آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر زراعت سندھ محمد اسماعیل راہو نے کہا ہےکہ وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کو اپنے حصے کا پانی نہ ملنے کی وجہ سے فصلیں متاثر ہوئی ہیں، وفاقی حکومت نے اگر ابھی بھی سندھ کو اپنے حصے کا پانی نہیں دیا تو حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ، میرپور خاص کی زمینیں بنجر بن جائیں گئیں۔یہ بات انہوں نے سندھ سیکریٹریٹ میں آبپاشی افسران اور بدین کے منتخب نمائندوں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو صرف کرکٹ کا پتا ہے سندھ کے آبادگاروں کے مسائل اور درد سے وہ لاعلم ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاڑ کےکاشتکا روں کو نومبر تک پانی مہیا کیا جائے تاکہ سندھ کے کاشتکار جو گندم کی فصل اگاتے ہیں ان کو تھوڑا سا پانی مل سکے تاکہ کاشتکار کو اپنا روزگار ملے اور ملکی معیشت مضبوط ہو۔

انہوں نے کہا کہ پانی کم ہونے کی وجہ سے چاول کی پیداوار بھی اس سال بہت ہی کم ہونے کا خدشہ ہے،سندھ میں دیگر صوبوں سے زیادہ چاول کی پیداوار ہوتی ہے۔ سندھ میں سالانہ 24 لاکھ ٹن چاول کی پیداوار ہوتی ہے، لاڑکانہ، دادو اور بدین میں سب سے زیادہ چاول کی پیداوار ہوتی ہے۔

محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ سندھ کے آبادگاروں کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے پر یشانی کا سامنا ہے۔وزیراعظم کو اس معاملے کا فوری جائزہ لینا چاہیے کہ اس وقت سندھ کو اپنے حصے کا پانی کیوں نہیں ملا۔

سندھ کی 40 فیصد زمین اس وقت پانی نہ ملنے کی وجہ سے خشک سالی کا شکار ہے، پنجاب وفاق کی سرپرستی میں سندھ کا پانی چوری کر رہا ہے اور سوچی سمجھی سازش کہ تحت وفاق سندھ کے زمینوں کو بنجر بنا رہا ہے، وفاق نے سندھ کواپنےحصے کا پانی نہیں دیا تو سندھ کی زراعت تباہ ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ پہلے ہی سندھ کے لاڑ میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے کاشتکاروں کو نقصان پہنچا ہے، سندھ کو اگر پورے حصے کا پانی فراہم نہ کیا گیا تو سندھ کے دیہی علاقوں کی فصلیں تباہ ہوجائیں گی، پہلے ہی تھر، کاچھو، کوہستان، میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے شدید قحط سالی کا شکار ہوجائیں گے،سندھ میں اگر یہی صورتحال رہی تو پھر سندھ کے دیہی علاقے قحط سالی کا شکار ہوجائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں