آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاسی رہنما سرکاری عہدے کے بغیر ایک عوامی شخصیت ہوتے ہیں۔ عوام سے انہیں کوئی خوف نہیں ہوتا ،کوئی زندگی کا خطرہ نہیں ہوتا۔ اور وہ عوام میں گھل مل جاتے ہیں۔ لیکن افسوس سرکاری عہدہ ملنے کے بعد اچانک ان کے " عوامی طرز زندگی" میں تبدیلی آجاتی ہے۔ پروٹوکول پروٹوکول کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ یکدم " عوامی سیاسی شخصیت " کی زندگی کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں اور عوام سے دور رہناان کی مجبوری قرار دی جاتی ہے۔ اور ایسے میں پروٹوکول لازمی قرار پاتا ہے۔ کبھی کبھار یہ گمان ہوتا ہے کہ سرکاری عہدہ ہوتا ہی ہے صرف پروٹوکول کو " انجوائے " کرانے کے لیے۔ کہنے کو آپ " عوام کی قسمت کے دعویدار" بن کے یہ عہدہ حاصل کرتے ہیں۔ لیکن عوام سے دوری آپ کانصب العین بن جاتا ہے۔ یہ دوری شاید مغلیہ دور کے زمانے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ حدتویہ ہے کہ خطرات صرف انسانی زندگی تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ زیرااستعمال رہائش تک بھی آجاتے ہیں ایسے میں رہائش کے سامنے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کردیا جاتا ہے اب عوام جانے اور ان کی قسمت ۔کبھی لمباراستہ لیکر تو کبھی گھنٹوں ٹریفک میں پھنس کر اپنے گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر جایئے۔ بھلے سے " صاحب مکین" اس عمارت میں موجود ہوں یا نہ ہوں۔ خطرات کے پیش نظر سڑک بند ہی رہے گی اس فوبیا کو زیادہ پروان پرویزمشرف کے دور میں ظفراللہ خان جمالی کے وزیراعظم بنتے ہی چڑھایاگیا۔ جوکہ واقعی ایک عوامی سیاسی رہنما تھے اور آج بھی ہیں۔ لیکن وزیراعظم بنتے ہی زندگی کے خطرات بڑھ گئے اور وزارت عظمیٰ سے ہٹتے ہی خطرات ختم ہوگئے ہے نا ایک " تحقیق طلب موضوع؟" درآمدی وزیرخزانہ اور پھر وزیراعظم اور اسٹاک مارکیٹ اسکینڈل فیم" (جس کی انکوائری کی ابھی تک ضرورت محسوس نہیں کی گئی ) شوکت عزیز صاحب جن پر قاتلانہ حملہ ہوتا ہےاور اس کی ویڈیو بن رہی ہوتی ہے اور وہ انتہائی طمانت سے گاڑی سے نکل کر باہر آکر معائنہ کرتے ہیں اور چہرے پہ کسی قسم کے خوف کے اثرات نہیں ہوتے لیکن ان کے وزارت عظمیٰ سنبھالتے ہی وزیراعظم کی سیکیورٹی کے اسکواڈ میں ایمبولنس بھی شامل ہوجاتی ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ لیکن کیا اب ہم تبدیلی کے بعد یہ یقین رکھیں کہ ایسا نہیں ہوگا؟ اعتزاز احسن صاحب اورعارف علوی صاحب جن کو حقیقی طور پر عوامی سیاسی لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ کیا ایوان صدر میں پہنچنے کے بعد یہ اپنے اطوار میں تبدیلی لائیں گے؟ کیا یہ بھی صدر کا پورا پروٹوکول استعمال کریں گے؟ یا اس کے برعکس عام انداز اختیار کریں گے؟ پروٹوکول پہ اٹھنے والے خرچ کو کم سے کم کریں گے؟ تاحیات ملنے والی صدارتی مراعات کوختم کروائیں گے؟ کیا من الحیث القوم" قرضوں میں جکڑی ہوئی عوام، غربت کی لکیر کے نیچے رہنے والے 50 فیصد افراد اپنے نئے صدر سے یہ قربانی مانگ سکتے ہیں؟ کیا وہ غریب عوام کی خاطر صرف اپنے ذاتی مراعات، آسائشات اور غیرملکی اخراجات تو ختم کردیں گے؟دل کہتا ہے کہ یقیناً کیوں نہیں stus quo کے خلاف آواز اٹھانے والے ایسا ضرور کریں گے۔ اب عوام کی جان اور مال کی حفاظت صحیح معنوں میں حکمران کریں گے اب عوامی پیسہ عوام ہی کی حفاظت اور فلاح پہ خرچ ہوگا۔ اب پروٹوکول کا خرچ عوامی خرچ سے نہیں ذاتی جیب سے ادا کیا جائے گا۔ ایک انسانی جان کو سب سے مقدم رکھا جائے گا۔ حق اور ناحق قتل کرنا کسی کے اختیار میں نہیں ہوگا پولیس ، وی آئی پیز کے بجائے عوام کی حفاظت پر معمور ہوگی۔ بجلی کی بلاتعطل فراہمی صرف صدارتی محل اور وزیراعظم ہاؤس قراردیئے جانے والے علاقوں میں نہیں ہوگی۔ہماری روایت یہ رہی ہے کہ ہروہ جگہ جہاں صدریا وزیراعظم وقتی رہائش پذیر ہوتے ہیں اسے بھی صدارتی محل یا وزیراعظم کا گھر تصور کیا جاتا ہے اور وہاں بھی بھرپور پروٹوکول فراہم کیا جاتا ہے بھلے سے وہاں صرف ملازمین ہی رہتے ہوں یا پھر گھر خالی پڑا ہوا ہو۔ جوکہ انتہائی زیادتی ہے۔حالانکہ یہ پروٹوکول کا تعلق برطانوی عہد سلطنت سے ہے وہ اپنے آپ میں اور برصغیر وہند کے باسیوں میں تفریق برقرار رکھنے کے لیے پروٹوکول کا سہارالیتے تھے۔ اور انہیں اندازہ تھا کہ ان کے ناجائز قبضہ کو برصغیر کے لوگ پسند نہیں کرتے اس لیے وہ اپنی جان کو خطرہ میں سمجھتے ہوئے حفاظتی حصار میں باہرنکلتے تھے۔ لیکن اب 71 سالوں کے بعد بھی وہی اندازکیا معنی رکھتا ہے؟ وہ قابض تھے آپ خادم، آپ اپنے ہیں وہ پرائے تھے۔ پھر نقالی کیسی؟۔۔۔۔۔

[email protected]

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں