آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
صدر ِ پاکستان آصف علی زرداری صاحب پاکستان کے کسی بھی شخص سے زیادہ خبروں میں رہتے ہیں اور یہ بات اُن کے لئے اور پاکستان کیلئے خوشگوار ہر گز نہیں ہے۔ سب سے پہلے لاہور ہائی کورٹ کو لے لیں جہاں اُن کے خلاف دو کیسز کی سماعت جاری ہے۔ داخل کی گئی ایک پٹیشن کے مطابق اُن کو بیک وقت دو عہدے رکھنے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے یا تو وہ پی پی پی کے شریک چیئرمین کے عہدے سے دستبرداد ہوجائیں یا صدر ِ پاکستان کا منصب چھوڑدیں۔ دوسری پٹیشن کے مطابق وہ صدارتی منصب پر فائز ہونے کے باوجود سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے توہین ِ عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں۔اس سے پہلے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ صدر ِ مملکت کو سیاسی طور پر غیر جانبدار ہو نا چاہیے کیونکہ یہ عہد منتخب شدہ پارلیمان کی منشا کی بجائے ریاست ِ پاکستان خدمت کا متقاضی ہے۔
اگر زرداری صاحب کے خلاف پہلی سماعت پر فیصلہ آجاتا ہے تو اُن کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ اُن کو دونوں میں سے کون سا عہدہ اپنے پاس رکھنا ہے۔ اگر وہ پی پی پی کے شریک چیئر مین کے عہدے سے دستبردار ہوتے ہیں تو وہ آنے والے انتخابات میں پی پی پی کے لیے کوئی فعال کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔ پی پی پی کے چیئرمین مسٹر بلاول بھٹو ابھی اتنے نوعمر اور ناتجربہ کار(سیاسی لحاظ سے) ہیں کہ یہ دشوار گھاٹی

ابھی اُن سے سر نہیں ہوگی جبکہ زرداری صاحب کے متبادل کے طور پر بھی پی پی پی کے پاس کوئی شخصیت نہیں ہے ۔ اگروہ ایوان ِ صدر سے رخصت کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ صدارتی استثنیٰ کھو بیٹھیں گے، چنانچہ اندرون ِ اور بیرون ِ ملک اُن پر مقدمات شروع ہو جائیں گے۔
اب اس صورت ِ حال میں زرداری صاحب کی دلیل یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے اُن کو سیاسی کردار سونپا گیا ہے ، چنانچہ عدالت اُن کو سیاست میں حصہ لینے سے نہیں روک سکتی۔ ایسا کرنا عدالت کی طرف سے ایک منتخب شدہ ادارے کی خود مختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ عدالت کے سامنے اٹارنی جنرل اس حدتک دوٹوک لہجے میں بات کرچکے ہیں کہ ” سپریم کورٹ کی طرف سے پارلیمنٹ کی خود مختاری کو تسلیم نہ کرنا بذات ِ خود غیر آئینی ہے“۔ چنانچہ ہو سکتا ہے کہ معاملہ تصفیے کی طرف جانے کی بجائے کسی نئی محاذآرائی کی طرف چلا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں پھیلی افراتفری اورسیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو گا۔
زرداری صاحب نے جوڈیشل کمیشن پاکستان ، جس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان کررہے ہیں، کی طرف سے جسٹس اقبال حمیدالرحمان کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس انور کاسی کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نامزد کرنے، جسٹس شوکت عزیر صدیقی کو مستقبل بنیادوں پر تعینات کرنے اورجسٹس نور الحق قریشی کو ایکسٹینشن دینے کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ صدر صاحب نے اس فیصلے پر دستخط کرنے کی بجائے اسے نظر ِ ثانی کے لئے واپس چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔ اُن کی دلیل یہ ہے کہ یہ فیصلے کرتے وقت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل غیر آئینی تھی کیونکہ 22 اکتوبرکو کمیشن کی کاروائی میں جسٹس کاسی کی بجائے جسٹس ریاض کو شامل ہونا چاہئے تھا کیونکہ موخر الذکو سینارٹی حاصل ہے۔ جب جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا تو سینارٹی کا معاملہ وزارت ِ قانون میں زیر ِ التوا تھا مگر اس کو مدِ نظر رکھے بغیر کمیشن نے فیصلہ کر لیا۔
یہ معاملہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کی طرف سے فوری طور پر حل کیا جاسکتا تھا کہ جسٹس ریاض کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس نامزد کر دیا جاتا ۔ اس کی بجائے سپریم کورٹ نے اُس پٹیشن کی سماعت شروع کردی جس میں صدر ِ مملکت کی طرف سے وہ فیصلہ جوڈیشل کمیشن کے پاس واپس بھجوانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔اگر دیکھا جائے تو زرداری صاحب اس کیس کو جوڈیشل کمیشن کے پاس نظر ِ ثانی کے لئے بھجوانے میں حق بجانب تھے کیونکہ جسٹس ریاض بہرحال سینئر ہیں اور اُن کو حق سے محررم کیا گیا تھا۔ دوسری طرف درخواست دہندہ بھی غلط نہیں ہے کہ مسٹر زرداری جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو رد نہیں کر سکتے۔ اس لئے اگر اب سپریم کورٹ نے صدر ِ مملکت کو حکم دے دیا کہ وہ اُس پر دستخط کریں تو معاملہ خراب ہو جائے گا۔
ان قانونی پیچیدگیوں کے علاوہ زرداری صاحب کو کراچی کے حالات کے حوالے سے ایک اورطوفان کا سامنا ہے۔ ان کی ایک حلیف جماعت اے این پی کراچی میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ دہشت گردوں اور مجرموں کا قلع قمع کرتے ہوئے امن قائم کیا جاسکے، جبکہ دوسری حلیف جماعت ایم کیوایم کسی بھی آپریشن کی شدید مخالفت کرتی ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ 1992 کے آپریشن کی طرح اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ اے این پی سندھ میں لوکل گورنمنٹ ضابطے کی بھی مخالفت کررہی ہے کیونکہ اس کے ذریعے پی پی پی نے ایم کیو ایم کی منشا پوری کر دی ہے، تاہم ایم کیو ایم ابھی بھی خوش نہیں ہے کیونکہ پی پی پی مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ وہ اے این پی اور ایم کیو ایم مخالف عناصر کو ناراض نہیں کرناچاہتی۔ اس معاملے کو سپریم کورٹ کے بیان ، کہ سندھ حکومت امن وامان میں ناکامی پر حکومت کرنے کا اختیار کھو دے گی، نے مزید سنگین کر دیا ہے ، تاہم سندھ حکومت فوج کو مددکے لیے بلانے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ یہ اقدام اپنی حکومت پر عدم اعتماد کی قرار داد کے مترادف ہو گا۔ اس سے ایم کیو ایم بھی مشتعل ہو کر وفاقی حکومت سے نکل جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کے بعد بھی پی پی پی کے ساتھ ملنے سے انکار کردے۔ ایسی صورت میں پی پی پی کے لئے اگلے پانچ سال کے لئے حکومت سازی مشکل ہوجائے گی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ان مہیب مشکلات میں سے بیشتر کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ زرداری صاحب خود ہی ہیں۔ اُنھوں نے اُس وقت کوئی مزاحمت نہیں کی جب جج صاحبان نے مل کر مطالبہ کیا تھا کہ پارلیمنٹ آئینی ترامیم کے ذریعے اُن کو لامحدود اختیارات دے ۔ اب جب کہ جج صاحبان حکومت کے کاموں میں مداخلت کررہے ہیں توزرداری صاحب خود کوبے بس محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح اُنھوں نے مفاہمت کے نام پر کراچی، بلوچستان اور فاٹا کے حالات اس حد تک بگڑنے دیے کہ اب قابو سے باہر لگتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زرداری حکومت نے پانچ سال پورے کرلئے ہیں مگر ملک نے بدعنوانی اور عدم استحکام کی صورت میں اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اس کی وجہ سے وہ سب سے زیادہ مشکلات میں گھرے ہوئے شخص ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں