاقتور پٹواری ہیں۔

٭٭ ٭ ٭ ٭

ساقی شراب پینے دے اسپتال میں بیٹھ کر

کراچی، چیف جسٹس کے اسپتالوں میں مقیم ملزموں پر چھاپے، شرجیل میمن کے کمرے سے شراب برآمد، اگر سیاست کو منافع بخش کاروبار سمجھنے والے جیلوں میں جائیں گے تو وہ سیاسی قیدی نہیں کہلائیں گے، اکثر سیاسی جماعتوں کی طرف سے اپنے ملزم رہنمائوں کو نہ جانے کیوں سیاسی قیدی ہونے کا تاثر دیا جاتا ہے۔ شرجیل میمن کے کمرے سے شراب چیف جسٹس پاکستان نے برآمد کی۔ ہماری جیلوں میں اوپر کی سطح پر ایسے افسران موجود ہیں جو اب بھی سیاسی مداخلت قبول کرتے ہیں اور قیدیوں کو آرام کے لئے اسپتال کے پرآسائش وی آئی پی کمروں میں بھیجتے ہیں، جبکہ حقیقی شدید بیمار کوئی کوئی ہوتا ہے، اگر اسپتالوں میں بلاوجہ بڑے پیٹوں والے ملزم شراب پہلو میں رکھ کر آسودہ نہ ہوتے اور ذمہ داران پر اعتبار ہوتا تو ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے جج کو کیوں شک ہوتا کہ اسپتالوں میں ملزموں کو آرام کرایا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر دو شعر سوالاً جواباً دیکھے، حسب حال ہیں آپ بھی ملاحظہ کرلیں؎

ساقی شراب پینے دے اسپتال میں بیٹھ کر

یا پھر وہ جگہ بتا جہاں چیف جسٹس نہ ہو

ساقی کا جواب؎

اسپتال مریض کا گھر ہے پینے کی جگہ نہیں

کسی اور ہائوس جا جہاں پینا منع نہ ہو

اسپتالوں میں عام گھروں سے آنے والے ایک غیر عوامی مریض جب جنرل وارڈ میں جمع کرائے جاتے ہیں تو ان کی جو درگت بنائی جاتی ہے اس کے نتیجے میں مریض موقع پاکر فرار ہوجاتا ہے کہ شاید وہ شفاخانے کے بجائے مردہ خانے میں آگیا ہے، بہرحال شراب کی بوتل بھی چیک ہونے کیلئے لیبارٹری بھیج دی گئی ہے تاکہ اسےشربت کی بوتل ثابت کیا جائے اور اس طرح شرجیل کا تقویٰ محفوظ رہے اس کیس کو دوسری جیلوں تک بھی پھیلا دیا جائے کہ وہاں کے کتنے مریض جیل اسپتالوں میں علاج کے قابل نہیں، اب کوئی بولے گا کہ چیف جسٹس کا کام چھاپے مارنا نہیں، جب چھاپہ مار چھاتہ بردار ہوجائینگے تو پھر منصف اعلیٰ ہی کو چھاپہ مارنا پڑے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں