آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی صوبے میں سیاحت کے فروغ اور نئی نسل کو اپنی تاریخ و تہذیب کے عکاس سیاحتی مقامات و آثار فدیمہ سے روشناس کرانے کے لئے اسکولز اور کالجز کےسلیبس میں سیاحت کا سبجیکٹ متعارف کروائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ قدرتی نظاروں، پہاڑوں، جھیلوں اور ریگستان و سمندر سمیت بیش بہا سیاحتی خزانے سے مالا مال ہےجسے فروغ دینے کے لئے گاشتہ ڈیڑھ سال سے ہم ہنگامی طور پر کام کر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج محکمہ سیاحت کے ذیلی ادارے سندھ ڈولپمنٹ کارپوریشن اور پاکستان ٹورزم سمت کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ عالمی سیاحتی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ایئرپورٹ سروسز، یونائٹیڈ انشورنس گروپ، پنجاب ٹورازم انڈسٹری، جنرل منیجر آئے بس اسٹائلس جمیرا دبئی، سسٹن ایبل ٹوئرازم فاؤنڈیشن اور دیگر ٹوئرازم اسپیشلسٹ بہ شریک تھے۔

تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر تعلیم و ثقافت سید سردا ر علی شاہ نے کہا کہ بہت ہی تھوڑے بجٹ کے ساتھ اور بہت ہی تھوڑے عرصے میں ایس ٹی ڈی سی اور محکمہء آرکیالاجی نے ملکر سندھ میں سیاحتی و آثارقدیمہ کی موثر بحالی کے کام کے اقدامات اٹھائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سے ہم نے پاکستان میں پہلی بار سیاحت کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ سیاحتی نمائش کا آغاز کیا اور یہ نمائش اسی سلسلے کی دوسری کڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ نمائش میں شریک دیگر ممالک کے نمائندگان اور وفود سندھ میں سیاحت کے بڑھتے ہوئے رجحان سے بھرپور استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں جس کے لئے میں ان کو تہہ دل سے خوش آمدید کہتا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے صوبے بھر میں کوٹ ڈجی سے لیکر ننگرپارکر تک ریسٹ ہاؤسز، کلچرل کامپلیکسز اور ٹوئرسٹ موٹیلز کا جال بچھایا ہوا ہے تاکہ ملکی وہ غیر ملکی سیاحوں کو کسی بھی سیاحتی مقام پر کم از کم واش روم جیسی بنیادی سہولیات میسر ہوں جوکہ پہلے فراہم نہیں کی گئیں تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ سیاحت کے فروغ کے لئے حکومتی اقدامات کے علاوہ سماج کی طرف سے بھی پیش رفت ہونی چاہئے ورنہ ابھی تک تو یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ مکلی جیسے عالمی ورثہ پر بھی جب کوئی بھی مقامی سیاح گھومنے جاتے ہیں تو وہاں مقبروں پر اپنے نام و یادگار لکھ کر ان کا حلیہ بگاڑ کر آتے ہیں، ہمیں اس قسم کی پریکٹس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہے کیونکہ اگر ہم خود اپنے سیاحتی مقامات و آثار قدیمہ کی حفاظت نہیں کریں گے تو پھر یہ چیز کسی بھی سرکاری کلرک کے سر کا درد نہیں ہو گی اور سماج کو خود آگے بڑھ کر اپنے مقامات کی مالکی کرنی ہے۔

محکمہ سیاحت کے ذیلی ادارہ ایس ٹی ڈی سی کی جانب سے مختلف نجی ٹورسٹ کمپنیوں کے اشتراک سے دو روزہ عالمی سیاحتی میلے میں 300 سے زائد کمپنیاں نمائش میں شریک ہیں۔

اس کے علاوہ سعودی آذبائیجان، جاپان، ترکی، ملائیشیا دبئی سمیت 10 ممالک کے وفود اپنے اپنے ملک کے سیاحتی مقامات کے اسٹالز لگائے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کی ہوٹل انڈسٹری، ٹورسٹ آپریٹرز، ایئرلائنز انڈسٹری اور دیگر ٹوئرازم سیکٹر سے متعلقہ کمپنیوں میں عالمی نمائش میں حصہ لیا ہے۔ یہ نمائش کل 6 ستمبر کی شام تک جاری رہے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں