آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاہد شیخ

ایشین گیمز جکارتہ میں چین 132گولڈ میڈل حاصل کر کے سرفہرست ہے۔ تادم تحریر چین نے چاندی کے 92اور پیتل کے 65میڈل حاصل کئے ہیں۔ جاپان نے 75گولڈ میڈل حاصل کئے۔ چین اور جاپان کے گولڈ میڈلز کا فرق واضح کر رہا ہے کہ ایشیا میں کھیلوں کا سپر پاور ہائوس کونسا ملک ہے۔ بھارت نے اتوار کی صبح تک سونے کے 15، چاندی کے 21اور پیتل کے 30میڈل حاصل کئے ۔ بھارت 8ویں نمبر پرہے۔ ایران کو 20گولڈ، 20چاندی اور پیتل کے 22تمغوں کے ساتھ بھارت پر برتری حاصل ہے۔ بحرین نے 12گولڈ میڈل، تھائی لینڈ نے 11گولڈ میڈل، ہانگ کانگ نے 8گولڈ میڈل، قطر نے 6گولڈ میڈل، متحدہ عرب امارات اور کویت نے تین تین گولڈ میڈل حاصل کئے ہیں۔ پاکستان نے پیتل کے ساڑھے تین تمغے حاصل کئے ہیں۔ پاکستان کو کبڈی میں نصف تمغہ ملا تھا۔ یہ ساڑھے تین میڈل ہماری کھیلوں کی حقیقت اور منتظمین کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور ان کھیلوں میں بڑے فخر کے ساتھ (کھیلوں کے قومی وسائل کی لوٹ مار کرتے ہوئے)چار سو کے لگ بھگ کھلاڑیوں کا دستہ بھجوانے والوں کے لئے شرم کا مقام ہے۔ کھیلوں کے قومی وسائل کی لوٹ مار کب تک جاری رہے گی یہ ملک میں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت سے سوال ہے۔ جنگ سے تباہ ہونے والے ممالک شام اور افغانستان بھی چاندی کے ایک اور دو تمغے حاصل کر چکے ہیں۔ کیا ان کھیلوں میں شرکت پر خرچ ہونے والے کروڑوں روپے کا حساب کتاب لیا جائے گا۔ چند جوائے رائیڈرز نے قومی کھیلوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ نئی حکومت احتساب کا عمل پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور اس سے ملحق تنظیموں سے شروع کرے۔ مچھلی اپنے سر سے سڑنا شروع ہوتی ہے اس کہاوت کے عین مطابق یہ تنظیمیں گل سڑ چکی ہیں اور اس کے اثرات کھلاڑیوں تک پہنچ رہے ہیں۔

گزشتہ برسوںکے دوران پاکستان سپورٹس بورڈ نے سرکاری خزانے سے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو کروڑوں روپے امدادی رقم دی ہے۔ کیا اس رقم کا حساب لیاگیاہے؟ پاکستان سپورٹس بورڈ ملک بھر میں کھیلوں کے انتظام کا بااختیار سرکاری ادارہ ہے لیکن یہ ادارہ کیاخدمات انجام دے رہاہے۔ پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں افسران کے لئے عالی شان رہائش گاہیں تو تعمیر کرلی گئی ہیں لیکن سپورٹس کے لئے سہولتیں دن بدن کم ہوتی جارہی ہیں۔ بادشاہوں کے شایان شان ان رہائش گاہوںکے ساتھ عالیشان گاڑیوں کا بیڑہ افسروں کے لئے موجود ہے۔ پی ایس بی کے دودفاتر کی آرائش کے نام پر کروڑوں روپیہ اڑادیا گیا ہے۔

ایشیائی کھیلوں میںقومی ہاکی ٹیم نے اپنے آخری گروپ میچ میں بنگلہ دیش کو پانچ گول سے شکست دی۔ منگل کی شام ہونے والے اس میچ کے نتیجے سے قطع نظر پاکستانی ٹیم پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی تھی لیکن اس کے بعد جاپان نے ایک گول سے شکست دے کر ہماری حقیقت عیاں کر دی۔

ایشیائی کھیلوں میں پاکستانی دستہ کے پیتل کے تمغوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر ساڑھے تین ہو گئی ہے۔ پاکستان کے لیے کانسی کا تیسرا تمغہ ایتھلیٹ ارشد ندیم نے پیر کو جیولن تھرو کے مقابلے میں حاصل کیا۔ ارشد نے 80.75 میٹر نیزہ پھینک کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔

جیولن تھرو مقابلہ کے اختتام پر بھارتی گولڈ میڈلسٹ نیرج چوپڑہ نے وکٹری سٹینڈ پر ارشد ندیم کے ساتھ ہاتھ ملایا اور انہیں مبارکباد دی۔ایشین گیمز کے ان نتائج کے بعد ملک میں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ ہماری سپورٹس پالیسی کیا ہے اور ہمارے سپورٹس منتظمین کی موجودہ اہلیت کے ساتھ ہم ایشیا میں کہاں جا رہے ہیں اس ضمن میں ایک تجویز یہ بھی آئی ہے کہ ایشین گیمز کے پہلے مرحلہ پر ہارنے والی تمام ٹیموں کی فیڈریشنز کی سرکاری امداد بند کر دی جائے اور ان کے نتائج کی بنیاد پر مستقبل کا فیصلہ غیر جانبدار ماہرین کی ایک کمیٹی کرے۔

گیمز میں شرکت کے نام پر قومی وسائل کی لوٹ مار ختم ہونی چاہئے۔ عالمی مقابلوں میں کھلاڑی بھجوانے کے لئے معیار مقرر کیا جائے۔ سیلف سپانسر سکیم کے نام پر پاکستانی پرچم والا بلیزربرائے فروخت نہیں ہونا چاہئے۔ عمران خان اس وقت وزیراعظم پاکستان ہیں۔ انہوں نے 1971ء سے 1974ء تک سبز بلیزر حاصل کرنے کے لئے کس قدر محنت کی تھی اس کا اندازہ کوئی کھلاڑی ہی لگا سکتا ہے۔ عمران خان کے دور حکومت میں تو سبز بلیزر برائے فروخت نہیں ہونا چاہئے۔ عوام توقع کر رہے ہیں کہ قومی زندگی کے ہر شعبے میں کفایت شعاری کی تلقین کرنے والی حکومت اس جانب بھی توجہ دے گی۔ ایتھلیٹک کے ایک برانز میڈل پر لڈی ڈالنے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ 1954میں پاکستان کی عمر سات برس تھی اور ہم نے ایشین گیمز ایتھلیٹکس میں چار گولڈ میڈل حاصل کئے تھے۔ حکومت کو گیمز پر کئے جانے والے اخراجات اور نتائج کا حساب لینا چاہئے۔ ایک سیلف سپانسر کھلاڑی کا خرچ پانچ لاکھ روپے بتایا جا رہا ہے۔ 350کے دستہ میں سے جو کھلاڑی سرکاری خرچ پر گئے ہیں ان پر ہونے والے خرچ کا تخمینہ کروڑوں روپے میں ہے۔ کیا اتنے بھاری اخراجات کے بعد پیتل کے ساڑھے تین میڈل حاصل کر کے وطن واپس آنا کسی بھی لحاظ سے پاکستان کے لئے باعث عزت ہے۔

ہاکی فیڈریشن کا ایشین گیمز میں گولڈ میڈل کا لالی پاپ نہیں چل سکا اور ٹیم سیمی فائنل میں جاپان کے خلاف ایک گول سے ہار گئی۔ اس سال کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان ہاکی ٹیم دس ٹیموں میں ساتویں نمبر پر آئی تو پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے آواز آئی کہ نئے کوچ رولینٹ آلٹمینز کا چونکہ یہ پہلا ٹورنامنٹ ہے اور ٹیم کی تشکیل نو ہورہی ہے۔اسی سال چمپیئنز ٹرافی کے الوداعی ایونٹ میں وائلڈ کارڈ کی مرہون منت شرکت کرتے ہوئے ہاکی ٹیم نے چھ ٹیموں میں سب سے آخری پوزیشن حاصل کی تو فیڈریشن نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ہماری تمام تیاری ایشین گیمز کے لیے ہے جس میں ہم گولڈ میڈل جیت کر کے 2020 کے اولمپکس کے لیے براہ راست شرکت کو یقینی بنائیں گے۔یہ لالی پاپ پاکستان ہاکی میں پہلی مرتبہ استعمال نہیں ہوا۔ ماضی میں بھی ہاکی فیڈریشن ایک خراب کارکردگی کے بعد اگلے ٹورنامنٹ کا سہانا سپنا دکھاتی رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں ہاکی فیڈریشن کی باگ ڈور ان سابق ہاکی اولمپینز کے ہاتھوں میں رہی ہے جو سیاست دان بننے کے بعد فیڈریشن میں آئے اور انھیں یہ گُربہت آسانی سے آتا تھا کہ سہانے سپنے کیسے دکھائی جاتے ہیں۔ ہاکی فیڈریشن میں جو بھی آیا وہ حکومت کی جانب سے مالی امداد نہ ملنے یا کم ملنے کا رونا ضرور روتا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہاکی فیڈریشن کو ہر دورِ حکومت میں چاہے وہ میرظفراللہ خان جمالی کی ہو یا یوسف رضا گیلانی کی یا پھر نواز شریف کی کروڑوں کے حساب سے گرانٹ ملی ہے۔ قاسم ضیا، اختر رسول، آصف باجوہ اور رانا مجاہد سے کسی نے حساب نہیں مانگا نہ ہی یہ پوچھا گیا کہ وہ اکیڈمیاں کہاں غائب ہوگئیں جن کے بارے میں بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے کہ ان کا جال ملک بھر میں پھیلا دیا گیا

ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان ہاکی کو تباہی سے دوچار کرنے والے فیڈریشن کے عہدیداروں کو حکومتی نمائندوں نے پھولوں کے ہار پہنا کر رخصت کیا۔موجودہ فیڈریشن کو بھی تین سال میں تقریباً 43کروڑ روپے مل چکے ہیں اس عرصے میں یہ فیڈریشن وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں سے بھی کچھ نہ کچھ حاصل کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر خالد سجاد کھوکھر کو یہ رقم بہت کم معلوم ہوتی ہے۔فیڈریشن کی 20کروڑ روپے کی ایک گرانٹ نگراں حکومت مایوس کن نتائج اور کارکردگی کی وجہ سے روک چکی ہے۔ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار گرانٹ روکے جانے پر شور تو مچاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ایک ایسے سال جس میں پاکستان کی سینئر ہاکی ٹیم کو کامن ویلتھ گیمز، چیمپینز ٹرافی اور ایشین گیمز جیسے بڑے ایونٹس میں شرکت کرنا تھی اور ابھی ورلڈ کپ باقی ہے فیڈریشن نے جونیئر ٹیم کے کینیڈا کے غیرضروری طویل دورے پر ایک بڑی رقم کیوں ضائع کر دی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں