آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوم دفاع پاکستان کے موقع پر سندھ پولیس نے 1971ء سے اب تک اپنے شہداء کا ڈیٹا بیس تیار کرلیا ہے، جس میں 47سال کے دوران شہادتیں پانے والے سندھ پولیس کے 2111افسران اور اہلکاروں کا تمام ریکارڈ شامل ہے۔

سندھ پولیس کے اے آئی جی ویلفیئر غلام اظفر مہیسر کے مطابق ڈیٹابیس میں حملوں، پولیس مقابلوں اور دیگر کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے ہر عہدے کے ملازمین کے نام، یوم شہادت، جائے شہادت، ضلع اور دیگر معلومات یکجا کی گئی ہیں۔

اے آئی جی ویلفیئر غلام اظفر مہیسر کے مطابق سندھ پولیس کے 47سال میں شہید ہونے والوںمیں 4سپرنٹنڈنٹ، ایک اے ایس پی، 14ڈی ایس پی، 40انسپکٹر، 156سب انسپکٹرز، 196اے ایس آئیز، 357ہیڈ کانسٹیبلز اور 1339کانسٹبلز شامل ہیں۔

ڈیٹا بیس کے مطابق 1971ء سے اب تک دو لیڈیز پولیس کانسٹیبل اور دو دیگر خواتین اہلکار شہداء میں شامل ہیں، شہید ہونے والوں میں 787پولیس ملازمین کراچی رینج، 418لاڑکانہ، 286حیدرآباد، 176سکھر، 167شہید بینظیر آباد اور 31میرپور خاص پولیس رینج سے تعلق رکھتے تھے۔

شہید ہونے والوں میں 97پولیس ملازمین ٹریفک سیکشن، 54ایس آر پی، 33کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ، 23اسپیشل برانچ، 16کرائم برانچ، 11ٹیکنیکل اور ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ، 5آر آر ایف، 4ٹریننگ سیکشن جبکہ 3سینٹرل پولیس آفس میں تعینات تھے، شہدائے پولیس کی تفصیلات کو کتابی شکل بھی دی جا رہی ہے۔

اے آئی جی ویلفر غلام اظفر مہیسر کا کہنا ہے کہ اب تک کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق سندھ پولیس کا پہلا شہید پولیس کانسٹیبل نمبر 286لال خان ولد رحیم خان تھا، سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے لال خان نے 19دسمبر 1971ء کو فرائض کی انجام دہی کے دوران جام شہادت نوش کیا۔

اے آئی جی ویلفیئر کا یہ بھی کہنا ہے کہ سال 1971ء سے قبل کے سندھ پولیس کے شہداء کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہوسکا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں