آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لکڑی ایک قابل تجدید مواد ہے اور اب آسمان سے باتیں کرتی بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے لیے لوہے یا کنکریٹ کے استعمال کی بجائے فقط لکڑی پر بھروسہ کیا جا رہا ہے۔

ناروے کے علاقے برومنڈال میں زیرتعمیر عمارت کے ایک طرف لکھا ہےکہ یہ لکڑی سے تیار کردہ دنیا کی سب سے بلند عمارت ہو گی۔ اس عمارت کی تعمیر کے لیے نہ تو کوئی مچان نظر آ رہی ہے، نہ کرین اور نہ ہی گارا اور بجری اوپر لے جانے والی کوئی لفٹ۔ اس عمارت کی تعمیر لکڑی سے کی جا رہی ہے اور یہ لکڑی ناروے کے اپنے ہی جنگلات کی ہے۔

اس عمارت کی تعمیر مارچ2019ء میں مکمل ہو جائے گی، جو81میٹر بلند ہو گی۔ اس18منزلہ عمارت میں67تا149مربع میٹر کے27 اپارٹمنٹس ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایک ہوٹل، سوئمنگ پول، دفاتر اور ریستوران بھی اس عمارت کا حصہ ہوں گے۔

کیا یہ رجحان بین الاقوامی ہے؟

ناروے میں لکڑی سے زیرِ تعمیر عمارت کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن یہ دنیا کی سب سے بلند عمارت نہیں ہے۔ ویانا میں اس وقت ایک84میٹر بلند،24منزلہ عمارت زیرتعمیر ہے۔ اس عمارت کی تعمیر کے لیے لکڑی کو بنیادی مواد کے طور پراستعمال کیا جارہا ہے تاہم اس کی سیڑھیاں سیمنٹ کی ہیں۔ ویانا میں قائم کی جانے والی اس عمارت میں اپارٹمنٹس، دکانیں اور دفاتر وغیرہ ہوں گے۔ آسٹریا میں لکڑی کے صنعتی استعمال کو نہایت اہمیت حاصل ہے اور یہ ملک دنیا بھر میں کراس لیمینیٹڈ لکڑی کی پیداوار میں سرفہرست ہے۔ تیرنے ضلع میں قائم ایک پوری عمارت کراس لیمینیٹڈ لکڑی اور شیشے سے بنائی گئی ہے۔ یہ عمارت نو منزلہ ہے۔

جرمنی میں بھی لکڑی کی مدد سے ایک آٹھ منزلہ عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ باویریا میں یہ عمارت جس علاقے میں تعمیر کی گئی تھی، وہ امریکی فوج کے زیراستعمال تھا۔ اب یہ عمارت توانائی کے کم استعمال کے حوالے سے بطور مثال دِکھائی جاتی ہے۔

جاپان میں دنیا کی بلند ترین لکڑی کی عمارت کا منصوبہ

ایک جاپانی کمپنی2041ء میں اپنی350 ویں سالگرہ منانے کے لیے دنیا کی بلند ترین لکڑی کی عمارت تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ کمپنی سومیتومو فوریسٹری نے کہا ہے کہ 70منزلہ ’ڈبلیو 350 ٹاور‘ اسٹیل اور ایک لاکھ80ہزار مکعب میٹر دیسی لکڑی پر مشتمل ہوگا۔یہ عمارت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں بنائی جائے گی۔ کمپنی کے مطابق، اتنے سامان میں آٹھ ہزار گھروں کی تعمیر ہو سکتی ہے۔ 

اس عمارت کی ہر منزل کی بالکنی پر پیڑ، پودے اور سبزہ زار ہوں گے۔ ’ایک مضبوط اور کسا ہوا‘ ٹیوب نما اسٹیل کا ڈھانچہ قطری انداز میں ہوگا، جس کے ساتھ ارتعاش یا وائبریشن کنٹرول بریسیز عمارت کے مرکز میں لکڑی اور اسٹیل کے350میٹر ستون سے منسلک ہوں گے تاکہ یہ عمارت ٹوکیو میں آنے والے مستقل زلزلوں سے محفوظ رہے۔ اس عمارت کی تعمیر پر تقریباً 600 ارب ین (ساڑھے پانچ ارب امریکی ڈالر سے بھی زیادہ) یا اسی سائز کی عام بلند و بالا عمارت میں لگنے والی رقم سے دُگنی رقم خرچ ہوگی۔ لیکن سومیتومو کمپنی کا خیال ہے کہ اس کی تعمیر میں اس تخمینے سے کم خرچ آئے گا اور اس کی بنیاد اس کے خیال میں ٹیکنالوجی میں نئی چیزوں کی دریافت ہے۔ کمپنی کے مطابق ’ڈبلیو 350 ٹاور‘ کا استعمال دفاتر، دکان، ہوٹل اور گھروں کے طور پر ہوگا۔

دی گارڈین اخبار کے مطابق ابھی وینکوور کی53میٹر بلند عمارت دنیا کی بلند ترین لکڑی کی عمارت ہے جس میں طلبہ کے فلیٹس ہیں۔

لکڑی کی عمارتیں ابھی منافع بخش نہیں

جرمن تعمیراتی کمپنی کاڈن لاگر جرمنی میں اس طرز کی ہی ایک عمارت تعمیر کر رہی ہے۔ ہائلبرون کے علاقے میں تعمیر کی جانے والی اس عمارت میں زیادہ تر لکڑی ہی استعمال ہو رہی ہے۔ یہ دس منزلہ عمارت34میٹر بلند ہو گی۔ معروف ماہر تعمیرات ٹوم کاڈن نے ایک جرمن جریدے سے بات چیت میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لکڑی کے گھروں کی تعمیر ہر شخص کی دسترس میں ہو۔ اس لیے وہ لکڑی کی کیلوں کی بجائے دھاتی کیلیں استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق لکڑی کی عمارتوں کی تعمیر میں آنے والی لاگت کو کم کیا جانا ضروری ہے۔ کاڈن آسٹریا کی ایک جامعہ میں ’لکڑی سے تعمیر‘ کا مضمون بھی پڑھاتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں