آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقتصادی مشیروں کا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان عوام کے سامنے معیشت کی سچی تصویر پیش کر کے اور اصل صورت حال شیئر کرنے کے بعد چند سال کے اندر معیشت کو بدل سکتے ہیںا س ضمن میں اقتصادی مشاورتی کونسل نے پی ٹی آئی حکومت کو مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت کی طرف سے2018-19کے بجٹ میں بڑی آمدن پر ٹیکس مراعات ختم کرنے سمیت سخت معاشی فیصلے کرنے کی سفارش کی ہے تاہم بجا طور پر کہا ہے کہ گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے کی بجائے زیادہ آمدنی والوں کی ٹیکس مراعات واپس لی جائیں۔ ایسا اقدام بلاشبہ عوامی مفاد میں ہے اور وزیراعظم کے اس ایجنڈے کی ترجمانی ہے کہ معاشی پالیسیوں میں نچلے اور متوسط طبقے کی سماجی اور معاشی ترقی اور ان کی ضروریات کو نظر انداز نہ کیا جائے، ملکی تاریخ میں یہ المیہ رہا ہے کہ یا تو موثر پالیسیاں نہیں بنیں یا بعض قباحتوں کے باعث یہ طبقات معاشی غیر ہمواری کا شکار بنتے چلے گئے۔بلا تفریق ٹیکسوں کے حصول کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا اور محض ٹیکس نیٹ میں آنے والے لوگوں پر ہی سارا بوجھ ڈالا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ معیشت کی موجودہ بدحالی کی بڑی وجہ ٹیکس اور گیس و بجلی چوری اور بدعنوانی ہے اقتصادی مشاورتی کونسل کے متذکرہ اجلاس میں وزیراعظم کو جو تجاویز دی گئیں ان میں معاشی ضروریات کا درست تخمینہ اور معیشت کو درکار21 سے 26ارب ڈالر کی رقم کا بندوبست کرنا شامل ہیں، یقیناً یہ صورت حال وزارت خزانہ کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ سابقہ حکومت نے 2018-19 کا بجٹ پیش کرتے وقت آنے والی حکومت کو اس پر نظر ثانی کی پیشکش کی تھی اب اگر اس کی ضرورت پڑتی ہے تو پہلی ترجیح بلاتفریق ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور اس کے حصول کے لئے بدعنوان عناصر کو راستے سے ہٹانا ہونی چاہئے۔ اس صورت میں مشاورتی کونسل کے اجلاس میں پیش کی گئی تجاویز بار آور ثابت ہو سکتی ہیں۔


اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں