آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایئرپورٹ سیکورٹی کاؤنٹر پر رکھی پلاسٹک ٹریز میں ٹوائلٹ سمیت ایئرپورٹ کے کسی بھی حصے سے زیادہ وائرس ہوتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق ایسی ٹریز عام نزلہ و زکام سے لے کر نمونیا، مثانے کے انفیکشن اور سارس سمیت مختلف امراض پیداکرنے والے وائرس کی نشوو نما کا باعث ہوتی ہیں۔

ایئرپورٹ سے گزرنے والے ہر مسافر کے چھونے اور باربار استعمال کی وجہ سے پلاسٹک ٹریزبہت زیادہ وائرس زدہ ہوجاتی ہیں جبکہ ان ٹریز کو شاذو نادر ہی وائرس سے پاک کیا جاتا ہے اور اُن کی سخت سطح وائرس کو ایک دن تک زندہ رہنے کا موقع دیتی ہے۔

یاد رہے کہ 2003ء میں فضائی سفر کو ہانگ کانگ سے شمالی و جنوبی امریکا، یورپ اور ایشیا بھر میں سارس(SARS) اور 2009ء میں میکسیکو سے امریکا فلو کی وباء پھیلنے کی وجہ قرار دیا گیا تھا۔

یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے محققین نے ریسرچ کے دوران فن لینڈ کے ہیلسنکی ۔وانتا ایئرپورٹ پر رش کے اوقات میں صفائی سے پہلے مختلف مقامات سے کئی ہفتے تک دن میں تین مرتبہ نمونے اکٹھے کیے۔

تحقیق کے دوران مختلف سطحوں پر 10 فیصد اور فضائی نمونوں میں 25 فیصد سانس کی بیماریاں پیدا کرنے والے وائرسز کی نشاندہی ہوئی۔

جبکہ ٹوائلٹ سے لئے گئے بیشتر نمونوں میں وائرس نشاندہی نہیں ہوئی، جس کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد لوگ اپنے ہاتھوں کی صفائی پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔

ریسرچ میں شریک پروفیسر جوناتھن وین ٹام کا کہنا ہے کہ یہ ریسرچ عوام میں وائرل انفیکشن کے پھیلاؤ کے حوالے سے شعور اجاگر کرتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں