آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں جب کبھی جہاز پر سفر کرتا ہوں بس یوں سمجھیں کہ ہر بار ایک احساس ندامت سے دوچار ہونا پڑتا ہے اس لئے نہیں کے جہاز پرسفر کی آسائش سب کو حاصل کیوں نہیں بلکہ اس لئے کہ سیکورٹی والے تلاشی بہت لیتے ہیں۔ تلاشی سے فراغت کے بعد میں ہر بار آئینے میں اپنی شکل دیکھتا ہوں اور یقین جانیں میں کچھ اتنا زیادہ مشکوک نہیں لگتا کہ سیکورٹی والوں کو اتنی کاوش کے ساتھ میری تلاشی لینے کی ضرورت محسوس ہو۔دوسرے مجھے اس ’’میٹل ڈی ٹیکٹر‘‘ کی بھی سمجھ نہیں آتی جو سیکورٹی والوں کے ہاتھ میں ہو تو خاموش ہوتا ہے جیسے ماں مری ہو، لیکن جب میرے جسم سے مس ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے میں نے جیب میں توپ نصب کی ہو مجھے اس جاسوس آلے پر یوں بھی غصہ زیادہ ہے کہ اس کا سارا غوغا بے بنیاد ہوتا ہے یعنی جیب میں میٹل کی کوئی چیز نہ بھی ہوتو اتنا واویلا کرتا ہے کہ کیبن کے پاس کھڑا گن مین اپنی پوزیشن سنبھال لیتا ہے ۔ایک دفعہ کچھ اسی قسم کی صورتحال میں سیکورٹی والے نے مجھے جیب سے سب کچھ نکالنے کو کہا جبکہ جیب میں صرف چند کاغذات تھے جو میرے کالم پر مشتمل تھے چنانچہ سچ پوچھیں تو مجھے یہ میٹل ڈی ٹیکٹر اور بھارت دونوں ہمزاد لگتے ہیں جو ہر وقت خطرے کی دہائی دینے میں لگے رہتے ہیں۔

چلیں اس جاسوس آلے کو تو دفعہ کریں کہ صرف شور ہی تو مچاتا ہے لیکن اس کی عدم موجودگی میں سیکورٹی والے جب ہاتھوں سے تلاشی لیتے ہیں اور پورے جسم کا کونہ کھدرا چھان مارتے ہیں اس وقت مختلف قسم کی ندامتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے ان میں سے کچھ ندامتوں کا ذکر نازیبا سا ہے مثلاً کئی دفعہ ان کے ہاتھ لگانے سے مجھے اتنی گدگدی محسوس ہوئی کہ میری ہنسی روکے نہیں رکتی تھی نیز بعض صورتیں ایسی ہیں کہ کبھی ہمیں ندامت ہوتی ہے اور کبھی بیچارے سیکورٹی والے نادم ہو کر رہ جاتے ہیں یعنی

آپ بھی شرمسار ہو،مجھ کو بھی شرمسار کر

والی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے سیکورٹی والوں کی دی ہوئی دوسری ندامتوں کے علاوہ ایک ندامت یہ ہے کہ وہ مجھ جیسے گناہگار کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہیں گو وہ تلاشی کے لئے ہوتا ہے مگر طبعی منکسر المزاجی کی وجہ سے میں شرمندہ سا محسوس کرتا ہوں حالانکہ اب تک مجھے اس کا عادی ہو جانا چاہئےتھا کیونکہ صدیوں سے میرے بزرگوں کے گھٹنے ازراہ عقیدت چھوئے جا رہے ہیں اور یوں مجھے سیکورٹی والوں کے اس عمل کو شک کی نگاہوں سے نہیں دیکھنا چاہئے ۔سیکورٹی والے تو اپنے اس ’’دھندے‘‘ میں اتنے فرض شناس واقع ہوئے ہیں کہ گزشتہ دنوں انہوں نے بغرض تلاشی ایک مولانا کی دستار اتارلی تھی جس پر مولانا ناراض ہوئے کیونکہ یہ دوسرا موقع تھا جب ان کی دستار اتاری گئی ویسے ممکن ہے دستار اتارتے وقت سیکورٹی والوں کا مقصد تلاشی لینا نہ ہو بلکہ ایسا کرتے وقت انہوں نے مولانا کو مخاطب کرکے بزبان حال یہ پڑھا ہو؎

آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو

لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں

اوپر کی سطور سے ممکن ہے قارئین کو یہ تاثر ملا ہو کہ میں اس جامہ تلاشی کے خلاف ہوں حاشاوکلاایسا کچھ نہیں میں مکمل طور پر اس جامہ تلاشی کے حق میں ہوں بلکہ میرے ایک دوست تو اس ضمن میں مجھ سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔ گزشتہ روز وہ میرے ساتھ ایئرپورٹ پہنچےتلاشی دینے کے بعد لائونج میں آئے تو سیکورٹی والوں سے اجازت لیکر دوبارہ بریفنگ ہال میں چلے گئے کہ میں اپنا بریف کیس وہاں بھول آیا ہوں۔واپسی پر ایک بار پھر تلاشی دی تھوڑی دیر بعد وہ پھر اجازت لیکر باہر گئے کہ ایک دوست کو باہر کھڑا کیا تھا اسے کہہ آئوں کہ وہ واپس چلا جائے اور یوں لائونج میں لوٹتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر تلاشی دی لیکن جب وہ تیسری دفعہ باہر جانے لگے تو میں نے انہیں روک لیا اور کہا ’’خان صاحب ، یہ کیوں آپ بہانے بہانے باہر جاتے ہیں اور پھر واپس آ جاتے ہیں ‘‘ کہنے لگے سچی بات بتائوں میں نے کہا ’’بتائو‘‘ بولے تلاشی دیتے ہوئے مزا بہت آتا ہے جسم میں سنسنی سی دوڑ جاتی ہے ۔ایسے لگتا ہے کہ کوئی ہلکے ہلکے مساج کر رہا ہو۔آئندہ وہ لنگوٹ بند ہو کر ہوائی سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا کہ میں اس جامہ تلاشی کے حق میں ہوں لیکن حق بات تو یہ ہے کہ صرف جامہ تلاشی کافی نہیں اور نیز یہ کہ جامہ تلاشی کا عمل صرف ایئرپورٹ کے مسافروں تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ اس کا دائرہ وسیع کرکے زندگی کے مختلف شعبوں تک پھیلا دینا چاہئے۔مثلاً کوئی ایسا طریقہ کار دریافت کرنا چاہئے کہ صاحبان اقتدار کے ذہن کی ’’جامہ تلاشی ‘‘ ہو سکے تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ ان کی باگ دوڑ جن ہاتھوں میں ہے وہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرنے والے ہیں ۔اسی طرح اپوزیشن کے رہنمائوں کی ذہنی جامہ تلاشی بھی بہت ضروری ہے تاکہ فرائی پین سے نکل کر چولہے میں گرنے کی نوبت نہ آئے۔اخباروں میں چھپنے والے اداریوں، تبصروں، کالموں اور خبروں کی جامہ تلاشی بھی ہونی چاہئے اور اس سے بھی زیادہ ضروری بعض ٹاک شوز کی بھی ،یقین جانیں کئی ’’تخریب کار‘‘ رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں گے۔ غرضیکہ یہ جامہ تلاشی زندگی کے ہر شعبے میں بہت ضروری ہے اس پر بہت دنگا فساد ہو گا لڑائی مار کٹائی کی نوبت بھی آسکتی ہے لیکن اس جامہ تلاشی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہر طرف سکون ہوگا اور اس کے نتیجے میں کوئی ’’ہائی جیکر‘‘ ہمارے ملک اور قوم کی سوچوں کو ہائی جیک نہیں کر سکے گا۔کوئی ’’عامل‘‘ ایک دفعہ یہ ’’عمل‘‘ کرکے تو دیکھے !

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں