آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے جن متمدن اور ترقی یافتہ ممالک کی ہم مثالیں دیتے ہیں ان کی ترقی کی بنیاد ان کا مضبوط، مربوط اور بااختیار بلدیاتی نظام ہے ۔ملکی دفاع، اقتصادیات، خارجہ پالیسی اور اسی نوعیت کے چند اہم ریاستی ادارے صوبائی و مرکزی حکومتوں کے تحت ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں عدلیہ، پولیس، صحت، تعلیم غرضیکہ وہ تمام شعبے بلدیاتی نمائندوں کی سرکردگی میں بہترین طور پر وہ امور سرانجام دے رہے ہیں، جن کا تعلق عوام سے ہے ہمارا المیہ یہ رہا کہ ہم نے بلدیاتی نظام کو ہمیشہ صرف نظر کیا اور اس کی وجہ یہ رہی کہ اسمبلیوں میں بیٹھے افراد نہ تو اپنے اختیارات کسی کو دینا چاہتے تھے اور نہ ہی وہ ترقیاتی فنڈز جو انہیں ملتے ہیں۔ یہ بات بھی شرمناک ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر حال ہی میں ہونے والے انتخابات کے علاوہ تمام تر بلدیاتی انتخابات آمرانہ ادوار میں ہوئے، موجودہ بلدیاتی ادارے بھی ابھی تک بے اختیار بلکہ بے وقعت دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کے وزیر بلدیات علیم خان نے موجودہ لاغر بلدیاتی نظام کی بجائے انتظامی و مالی اعتبار سے ایک بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے کا عندیہ دیا ہے۔دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں ترقیاتی فنڈز بلدیاتی اداروں کیلئے ہی مختص کئے جاتے ہیں، جس کا اصل مقصد گلی

کوچوں، سڑکوں، ٹریفک، آمدورفت، رسل و رسائل، پانی، گیس کی فراہمی اور شہر کی صفائی کا خصوصی خیال رکھتے ہوئے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ اس سےمقامی لوگوں کو دور دراز واقع دارالحکومت جانے کی بجائے اپنے علاقے میں ہی بلدیاتی نمائندے کے ذریعے اپنے مسائل حل کرانے میں مدد ملتی ہے، ارکان پارلیمان تک تو عام آدمی کی رسائی ہی ممکن نہیں ہوتی۔ قصہ مختصر بلدیاتی نظام گراس روٹ لیول پر تبدیلی کیلئے بہت اہم ہے اور عام آدمی ان اداروں تک رسائی باآسانی حاصل کر سکتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی جانب کبھی کوئی توجہ نہیں دی ہے۔حکومت پنجاب نے اس ضمن میں انتہائی اہم اور خوش آئند فیصلہ کیا ہے۔ امید ہے دوسرے صوبے بھی اس کی تقلید کریں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں